• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مولانا قاری محمد سلمان عثمانی

در گزر کرنا، معاف کرنا اللہ کے ہاں انتہائی محبوب و مقبول ہے، اللہ عزوجل خود معاف کر نے کو پسند کرتا ہے، اس کا جو بندہ اس سے اپنے گناہوں کی معافی مانگتا ہے، نادم ہوتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اسے معاف فرماتا ہے، درگزر کرنا ،معاف کرنا ایک ایسا عمل ہے، جس سے انسان کا دل صاف ہوتا ہے، باہمی تعلق اور محبت میں اضافہ ہوتا ہے، جو کوئی بدلہ لینے کا دل میں سوچ بھی رہا ہوتا ہے در گزر کرنے سے وہ یہ عمل نہیں کرسکتا، یہی تعلیمات نبی رحمت شافع محشر حضورﷺنے ہمیں بتائیں، حضور پُرنورﷺ عفو و درگزر اور اعلیٰ و عمدہ اخلاق کے پیکر تھے، حتیٰ کہ آپ کے مخالفین آپﷺ پر ہر قسم کے مظالم کرتے، دکھ دیتے، لیکن نبی کریم ﷺ نے کبھی کسی سے بدلہ نہیں لیا، بلکہ ان کیلئے ہدایت کی دعا کی اور فرمایا کہ میں رحمۃ للعالمین بن کر آیا ہوں، رسول اللہ ﷺسے بڑھ کر کوئی بھی اس دنیا میں درگزر کر نے والا معاف کر نے والا نہیں دیکھا، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا:حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی: اے میرے رب، تیرے بندوں میں سے کون تیری بارگاہ میں زیادہ عزت والا ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: وہ بندہ جو بدلہ لینے پر قادر ہونے کے باوجود معاف کر دے۔(شعب الایمان)

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ﷺپر جو زیادتی بھی کی گئی، میں نے کبھی آپ کو اس زیادتی کا بدلہ لیتے ہوئے نہیں دیکھا بہ شرطیکہ اللہ کی حدود نہ پامال کی جائیں اور جب اللہ کی حد پامال کی جاتی تو آپؐ اس پر سب سے زیادہ غضب فرماتے اور آپؐ کو جب بھی دوچیزوں کا اختیار دیاگیا تو آپ ان میں سے آسان کو اختیار فرماتے بہ شرطیکہ وہ گناہ نہ ہو۔(جامع ترمذی) 

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب بھی حضورﷺ کو دوچیزوں کا اختیار دیا گیا تو آپ ان میں سے آسان کو اختیار فرماتے بہ شرطیکہ وہ گناہ نہ ہو، اگر وہ گناہ ہوتی تو آپ سب سے زیادہ اس سے دور رہتے، رسول اکرم ﷺ نے کبھی اپنی ذات کے بارے میں انتقام نہیں لیا، ہاں اگر اللہ کی حد پامال کی جاتیں تو آپؐ ان کا انتقام لیتے تھے (سنن ابوداؤد) حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اکرم ﷺ سے ملا، میں نے ابتداً آپ کا ہاتھ پکڑلیا اور میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺنے مجھے فضیلت والے اعمال بتائیے، آپ نے فرمایا: اے عقبہ، جوتم سے تعلق توڑے اس سے تعلق جوڑو ، جو تم کو محروم کرے، اسے عطا کرو، اور جو تم پر ظلم کرے اس سے اعراض کرو۔(مسند احمدبن حنبل)حضور نبی کریمﷺ کے اگلے چار دانت شہید ہو گئے۔ سر مبارک اور چہرہ انور بھی زخمی ہو گیا۔

یہ دیکھ کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے رنج واضطراب کی حالت میں گزارش کی یا رسول اللہﷺ! کاش آپؐ ان دشمنان دین پر بددعا کرتے۔ آپ ﷺنے فرمایا: ’’میں لعنت اور بددعا کے لیے نہیں بھیجا گیا۔ بلکہ لوگوں کو راہ حق کی طرف بلانے کے لیے بھیجا گیا ہوں۔‘‘حضور پاک ﷺکی ہجرت کے بعد مکے میں سخت قحط پڑا۔

نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ قریش چمڑا اور مردار کھانے لگے۔ ابوسفیان کو یہ بات معلوم تھی کہ حضور ﷺ کی دعا قبول ہوتی ہے، وہ مدینہ پہنچے اور آپﷺ سے ملتجی ہوئے کہ محمدﷺ! آپؐ کی قوم قحط سے ہلاک ہو رہی ہے، آپﷺ ان کے لیے دعا کیجیے۔

اس کے جواب میں آپ ﷺ نے یہ نہیں فرمایا کہ میں ان لوگوں کے حق میں کیوں دعا کروں جنہوں نے مجھے اور میرے ساتھیوں کو تکلیفیں پہنچائیں اور ہمیں اپنے گھروں سے نکالا؟ بلکہ آپ ﷺ نے فی الفور دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے اور آپ ﷺکی یہ دعا قبول ہوئی۔ آپ ﷺ نے فر ما یا: ’’میرے رب نے مجھے حکم دیا ہے کہ جو کوئی مجھ پر ظلم کرے میں اس کو قدرت انتقام کے باوجود معاف کردوں۔

جو مجھ سے قطع کرے، میں اس کو ملاؤں، جو مجھے محروم رکھے میں اس کو عطا کروں، غضب اور خوش نودی دونوں حالت میں حق گوئی کو شیوہ بناؤں‘‘۔اللہ کے نبی ؐ نے بہت ایذائیں جھیلیں، لیکن سخت ترین دن وہ تھا جب آپﷺ تبلیغ اسلام کے لیے طائف گئے۔ وہاں دعوت اسلام کے جواب میں لوگ سخت بد اخلاقی سے پیش آئے اور بازاری لفنگوں اوباشوں کو آپؐ کے پیچھے لگایا، یہ بدمعاش آ پؐ پر ٹوٹ پڑے اور ذات اقدسﷺ پر بے پناہ سنگ باری شروع کر دی۔

آپﷺ جدھر کا رخ کرتے یہ غول آپؐ کا پیچھا کرتا، لیکن جب چاروں طرف سے پتھر برس رہے ہوں تو کہاں تک آپ ﷺمحفوظ رہ سکتے تھے؟ اتنی سنگ باری ہوئی کہ جسم مبارک لہولہان ہو گیا اور نعلین مبارک خون آلود ہوگئے۔ آخر آپ ؐنے ایک باغ میں انگور کی بیلوں میں پناہ لی اور اوباشوں سے پیچھا چھڑایا۔ حضرت زیدؓ نے آپ ؐ کے جسم کا خون پونچھا۔ نبی رحمت ﷺ نے فرمایا: یہ میرے لیے سخت ترین دن تھا۔

میں باغ سے نکل کر غم زدہ آرہا تھا کہ اچانک بادل کے ایک ٹکڑے نے میرے اوپر سایہ کر دیا، میں نے جب نظر اٹھا کر دیکھا تو جبرئیل علیہ السلام تھے، جبرئیل ؑنے کہا جو کچھ آپ ﷺکے ساتھ ہوا ہے اللہ تعالیٰ نے اسے دیکھا او راگر آپؐ کی مرضی ہو تو طائف کے دونوں پہاڑوں کو ملا کر یہاں کی جملہ آبادی کو تہس نہس کر دیا جائے، میں نے کہا، نہیں! میں ان کی ہلاکت وبربادی نہیں چاہتا، بلکہ مجھے خدا کے فضل سے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان میں سے ایسے لوگ پیدا کرے گا جو خدائے واحد کی عبادت کریں گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں گے۔ عفو ودرگزر کا یہی نتیجہ نکلا کہ گیارہ سال بعد یہی طائف والے تھے جو آپﷺ کی عداوت سے دست بردار ہو کر آپ ﷺکے قدموں میں گر پڑے۔ یہ عفو ودرگزر کی اعلیٰ مثال ہے، جو ہمیں دنیا کی کسی بھی شخصیت میں نہیں ملتی۔

حضور کریم ﷺکا یہ جذبہ میدان جنگ میں بھی رہتا تھا۔ بدر کے میدان میں جنگ شروع ہونے سے پہلے مشرکین کی فوج کے آدمی اس حوض پر پانی پینے آتے، جو اسلامی لشکر کے قبضے میں تھا، مسلمانوں کی فوج نے یہ حوض اپنی ضرورت کے لیے تیار کیا تھا۔ صحابہ کرامؓ نے مشرکین کو پانی پینے سے روکنا چاہا تو آپ ﷺنے فرمایا:’’پانی پینے سے منع نہ کرو، پینے دو‘‘۔

ان چند واقعات سے ہمیں آپﷺ کے عفو ودرگزر اور دین کے دشمنوں کے ساتھ حسن سلوک کا پتہ چلتا ہے۔ آج بھی اگر ہم نبی اکرم ﷺکے ان سنہری اصولوں کو اپنانے کی کوشش کریں تو اس دنیا میں بھی کام یاب ہوں گے اور آخرت میں بھی رب ذوالجلال کے ہاں سرخرو ہوں گے۔

اقراء سے مزید