• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مسجد نبوی ؐمیں امام سے آگے صف میں نماز پڑھنے کا حکم

آپ کے مسائل اور ان کا حل

سوال: مسجدِ نبوی میں امام کی محاذات کی نشان دہی کے باوجود بعض نمازی امام سے آگے صفیں بناتے ہیں، خصوصاً قبلے کی جانب رہائش ہونے کی صورت میں نماز کے لیے آنے میں ذرا تاخیر ہو جائے تو راستے بند کردیے جاتے ہیں، اور لوگ امام سے آگے ہی امام کی اقتداء کی نیت کرکے نماز پڑھ لیتے ہیں۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا اس طرح اقتدا ءدرست ہوگی؟

جواب: واضح رہے کہ اقتداء صحیح ہونے کے لیے ایک شرط یہ بھی ہے کہ مقتدی امام سے پیچھے ہو، اگر مقتدی امام سے آگے ہو تو اقتداء صحیح نہیں ہوتی، اور جب اقتداء صحیح نہ ہو تو نماز بھی نہیں ہوتی۔ نیز یہ بھی ملحوظ رہے کہ اقتداء صحیح ہونے کا مذکورہ ضابطہ تمام مساجد میں نماز ادا کرنے کے لیے ہے۔

لہٰذا اگر کوئی شخص مسجد نبویؐ میں امام سے آگے صف میں کھڑے ہوکر امام کی اقتداء کرے تو اس کی اقتداء و نماز صحیح نہیں ہوگی۔ اس لیے مسجد نبوی میں بھی اس کا اہتمام کرنا چاہیے کہ مقتدی امام کے پیچھے ہو۔

(المبسوط للسرخسي، كتاب الصلوٰة، باب افتتاح الصلاة، ج:1، ص:43، ط:دار المعرفة - بيروت -بدائع الصّنائع، كتاب الصلوة، فصل شرائط أركان الصلاة، ج:1، ص:145، ط:دار الكتب العلمية - الفتاوىٰ الھندیة، كتاب الصلوة، الباب السابع فيما يفسد الصلاة وما يكره فيها، الفصل الأول فيما يفسدهاج؛1، ص:103، ط:دار الفكر)

اپنے دینی اور شرعی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔

iqra@banuri.edu.pk

اقراء سے مزید