• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نمازِ وتر کے بعد دو سجدوں کی فضیلت سے متعلق روایت کی تحقیق

آپ کے مسائل اور ان کا حل

سوال: میں ایک عمل کی صحت اور مستند ہونے کی تصدیق کرنا چاہتا ہوں۔ وہ عمل یہ ہے: حضور اکرمﷺ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے ارشاد فرمایا کہ جو مسلمان، مرد ہو یا عورت، نمازِ عشاء کے وتر کے بعد دو سجدے اس طرح کرے کہ ہر سجدے میں پانچ مرتبہ "سبّوح قّدوس ربّ الملائکۃ والرّوح" پڑھے اور دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھ کر ایک مرتبہ آیت الکرسی پڑھے، تو قسم ہے اس ذات کی (یعنی اللہ تعالیٰ کی) جس کے قبضۂ قدرت میں محمد ﷺکی جان ہے کہ اللہ تعالیٰ اس بندے کے وہاں سے اُٹھنے سے پہلے ہی مغفرت فرمائیں گے اور یک سو (100) حج اور ایک سو (100) عمروں کا ثواب دیں گے اور اس کی جانب ایک ہزار فرشتے بھیجیں گے، جو اس بندے کے لیے نیکیاں لکھنی شروع کردیں گے اور اس کے علاوہ سو (100) غلام آزاد کرنے کا ثواب بھی ملے گا اور اس کی ہر دعا بارگاہِ الٰہی میں قبول و مقبول ہوگی اور قیامت کے دن ساٹھ (60) اہلِ جہنم کے حق میں اس کی شفاعت بھی قبول ہوگی اور جس وقت یہ مذکورہ شخص مرے گا تو اللہ تعالیٰ اسے شہادت کے رتبے سے نوازے گا، اس کے علاوہ اور ابھی اجرو ثواب بیان کیا گیا ہے۔

جواب: مذکورہ روایت ’’الفتاویٰ التاتارخانيۃ، نزھۃ المجالس ومنتخب النفائس للصفوری اور دیگر کتابوں میں بغیر کسی سند کے مذکور ہے، اور کافی تلاش کے باوجود اس روایت کی کوئی سند نہیں مل سکی، شاید اسی بناء پر فقہائے کرام میں سے علّامہ حلبی اور علّامہ شامی رحمہما اللہ نے اسے موضوع قرار دیا ہے، لہٰذا جب تک کسی معتبر سندسے اس کا ثبوت نہ مل جائے، اسے نبی کریمﷺ کی طرف منسوب کرنے سے احتراز کیا جائے۔

(نزهة المجالس، باب مناقب فاطمة الزّهراء-رضي الله عنها-، 2/261، ط: مكتبة المشكاة - غنية المتملي، ص:617، ط: مكتبة رشيدية - ردّ المحتار، كتاب الصلاة، باب سجود التلاوة، 2/120، ط: سعيد)

اپنے دینی اور شرعی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔

iqra@banuri.edu.pk

اقراء سے مزید