• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تفہیم المسائل

سوال: میں کرائے کے مکان میں رہتا ہوں، مجھے میری والدہ کے ترکے سے حصہ ملا ہے، میری خواہش ہے کہ پہلے مکان خرید لیا جائے، لیکن میری اہلیہ کہتی ہیں کہ ہم پر حج فرض ہوگیا، پہلے حج کرلیں، جو پیسے بچیں گے، اس سے دیکھا جائے گا۔ واضح رہے کہ میری اہلیہ صاحبِ نصاب یا صاحبِ حیثیت نہیں ہیں، ہم پہلے مکان خریدیں یا حج کریں ،(عبداللہ ،کراچی)

جواب: عام فقہی مسئلہ تو یہی ہے کہ حاجاتِ اصلیہ میں مشغول رقم کی بنیاد پر حج فرض نہیں ہوگا، علّامہ زین الدین ابن نجیم حنفی لکھتے ہیں: ’’اور اگر اس کے پاس کوئی رہائش گاہ ہو اور نہ کوئی خادم اور اس کے پاس اتنا مال ہو کہ وہ اس (مکان یا خادم )کی قیمت کے برابر ہو اور اس کے بعد اتنا مال نہ بچتا ہو جس سے وہ حج کر سکے، تو اُس پر حج فرض نہیں ہے، کیونکہ یہ مال اس کی بنیادی ضرورت میں مشغول ہے، جیسا کہ ’’خلاصہ ‘‘میں اشارہ کیا گیا ہے،(البحرالرائق، جلد2،ص:549)‘‘۔

حج فرض ہونے یا فرضیت ساقط ہونے کے بارے میں فقہائے کرام نے تفصیل بیان فرمائی ہے: حج کے مہینوں میں صاحبِ استطاعت ہوا،تو حج فرض ہوگیا ،پس پہلے حج ادا کرے، لیکن اگر یہ رقم حج کے موقع پر نہیں ملی تھی، بلکہ موسم حج سے پہلے ملی تھی تو چوں کہ حج کا وقت آنے سے پہلے حج فرض نہیں ہوتا، اس لیے حج کا وقت آنے سے پہلے اگر اس رقم کو حاجتِ اصلیہ میں صرف کردیا یعنی مکان یا بنیادی ضرورت کی اشیاء میں سے کچھ خرید لیا تو یہ جائز ہے اور اس صورت میں حج فرض نہ ہونے کی وجہ سے گناہگار نہیں ہو گا، لیکن اگر حج کا وقت آگیا اور یہ رقم پاس موجود تھی تو حج فرض ہو جائے گا اور پھر اس رقم سے حج کرنے کے بجائے مکان خریدنا جائز نہیں ہوگا۔

شوال المکرم، ذوالقعدہ اور ذو الحجہ کے ابتدائی دس دن حج کے ایام ہیں، تنویر الابصار مع الدرالمختار میں ہے: ترجمہ:’’ اور حج کے مہینے شوال، ذوالقعدہ (قاف کے فتح اور کسرہ کے ساتھ) اور ذوالحجہ کے دسویں دن تک ہے،(ردّالمحتار علیٰ الدرالمختار ،جلد2، ص:471)‘‘۔

علامہ زین الدین ابن نجیم حنفی لکھتے ہیں: ترجمہ:’’بے شک(حج کی) شرائط میں سے ایک شرط وقت ہے، ہماری مراد یہ ہے کہ حج کے مہینوں میں اس کے پاس اتنا مال موجود ہو، جس سے استطاعت ثابت ہوتی ہے۔ حتّٰی کہ اگر اس نے استطاعت والا مال حج کے مہینوں سے پہلے حاصل کر لیا تو اُسے اختیار ہے کہ اسے کسی اور جگہ خرچ کر دے۔ اس عبارت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حج کا خرچہ اس کے ذمہ قرض کب ہوگا، جب وہ حج کے مہینوں میں(اتنی رقم کا ) مالک ہو اور حج نہ کرے، بعد میں فقیر ہو جائے۔

بہتر یہ ہے کہ یوں کہا جائے: اگر اس کے شہر والے لوگ فاصلے کی دوری کی وجہ سے حج کے مہینوں سے پہلے نکلتے ہیں تو جس وقت وہ نکلیں، اُس وقت اگر وہ صاحبِ استطاعت تھا یا اگر وہ حج کے مہینوں میں نکلتے ہیں تو حج کے مہینوں میں صاحبِ استطاعت تھا اور اس نے حج نہیں کیا یہاں تک کہ فقیر ہو گیا، تو اب اس پر حج کا خرچہ قرض ہو گیا۔ اگر اس نے حج کے مہینوں کے علاوہ میں مال حاصل کیا اور اسے کسی اور چیز پر خرچ کر دیا تو اس پر کچھ لازم نہیں،’’ فتح القدیر ‘‘میں اسی طرح ہے،(البحرالرائق ، جلد2،ص:550)‘‘۔

صدرالشریعہ علّامہ امجد علی اعظمی ؒ لکھتے ہیں: ’’ حج کے مہینوں میں تمام شرائط پائی جائیں اور اگر دور کا رہنے والا ہو تو جس وقت وہاں کے لوگ جاتے ہوں، اس وقت شرائط پائی جائیں اور اگر شرائط ایسے وقت پائی گئی ہوںکہ اب نہیں پہنچے گا، تو فرض نہ ہوا ،(بہارِ شریعت ،جلد اول،ص:1043)‘‘۔

فقہائے کرام نے بنیادی قاعدہ یہ بیان کیا ہے کہ حج کی فرضیت کے لیے حج کے مہینوں میں صاحبِ حیثیت ہونا شرط ہے، اگر حج کے مہینوں سے پہلے صاحبِ حیثیت ہوا اور حاجاتِ اصلیہ میں اس کا مال مشغول ہے تو وہ اس مال کو ان حاجات میں صرف کر سکتا ہے، اس پر حج فرض نہیں ہوگا۔

البتہ اگر حج کے مہینوں میں مالک تھا، حج کا وقت آیا، یہ حج کے لیے نہ گیا اور بعد میں فقیر ہو گیا تو اب بعد میں اس کو حج کرنا ہوگا۔ اگر کسی علاقے کے لوگ حج کے لیے پہلے ہی نکل جاتے ہیں، تو عرفاً وہ جن مہینوں میں حج کے لیے نکلتے ہیں، وہی اُن کے لیے نکلنے کا وقت ہے۔

خلاصۂ کلام یہ ہے کہ اگر 2027ء کی حج رجسٹریشن کا آغاز ہونے سے پہلے آپ مکان خرید لیتے ہیں تو آپ کے ذمے حج کی فرضیت ساقط ہوجائے گی ، لیکن اس کے باوجود اگر سفر کے دیگر اسباب مہیا ہوجائیں تو آپ حج کا ارادہ کرلیں، البتہ آپ کی اہلیہ پر حج فرض نہیں ہے۔

اللہ تعالیٰ کی ذات سے یہ امید ہے کہ حج کی برکت سے مکان بنانے کے لیے انتظامات مہیا فرما دیں گے، حدیث پاک میں ہے : ترجمہ:’’ پے در پے حج اور عمرہ ادا کیا کرو کیونکہ یہ دونوں فقر اور گناہوں کو اس طرح دور کر دیتے ہیں، جیسے بھٹی لوہے کے میل کو دور کر دیتی ہے، (سُنن نسائی:2630)‘‘۔

آج کل ہمارے ہاں پاکستان میں ایامِ حج کا زیادہ سے زیادہ دورانیہ شاید چالیس دن پر محیط ہے، اس لیے ہر شخص کے لیے یہی ایامِ حج اور موسمِ حج کہلائے گا، مگر 2027ء کے حج کی رجسٹریشن حکومت نے ابھی2026ء کے جولائی، اگست میں شروع کرادی ہے اور صرف وہی لوگ حج کرسکیں گے، جو بروقت رجسٹریشن کرائیں گے اور حکومت کی مقررہ تاریخ تک پہلی قسط جمع کرانی ہوگی، لہٰذا اہل پاکستان کے لیے اب یہی ایامِ حج کہلائیں گے ۔( واللہ اعلم بالصّواب)

اپنے مالی وتجارتی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔

darululoomnaeemia508@gmail.com

اقراء سے مزید