• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

متاثرہ خاندان کیخلاف مقدمہ، پولیس کی غیرجانبداری پر سوالات

کراچی(مطلوب حسین ) ڈیفنس میں بااثر خاتون کی جانب سے مکین خاتون پر تشدد کی فوٹیج سامنے آنے کے بعد پولیس کی جانب سے متاثرہ خاندان کے خلاف درج مقدمہ نےکراچی پولیس کے کردار اور غیرجانبداری پر سنگین سوالات کھڑے کردیئے ہیں، فوٹیج میں سادہ لباس شخص کو پولیس اہلکار کی گن لیکرسی سی ٹی وی کیمرہ توڑتے بھی دیکھا گیا ۔موقف جاننے کے لئے ڈی آئی جی سائوتھ اسد رضا اور ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان کو متعدد بار کال کی گئیں تاہم انکی جانب سے جواب موصول نہیں ہوا۔ ایس ایس پی کورنگی فدا حسین جانوری نے با اثر فیملی سے لاتعلقی کا اعلان کیا ہے ، درخشاں تھانہ کی حدود ڈیفنس چھوٹا کمرشل میں واقع عمارت میں 21 اگست کو پیش آنے والے ایک واقعے کی مختلف سی سی ٹی وی فوٹیجز سامنے آئیں جن کے مطابق رہائشی عمارت میں دو خواتین کے درمیان تلخ کلامی کے بعد صورتحال ہاتھا پائی تک پہنچ گئی، جبکہ موقع پر پولیس اہلکار بھی موجود تھے۔ویڈیو کے مطابق ایک خاتون نے پڑوسی خاتون کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا، جبکہ متاثرہ خاتون کے مطابق اسے چوٹیں آئیں۔ ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک بااثر خاتون پولیس اہلکاروں کی موجودگی میں پڑوسی خاتون پر حملہ آور ہوتی ہے اور ہاتھوں میں ورزش کے لئے استعمال کئے جانے والے وزن سے دوسری خاتون پر تشدد کرتی ہے، فوٹیج میں سادہ لباس شخص کو پولیس اہلکار سے اس کی گن لیکر متاثر فیملی کے دروزے پر لگا سی سی ٹی وی کیمرہ توڑتے بھی دیکھا گیا ہے، بااثر خاتون کی جانب سے مکین خاتون پر تشدد کی فوٹیج سامنے آنے کے بعد پولیس کی جانب سے متاثرہ خاندان کے خلاف درج مقدمہ نےکراچی پولیس کے کردار اور غیرجانبداری پر سنگین سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔ پولیس کی جانب سے متاثرہ خاندان پر مقدمہ درج کیا گیا جس میں چوری اور چھینا جھپٹی سمیت مختلف الزامات عائد کیے گئے تھے۔اس سلسلہ میں مقدمہ درج کرنے والے آفیسر اے ایس آئی آفتاب احمد منگی سے نمائندہ جنگ نے دریافت کیا کہ مسماۃ مریم علی رضا زوجہ علی رضا کی مدعیت میں درج مقدمہ الزام نمبر 26/578 آپ نے اپنے آفسران بالا کی ہدایت کے مطابق درج کی یا پھر آپ نے اپنے اختیار کے تحت مقدمہ درج کیا جس پر انہوں نے جواب دیاکہ خاتون ان کے پاس شکایت درج کرانے آئی تھی ،جب ان سے سوال کیا گیا کہ مقدمہ میں بزریعہ ڈاک درج کیا ہے تو انہوں نے فون کال کاٹ دی اور دوبارہ فون کرنے پر کال وصول نہیں کی ،ڈی ایس پی درخشاں یش راج نے بتایا ہے کہ با اثر خاتون کے ساتھ موقع پر موجود پولیس اہلکار انکی حدود کی پولیس نہیں ہے،واضح رہےکہ 21تاریخ کو ہونے والے واقعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج 28تاریخ کو منظر عام پر آتی ہے تاہم ابھی اس بات کا تعین نہیں ہوسکا کہ با اثر خاتون کے ساتھ موجود پولیس اہلکار کہاں سے آئے تھےاور کس کے کہنے پر آئے ،آیامقدمہ درج کرنے والے آفیسر کی جانب سے درخواست گزار کی شکایت پر بغیر تحقیقی کئے مقدمہ کیا گیا یا پھر کسی بڑے آفیسر کی فرمائش پریہ مقدمہ درج کیا گیا،آیاتفتیشی آفیسر کی جانب سے آفسران بالا کو کیا حقائق پیش کئے گئے اور اگر آفسران بالا کو تفتیشی آفیسر کی جانب سے تمام تر حقائق سے آگاہ کیا گیا ہے تو آفسران بالا کی جانب سے کسی ذمہ دار کے خلاف تاحال کارروائی عمل میں عمل میں کیوں نہیں لائی گئی۔موقف جاننے کے لئے ڈی آئی جی سائوتھ اسد رضا اور ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان کو متعدد بار کال کی گئیں تاہم انکی جانب سے جواب موصول نہیں ہوا۔

اہم خبریں سے مزید