• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی سے اسلام آباد تک 33 انتظامی یونٹس بنیں گے، ایک اور ترمیم ہوسکتی ہے، مصطفیٰ کمال، انیس قائم خانی

کراچی (اسٹاف رپورٹر) ایم کیو ایم کے سینئر رہنما انیس قائم خانی نے کہا ہے کہ کراچی سے اسلام آباد تک 33انتظامی یونٹس بنیں گے،پیپلز پارٹی والو سدھر جائو ورنہ بس،ہم کو دھمکی اور تڑی نہ دو، ہمیں پاکستان کیلئے دھمکی برداشت نہیں ہے، اگر یہ ظلم بند نہیں کیا تو ہم پھر تیار ہوجائو پی پی والو تمھیں بھاگنے نہیں دیں گے۔ سینئر رہنما اور وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ آئین میں 27ترامیم ہو چکیں تو ایک ترمیم اور ہوسکتی ہے، انتظامی یونٹس کے بعد ہم خود بلدیاتی ادارے ٹھیک کرلیں گے، ہمارا پانی چوری کرکے ٹینکر سے ہمیں ہی بیچا جاتا ہے۔وہ اتوار کو اورنگی ٹائون کے آفتاب گرائونڈ میں جلسے سے خطاب کررہے تھے۔ انیس قائم خانی نے مزید کہا کہ ہم بتائیں گے کہ پی پی پی کو کیسے ٹھیک کرنا ہے، ہم ان کو ٹھیک کر دیں گے، آج سے 15 سال پہلے جب تم ملیر ڈسٹرکٹ بنا رہے تھے، کراچی والے کہہ رہے تھے کہ کراچی کو تقسیم نہیں کرو، تم کیماڑی کو تقسیم کر رہے تھے اب نئے انتظامی یونٹ پر کیوں چیخ رہے ہو،آج ہم انتظامی یونٹس بنانے کا بول رہے ہیں تو تمھیں کیا مسئلہ ہے تم نے اس وقت کہا تھا کہ انتظامی مسئلہ ہے تو آج بھی انتظامی مسئلہ ہے ، انتظامی یونٹس بن کر رئیں گے پیپلز پارٹی والو دھمکی نہ دینا ہمیں ہم بانیان پاکستان کی اولاد ہیں اگر ملک کی بھلائی کیلئے کام ہو رہا ہے تو اسکی راہ میں رکاوٹ نہ بنو پاکستان کیلئے ہمیں تمھاری کوئی دھمکی برداشت نہیں۔ روڈ ، پانی ، اسکول ، صحت تم عوام کو نہ دو تمھیں کہا تھا کہ با اختیار بلدیاتی نظام دے دو لیکن تم نہیں مانے۔ ۔ سینئر رہنما اور وفاقی وزیر صحت سید مصطفی کمال نے مزید کہا کہ انتظامی یونٹس کے بعد ہم خود بلدیاتی اداروں کو ٹھیک اور مضبوط کر لیں گے،یہ بنانا کوئی غیر آئینی بات یا غداری نہیں ہمیں انتظامی یونٹس پر برا یا گالی بکنے والوں کاہم سے اختلاف نہیں، وہ ذوالفقار علی بھٹو سے اختلاف کرتا ہے،بھٹو کے بنائے گئے آئین میں 27 ترامیم ہوچکی ہیں تو ایک ترمیم اور ہوسکتی ہے۔ نئے صوبے بنانے کے لئے اسمبلی سے دو تہائی اکثریت چاہئے تو اس آئین میں 27 ترامیم ہوچکی ہیں اسکا مطلب ہے کہ آئین کی کتاب میں سقم ہے تو جب بھٹو کے بنائے گئے آئین میں 27 ترامیم ہوچکی ہیں تو ایک ترمیم اور ہوسکتی ہے، یہ حکومت ہمارے وجود کو ماننے کے لئے تیار نہیں وسائل دینا تو دور کی بات یہ ہمیں صیح گننے کو تیار نہیں اللہ کا شکر ہے ایم کیو ایم کا وجود ہے ، ہم نے غلط مردم شماری پر وفاق کا دروازہ کھٹکھٹایا،آج بھی ہم دو کڑور تین لاکھ کی گنتی کو صیح نہیں مانتے ، پیلے اسکول کا نظام تباہ ہوگیا صحت کا نظام ختم ہوگیا اگر جیب میں پیسے نہیں تو پرائیوٹ تعلیم یا صحت نہیں مل سکتی ،اسی فیصد کراچی کو پانی نہیں ملتا ہمارا پانی چوری کرکے ٹینکر سے ہمیں ہی بیچا جاتا ہے، ٹینکر کو کیا پانی افغانستان سے ملتا ہےہمارے شہری کوٹے کو بھی جعلی ڈومیسائل بنا کر نوکری بیچ دیتے ہیں۔

اہم خبریں سے مزید