• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میر رضا کیس، ابتدائی پوسٹ مارٹم کرنیوالے ایم ایل او سے سخت سوالات

کراچی (محمد منصف) میر رضا ہلاکت معاملے کی تحقیقات کیلئے سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں قائم جوڈیشل کمیشن کی پہلی سماعت میں پوسٹ مارٹم رپورٹ کے تضادات، شواہد کے تحفظ، پولیس کی ابتدائی کارروائی اور میر رضا کی موت کے حالات پر انتہائی اہم انکشافات سامنے آگئے۔کمیشن نے میر رضا کا ابتدائی پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر اسامہ شیخ سے سخت سوالات کرتے ہوئے پوچھا کہ میر رضا کی لاش کو 2 سے 3 دن پرانا قرار دینے کی بنیاد کیا تھی، جبکہ نوجوان 27جولائی کو لاپتا ہوا اور 29جولائی کو اس کی لاش مل گئی ،یہ غلطی ہے، غفلت ہےیا قتل کی سہولت کاری ،آپ بتائیں۔کمیشن نےمزیدکارروائی 3 ستمبرتک ملتوی کردی۔،جسٹس عمر سیال نے سوال کیا کہ ’’آپ کے پاس ایسا کوئی ثبوت نہیں کہ لاش کتنی پرانی ہے، آپ کو پولیس افسر وقوعہ کا وقت بتاتا ہے اور آپ رپورٹ بنا دیتے ہیں‘‘کمیشن نے ڈاکٹر اسامہ سے پوسٹ مارٹم رپورٹ میں جسم پر جلنے کے نشانات، فریکچر اور دیگر زخموں کا ذکر نہ ہونے پر بھی سخت استفسار کیا۔ڈاکٹر نے مؤقف اختیار کیا کہ جسم پر جلنے کے نشانات نہیں تھے بلکہ رنگ تبدیل ہوا تھا، جبکہ معائنے میں کوئی واضح فریکچر بھی نظر نہیں آیا۔جسٹس عمر سیال نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’کمیشن کے سامنے اسمارٹ بننے کی کوشش نہ کریں، اگر کوئی غلطی ہوئی ہے تو تسلیم کریں‘‘۔کمیشن نے ڈاکٹر اسامہ سے پوچھا کہ انہوں نے اب تک کتنے پوسٹ مارٹم کئے ہیں۔ڈاکٹر نے بتایا کہ تعداد حتمی طور پر یاد نہیں تاہم 100 سے زائد پوسٹ مارٹم کئےہوں گے۔جسٹس عمر سیال نے براہ راست سوال کیا کہ ’’سچ سچ بتائیں، میر رضا کا پوسٹ مارٹم آپ نے کیا تھا یا سویپر نے‘‘ڈاکٹر اسامہ نے جواب دیا کہ میر رضا کا پوسٹ مارٹم انہوں نے خود کیا تھا۔

اہم خبریں سے مزید