کراچی(سید محمد عسکری) وفاقی اردو یونیورسٹی کے طویل انتظامی و مالی بحران کا جائزہ لینے کیلئے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کا خصوصی اجلاس گورنر ہاؤس کراچی میں منعقد ہوا، جس میں نامکمل سینڈیکیٹ کے ذریعے کیے گئے موجودہ وائس چانسلر کے فیصلوں پر عملدرآمد روکنے، سینڈیکیٹ کا کورم مکمل کرنے اور یونیورسٹی سے متعلق ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی تحقیقاتی رپورٹس طلب کرنے کی ہدایات جاری کردی گئیں۔ اجلاس میں وفاقی اردو یونیورسٹی کے انتظامی بحران کا جائزہ لینے کیلئے سینیٹ کی سب کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ کمیٹی کی کنوینر نے کہا اگر سینڈیکیٹ کا کورم ہی مکمل نہیں تو انتہائی اہم نوعیت کے فیصلے کیسے کیے جاسکتے ہیں؟ اساتذہ نے کمیٹی کو ہراسانی، انتقامی کارروائیوں اور انتظامی امتیاز سے متعلق شکایات سے آگاہ کیا۔ انکا کہنا تھا کہ وائس چانسلر کیخلاف ہراسانی سے متعلق ایک عدالتی فیصلہ بھی آچکا ہے جبکہ متعدد مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں، اساتذہ نے الزام عائد کیا کہ اسلام آباد کیمپس کے ملازمین کو جولائی میں ہاؤس سیلنگ ادا کی گئی، جبکہ کراچی کیمپس کے ملازمین کو گزشتہ 28 ماہ سے ہاؤس سیلنگ نہیں دی گئی۔کمیٹی نے ہراسانی کے معاملات کو سنگین قرار دیتے ہوئے یونیورسٹی کے تمام اجلاسوں کی باقاعدہ ویڈیو ریکارڈنگ کرکے اسے محفوظ رکھنے کی بھی ہدایت کی۔ اجلاس کی صدارت کمیٹی کی کنوینر سینیٹر بشریٰ انجم بٹ نے کی۔ اجلاس میں سینیٹر اشرف علی جتوئی، سینیٹر سید مسرور احسن، سینیٹر سید وقار مہدی، سینیٹر سرمد علی، ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر نیاز احمد اختر، وفاقی اردو یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ضابطہ خان شینواری اور دیگر نے شرکت کی۔ جبکہ سینیٹر ڈاکٹر خالدہ اطیب نے آن لائن شرکت کی۔سینیٹر ڈاکٹر خالدہ اطیب نے کہا کہ وفاقی اردو یونیورسٹی کی گرانٹ میں 17 فیصد اضافہ کیا گیا ہے اسکے باوجود اساتذہ و ملازمین کی تنخواہوں، ہاؤس سیلنگ اور ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن کی ادائیگی نہیں کی جارہی۔کمیٹی کی کنوینر سینیٹر بشریٰ انجم بٹ نے کہا کہ یونیورسٹی کو خصوصی گرانٹ فراہم کرنے سے قبل اسکے اندرونی نظام کو درست کرنا ہوگا۔