• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

انتظامی یونٹ بن کر رہیں گے، کوئی فرد واحد یا سیاسی جماعت روک نہیں سکتی، وزیر داخلہ

لاہور (خبرنگار) وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ نئے انتظامی یونٹ بن کر رہیں گے کوئی نہیں روک سکتا، کوئی فرد واحد یا سیاسی جماعت یا نمائندے نہیں روک سکتے،نظام کو ری سیٹ کرنا ضروری ہے، جنوبی یا شمالی پنجاب بننے سے پنجابی کی شناخت ختم نہیں ہوگی اور سندھ کے نئے انتظامی یونٹس بننے سے سندھی کی شناخت کوئی نہیں چھین سکتا ، شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ صوبائی حکومتیں بادشاہتوں سے بھی بدتر انداز میں چل رہی ہیں، سعد رفیق نے کہا چھوٹے انتظامی یونٹس کا حامی ہوں، خالد مقبول صدیقی نے کہا اختیارات نچلی سطح تک منتقل کیے بغیر جمہوریت کے ثمرات عوام تک نہیں پہنچ سکتے۔ پاکستان پولیٹیکل سائنس کنسورشیم کے زیرِ اہتمام ’’پاکستان میں اختیارات کی منتقلی اور بہتر طرزِ حکمرانی‘‘ کے موضوع پر نیشنل پالیسی ڈائیلاگ یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی (یو ایم ٹی) میں منعقد ہوا جس میں وفاقی وزیر داخلہ و نارکوٹکس کنٹرول سید محسن رضا نقوی نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی، جبکہ سابق صوبائی وزیر و پاکستان پولیٹیکل سائنس کنسورشیم کے سرپرست ابراہیم حسن مراد، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق، وفاقی وزرا چوہدری سالک حسین اور ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، وزیر مملکت عون چوہدری، سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان، سینئر صحافی مجیب الرحمن شامی، حامد میر اور فہد حسین، معروف قانون دان احسن بھون، سابق صوبائی وزیر ایس ایم تنویر، سابق گورنر مخدوم سید احمد محمود اور صدر کسان اتحاد خالد کھوکھر سمیت دیگر اہم شخصیات نے خطاب کیا۔ سابق صوبائی وزیر اور پاکستان پولیٹیکل سائنس کنسورشیم کے سرپرست ابراہیم حسن مراد نے افتتاحی کلمات میں کہا کہ آزادی کے باوجود پاکستان میں اب بھی نوآبادیاتی طرز کا انتظامی نظام موجود ہے، جبکہ ملک کو درپیش تمام بڑے مسائل کا حل سیاسی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 80 سال گزرنے کے باوجود ہم گورننس کی خامیاں دور نہیں کر سکے، اس لیے شہریوں کو بنیادی ضروریات زندگی کی فراہمی کے لیے اختیارات کو مقامی سطح تک منتقل کرنا ہوگا۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان کے انتظامی نظام کو ری سیٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ ری سیٹ سے مراد کسی حکومت یا سیاسی جماعت کی تبدیلی نہیں بلکہ انتظامی نظام کا ازسرِنو جائزہ لینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر نئے اضلاع بن سکتے ہیں تو نئے صوبے کیوں نہیں بن سکتے؟ انہوں نے کہا کہ حکومتیں اور پالیسیاں بدلتی رہی ہیں، اصل سوال یہ ہے کہ عوام کو ڈیلیوری کتنی مل رہی ہے۔ 79 سال بعد بھی اگر شہریوں کو تعلیم، صحت، صاف پانی اور انصاف جیسی بنیادی سہولیات میسر نہیں تو اس پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سربراہ خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ پاکستان میں مکمل جمہوریت نہیں بلکہ جاگیردارانہ جمہوریت ہے، اختیارات نچلی سطح تک منتقل کیے بغیر جمہوریت کے ثمرات عوام تک نہیں پہنچ سکتے۔

اہم خبریں سے مزید