کراچی(مطلوب حسین)ڈیفنس چھوٹا بخاری میں خاتون اور اس کے اہل خانہ کو تشدد کا نشانہ بنانے پر ایس ایس پی فدا حسین جانوری کی ساس، سالی، سالے اور پولیس اہلکاروں پر مقدمہ درج کرلیا گیا ہے،واقعے کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد ایڈیشنل آئی جی کراچی کی جانب سے ڈی آئی جی سائوتھ کو دیئے گئے انکوائری احکامات کے بعد ڈی آئی جی سائوتھ نے مبینہ طور پر اپنی رپورٹ میں ایس ایس پی کے اہل خانہ اور پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی سفارش کی تھی، تفصیلات کے مطابق درخشاں تھانہ درج مسماۃ سیدہ نورالعین بنت سید نوید احسن کی مدعیت میں درج ہونے والے مقدمہ الزام نمبر 26/623 میں مدعیہ نے موقف اپنایا ہے کہ 20اگست 2026 کو رات قریب پونے 12 بجے ایک پولیس اہلکار نے انکے گھر کی گھنٹی بجائی اور کہا کہ میڈم مریم نیچے بلارہی ہیں اور کچھ دیر بعد مریم گالم گلوچ کرتی ہوئی اوپر آئی اور ہمارے دروازے کو لاتیں مارنے لگیں ،میں نے دروازہ کھولا رو اس نے مجھے بالوں سے پکڑ ا اور میرا موبائل فون چھین کر نیچے پھینک دیا اور اس دوران میری والدہ باہر آئیں تو ان کو بھی بالوں سے پکڑ ا اور زدو کوب کیا ،مریم نے اپنی بیٹی کے ساتھ دوبارہ نیچے آئیں اوراس کے ساتھ پولیس اہلکار بھی موجود تھےاور آتے ہی ہمارے فون چھیننے کی کوشش کی ،میرے بھائی کا فون نیچے گرنے پر مریم نے نے اٹھالیا،مریم کی بیٹی نے ہاتھ میں پکڑے ہوئے ڈمبل سے مارنا شروع کردیا ،ان لوگوں کے خوف سے اپنی جان بچاکر فلیٹ میں داخل ہوگئے،اور مدد گار 15 پر کال کی اس دوران فلیٹ کے باہر موجودپولیس اہلکاروں نے دروزے کے باہر لگے کیمرے توڑ دئےاور کچھ دیر بعد درخشاں تھانہ کی پولیس ہمارے گھر کا دروازہ توڑنے لگی اور دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوگئی ،اور میرا اور میرے بھائی کا موبائل فون لے لیا اور پولیس ہمیں تھانہ لے آئی ،مذکورہ واقعے پر پولیس نے تعزیرات پاکستان کی دفعہ 147/148/379/427/337 9(1) کے تحت مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کردی ہیں ،واضح رہے کہ مذکورہ واقعے کے بعد درخشاں پولیس نے متاثرہ خاندان پر ہی مقدمہ درج کرکے انہیں جیل بھجوادیا تھا۔