کراچی (مطلوب حسین ) پاکستان کے ریٹیل منظرنامے میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر عالمی آف پرائس ریٹیل ادارے منسٹری آف برانڈز (MOB) نے پاکستان میں اپنے پہلے اسٹور کا باضابطہ گرینڈ لانچ کردیا۔ کراچی کے علاقے ڈی ایچ اے فیز 6، بخاری کمرشل میں قائم تین منزلہ اسٹور میں صارفین کو معروف بین الاقوامی ہائی اسٹریٹ، پریمیم اور ڈیزائنر برانڈز کی مصنوعات اصل ریٹیل قیمتوں کے مقابلے میں 90 فیصد تک رعایت پر دستیاب ہوں گی۔ منسٹری آف برانڈز نے پاکستان میں اپنے پہلے اسٹور کے دروازے 12 اگست 2026 کو صارفین کے لئے کھول دیئے تھے، جبکہ اسٹور کی باضابطہ گرینڈ لانچ تقریب 5 ستمبر 2026 کو منعقد ہوئی، جس کے ذریعے کراچی میں برانڈ کے آف پرائس ریٹیل تجربے کا باضابطہ آغاز کیا گیا۔تین منزلوں پر محیط نئے ریٹیل ڈیسٹینیشن میں خواتین، مردوں اور بچوں کے ملبوسات، جوتے، ہینڈ بیگز اور مختلف ایکسیسریز سمیت بین الاقوامی برانڈز کی وسیع رینج پیش کی جارہی ہے۔ کمپنی کے مطابق اسٹور میں 2 ہزار سے زائد بین الاقوامی برانڈ ز کی مصنوعات شامل ہیں، جن میں Ferragamo، Ralph Lauren، Farm Rio، Tory Burch، Rag & Bone، On Running، HOKA، Air Jordan، Michael Kors، Karl Lagerfeld اور Calvin Klein سمیت متعدد معروف برانڈز شامل ہیں۔ منسٹری آف برانڈز کا کاروباری ماڈل روایتی ریٹیل سے مختلف ہے۔ کمپنی عالمی سطح پر قائم آف پرائس ریٹیل ماڈل کے تحت امریکا اور یورپ کے بڑے ریٹیلرز اور ڈپارٹمنٹ اسٹورز کے ساتھ سرکاری پروگرامز کے ذریعے انوینٹری تک رسائی حاصل کرتی ہے، جس کے نتیجے میں صارفین کو مستند بین الاقوامی برانڈز کی مصنوعات مقامی سطح پر نمایاں کم قیمتوں پر خریدنے کا موقع ملتا ہے۔کمپنی کے مطابق MOB میں مصنوعات کا انتخاب مستقل بنیادوں پر تبدیل ہوتا رہتا ہے اور نئی مصنوعات روزانہ اسٹور کا حصہ بنتی ہیں، جبکہ کسی ایک ڈیزائن یا اسٹائل کی مقدار محدود ہوتی ہے۔ اس منفرد طریقہ کار کے باعث صارفین کو ہر مرتبہ اسٹور آنے پر مختلف مصنوعات اور برانڈز دریافت کرنے کا موقع ملتا ہے۔آف پرائس ریٹیل کا یہ تصور پاکستانی صارفین کے لئے خاص اہمیت رکھتا ہے جو بین الاقوامی ہائی اسٹریٹ اور پریمیم برانڈز کی خریداری کے لئے بیرون ملک سفر کرتے رہے ہیں۔ MOB کا مقصد ایسے صارفین کو عالمی برانڈز، مستند مصنوعات اور کم قیمتوں کا تجربہ پاکستان ہی میں فراہم کرنا ہے۔منسٹری آف برانڈز کی ڈائریکٹر نور منڈوی والا نے کہا کہ ان کا ہمیشہ سے یہ یقین رہا ہے کہ اسٹائل ذاتی پسند کا معاملہ ہونا چاہیے، محض مراعات یافتہ طبقے تک محدود نہیں۔ ان کے مطابق MOB کا تصور اسی سوچ سے سامنے آیا کہ بہترین فیشن کی تلاش کے لئے کسی صارف کو ہوائی سفر، غیر ملکی کرنسی یا بہت زیادہ بجٹ کی ضرورت نہ ہو۔