تہران (اے ایف پی /نیوزڈیسک )گزشتہ ہفتے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی تعداد میں 28 فیصد کمی ہوئی اور یہ تعداد کم ہو کر 77 بحری جہاز رہ گئی جبکہ حوثی جنگجوؤں نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب نے یمن کے مختلف علاقوں کو فضائی حملوں کا نشانہ بنایا ہے ‘فنانشل ٹائمز کے مطابق جازان میں سعودی آرامکو کی آئل ریفائنری کو نشانہ بنایاگیا ہے‘قطرنے واضح کیا ہے کہخلیجی ممالک اپنی سلامتی کے لیے صرف امریکا پر انحصار نہیں کرسکتے ‘خود انحصاری ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے‘ہرمز کا بحران جاری رہا تو دنیا کو صنعتی تباہی کا سامنا ہو سکتا ہے۔اماراتی صدرکے مشیر انور قرقاش کاکہنا ہے کہ تہران کے ساتھ اعتماد بحال کرنا مشکل لیکن ضروری ہے‘ایران کے ساتھ رابطہ رکھنا جغرافیائی مجبوری اور علاقائی ضرورت ہے۔ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کو مخاطب کرتے ہوئے متنبہکیا ہے کہ اگرہماری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تو تہران امریکی اہداف کو بھی نشانہ بنائے گا‘ہم پہلے پہلے بھی یہ ثابت کر چکے ہیں‘ان امریکی اڈوں سے پوچھ لیں جو اب قابلِ استعمال نہیں رہےجبکہ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے جنوبی کوریا کوخطے میں مداخلت پر خبردارکرتے ہوئے کہاہے کہ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں کارروائیوں میں شرکت کے سنگین نتائج ہوں گے‘ہرمز پرایران عمان مذاکرات حتمی مرحلے میں پہنچ گئے ہیں۔