• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سندھ یونائیٹڈ لائرز فورم کا سیمینار، نئے وفاقی سماجی معاہدے کا مطالبہ

کراچی(نیوز ڈیسک) سندھ یونائیٹڈ لائرز فورم کے زیر اہتمام سندھ کو درپیش آئینی، معاشی اور آبی چیلنجز کے عنوان سے سٹی کورٹ کراچی میں منعقدہ سیمینار میں وکلاء، قانون دانوں، سیاسی رہنماؤں، معاشی ماہرین نے پاکستان میں حقیقی آئینی وفاقیت کے نفاذ، صوبائی خودمختاری کے مؤثر نفاذ، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور نئے وفاقی سماجی معاہدے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ کی تاریخی اور علاقائی وحدت کو وفاقِ پاکستان کے اندر محفوظ رکھا جائے، سندھ کی تقسیم کی بجائے بہتر حکمرانی، بااختیار بلدیاتی نظام اور آئینی اصلاحات کے ذریعے عوامی مسائل حل کئے جائیں۔ سیمینار میں منظور کی گئی قرارداد میں وفاق کی تمام اکائیوں کے درمیان آئینی برابری، سندھ سمیت تمام تاریخی و ثقافتی شناختوں کے آئینی تحفظ، صوبائی خودمختاری کے بامعنی نفاذ، مالی و قدرتی وسائل کی منصفانہ تقسیم اور جمہوری و بااختیار مقامی حکومتوں کے نظام کو نئے وفاقی سماجی معاہدے کے بنیادی اصول قرار دیا گیا۔ قرارداد میں سندھ کی زرعی، رہائشی، ماحولیاتی اور ثقافتی اہمیت کی حامل زمین کے تحفظ، بڑے پیمانے پر زرعی زمین کی منتقلی اور کارپوریٹ فارمنگ منصوبوں کی مخالفت کی گئی جو مقامی کسانوں، مزارعین اور آبادیوں کے حقوق کو متاثر کریں، جبکہ دریائے سندھ، اس کے پورے طاس اور ڈیلٹا کے تحفظ، سندھ کے آبی حصے اور ماحولیاتی بہاؤ کو یقینی بنانے اور ایسے نئے کینالز اور آبی منصوبوں پر نظرثانی کا مطالبہ کیا گیا جو سندھ کے آبی حقوق کو متاثر کرتے ہوں۔ قرارداد میں کہا گیا کہ طرزِ حکمرانی کے مسائل کا حل تقسیم نہیں بلکہ شفاف، جواب دہ اور بااختیار حکمرانی ہے۔سیمینار میں وکلاء اور قانون دانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی جبکہ سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے صدر سید زین شاہ، معاشی ماہر ڈاکٹر قیصر بنگالی، ممبر پاکستان بار کونسل بیرسٹر صلاحدین احمد، سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر محمد حسیب جمالی، کراچی بار ایسوسی ایشن کے صدر عامر نواز وڑائچ، سندھ یونائیٹڈ لائرز فورم کے صدر فہیم ضیاء، ایڈوکیٹ خواجہ نوید امین سمیت وکلاء، سیاسی و سماجی شخصیات اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔

ملک بھر سے سے مزید