اسلام آباد(خصوصی نامہ نگار) تھانہ شالیمار کے علاقے سیکٹر ای الیون ٹو کے ایک پلازہ میں رات گئے جاری مبینہ پارٹی کے معاملے نے پولیس کی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ شہریوں کی جانب سے ون فائیو پر اطلاع دیے جانے کے باوجود مبینہ طور پر کارروائی کے بجائے پارٹی میں موجود افراد کو پہلے ہی خبردار کر دیا گیا۔ذرائع کے مطابق ایک پلازہ میں بڑی تعداد میں لڑکے اور لڑکیاں موجود تھے جبکہ مبینہ طور پر نشہ آور اشیا کے استعمال کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں۔ صورتحال پر شہریوں نے پولیس ایمرجنسی ون فائیو پر کال کرکے اطلاع دی۔تاہم ذرائع کا دعویٰ ہے کہ متعلقہ تھانے کی ٹیم موقع پر پہنچنے سے قبل ہی پارٹی میں موجود افراد کو مبینہ طور پر اطلاع مل گئی، جس کے بعد بڑی تعداد میں لوگ وہاں سے نکل گئے۔اہم سوال یہ ہے کہ اگر شہریوں کی شکایت پر پولیس ٹیم روانہ ہوئی تھی تو پارٹی میں موجود افراد کو پولیس کے پہنچنے سے پہلے اطلاع کس نے دی؟ ذرائع کے مطابق پارٹی ختم ہونے اور افراد کے نکل جانے کے بعد پولیس ٹیم موقع پر پہنچی، جبکہ اس پورے معاملے سے متعلق پلازہ اور اطراف میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی ریکارڈنگ مبینہ طور پر موجود ہے، جس سے یہ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ پولیس کی آمد سے پہلے وہاں سے کون کون لوگ نکلے اور کس وقت نکلے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر ون فائیو پر کی جانے والی کال کے بعد بھی پولیس کارروائی سے پہلے مبینہ طور پر پارٹی والوں کو خبر ہو جائے تو یہ محض ایک پارٹی کا معاملہ نہیں بلکہ پولیس کے خفیہ اطلاعاتی نظام اور شہریوں کی شکایات کے تحفظ پر بھی سنگین سوالیہ نشان ہے۔