• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

14 نومولود بچوں کی المناک موت انتظامی ناکامی قرار، عملے کیلئے کلین چٹ، سانحہ پمز کی تحقیقاتی رپورٹ جاری

اسلام آباد (عاطف شیرازی )سانحہ پمز کی تحقیقاتی رپورٹ جاری کردی گئی ، 14نومولود بچوں کی المناک موت انتظامی ناکامی قرار، عملےکو کلین چٹ دے دی گئی ،رپورٹ کے مطابق فرنٹ لائن عملے نے بچوں کو بے یارومددگار نہیںچھوڑا، چارج نرس نسرین اختر، سکیورٹی گارڈ ماریہ سلیم اور اسٹاف نرس رضیہ نورین نے چند لمحوں میں بچوں کو بچانے کی کارروائی کی،نرس رضیہ نورین نے ایک نومولود کو بچایا اور دوبارہ نرسری میں داخل ہونے کی کوشش کی،آگ لگنے کا سب سے زیادہ ممکنہ مقام اے سی یونٹ نمبر 1کے قریب موجود اے سی یونٹ نمبر 2کی بجلی کی کیبل تھی،رپورٹ میں کہا گیا کہ 10 بستروں کے یونٹ میں 15 انتہائی نازک نومولود زیر علاج تھے، متعدد آکسیجن پر تھے، صرف 2 ڈاکٹر اور 2 نرسیں موجود تھیں، انخلا کے وسائل محدود تھے، بچوں کے انخلا کیلئے ایس او پیز، فائر ڈیٹیکشن، الارم یا اسپرنکلر سسٹم کا کوئی ثبوت نہیں ملا، اے سی تنصیب میں غفلت، ہنگامی راستے میں رکاوٹ، تنبیہ کے باوجود کارروائی میں ناکامی اور امداد طلب کرنے میں تاخیر وجوہات میں شامل۔تفصیلات کے مطابق سانحہ پمز کی تحقیقاتی رپورٹ جاری کردی گئی ۔پمز نرسری میں آتشزدگی کی سب سے زیادہ ممکنہ وجہ برقی خرابی تھی، وزیراعظم کی جانب سے 26 اگست کے پمز نرسری آتشزدگی کے واقعہ کی تحقیق کے لیے تشکیل دی گئی انکوائری کمیٹی کی مکمل رپورٹ جاری کر دی گئی ہے۔ یہ رپورٹ وزیراعظم محمد شہباز شریف کے حکم پر جاری کی گئی۔انکوائری رپورٹ کے مطابق پمز کی ایم سی ایچ نرسری میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں 15 نومولود بچوں میں سے 14 جاں بحق جبکہ ایک محفوظ رہا۔ تحقیقاتی کمیٹی نے آگ لگنے کی وجوہات ہی نہیں بلکہ سنگین نتائج، ہنگامی ردعمل، انخلا کے انتظامات اور انفرادی و ادارہ جاتی ذمہ داری کا بھی جائزہ لیا۔ کمیٹی کی سفارشات 52 نکاتی منظم تحقیقات کی بنیاد پر مرتب کی گئیں جس میں فرانزک شواہد، سی سی ٹی وی، کال ریکارڈز اور انجینئرنگ دستاویزات کا جائزہ لیا گیا۔سی سی ٹی وی سے تصدیق ہوئی کہ تقریباً 6:38:15 بجے آگ واضح طور پر بھڑک چکی تھی۔ چارج نرس نسرین اختر، سکیورٹی گارڈ ماریہ سلیم اور اسٹاف نرس رضیہ نورین نے چند لمحوں میں بچوں کو بچانے کی کارروائی کی۔ نرس رضیہ نورین نے ایک نومولود کو بچایا اور دوبارہ نرسری میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ ڈاکٹر محمد عبدالرحمان بھی موقع پر موجود رہے۔

اہم خبریں سے مزید