کراچی( سید محمد عسکری) وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے لیاقت میڈیکل یونیورسٹی اینڈ ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر ڈاکٹر عزیز اللہ اجن کی دوسری چار سالہ مدت کے لیے وائس چانسلر مقرر کرنے کی منظوری دیدی ہے جب کہ بینظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کی وائس چانسلر اور سابق وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کی بیٹی ڈاکٹر نصرت شاہ کو دوسری مدت کے لیے وائس چانسلر مقرر کیا جارہا ہے۔ ادہر اللّٰہ بخش یونیورسٹی آف آرٹ ڈیزائن اینڈ ہیرٹیج جامشورو کی وائس چانسلر ڈاکٹر اربیلا بھٹو اور اروڑ یونیورسٹی آف آرٹ، آرکیٹیکچر، ڈیزائن اینڈ کلچر کے وائس چانسلر ڈاکٹر زاہد کھنڈ کو مزید چار برس کی توسیع نہیں دی گئی اور ان دو جامعات کے وائس چانسلر کے عہدوں لیے اشتہار دینے کی ہدایت کی گئی ہے تاہم یہ بھی کہا گیا ہے اگر دونوں جامعات میں اشتہار کے بعد بھی اہل وائس چانسلر نہیں مل پاتا تو ان دونوں کی مزید چار برس کے لیے وائس چانسلر مقرر کردیا جائے۔ زرائع کے مطابق اروڑ یونیورسٹی کے وی سی کے اشتہار لیے محکمہ اطلاعات کو خط بھی جاری کردیا گیا تھا تاہم پھر اسے ایک اور خط کے زریعے روک بھی دیا گیا۔ یاد رہے کہ جامعہ کراچی میں وائس چانسلر ڈاکٹر خالد عراقی کو یہ سہولت نہیں دی گئی کہ وہ اہل وائس چانسلر ملنے تک وہ وائس چانسلر کے عہدے پر رہتے اور 28 جولائی کو ان کی مدت ختم ہوتے ہی ان کی جگہ ایسے این ای ڈی کے وائس چانسلر ڈاکٹر طفیل کو جامعہ کراچی کے وی سی کا اضافی چارج دے دیا گیا اور اس وقت سے لے کر اب تک سندھ کی سب سے بڑی یونیورسٹی ایڈھاک ازم کا شکار ہے اور ڈاکٹر طفیل روزمرہ امور کے فیصلے کرنے کے بجائے ایسے فیصلے کررہے ہیں جو انھوں نے این ای ڈی میں بھی کبھی نہیں کئے۔