• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی (بابر علی اعوان) سرجانی ٹاؤن کی 11 سالہ بچی سدرا کے پھیپھڑے میں سوئی پھنسنے کے بعد علاج کے لیے پانچ سرکاری اسپتالوں کے چکر لگانے کا معاملہ سامنے آیا ہے، والد کے مطابق خون کی الٹیاں ہونے پر بچی کو پہلے نیو کراچی اسپتال لے جایا گیا، جہاں سے عباسی شہید اسپتال، پھر جناح اسپتال، قومی ادارہ برائے صحت اطفال (این آئی سی ایچ) اور بعدازاں سول اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم کئی روز تک مختلف اسپتالوں میں زیرعلاج رہنے کے باوجود بچی کا مسئلہ حل نہ ہوسکا۔ جنگ سے گفتگو کرتے ہوئے بچی کے والد اشرف علی نے بتایا کہ بیٹی کو خون کی الٹیاں ہوئیں تو فوری طور پر اسے سندھ گورنمنٹ نیو کراچی اسپتال لے کر گئے، جہاں ایکسرے کرایا گیا تو پھیپھڑے میں سوئی کی موجودگی ظاہر ہوئی۔ والد کے مطابق نیو کراچی اسپتال سے بچی کو عباسی شہید اسپتال ریفر کیا گیا، جہاں سے جناح اسپتال جانے کا کہا گیا۔ جناح اسپتال پہنچنے کے بعد انہیں مختلف عمارتوں کے درمیان بھیجا جاتا رہا اور کئی جگہوں پر لے جانے کے بعد بتایا گیا کہ بچی کو این آئی سی ایچ لے جائیں۔ والد کے مطابق وہ بچی کو این آئی سی ایچ لے کر پہنچے، جہاں تقریباً چھ گھنٹے انتظار کے بعد وہ تھک ہار کر بچی کو واپس لے گئے اور بعدازاں سول اسپتال منتقل کیا، سول اسپتال میں بچی کو تقریباً چھ روز داخل رکھا گیا تاہم بعدازاں انہیں کہا گیا کہ بچی کا علاج وہاں ممکن نہیں اور اسے کسی دوسرے اسپتال لے جائیں۔

اہم خبریں سے مزید