• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

محمد اکرم خان ایڈیٹر، جنگ فورم 

 سرسو نے 15 لاکھ خواتین کو منظم کیا ہے لیکن ہمارے پاس ان سب کے لیے پیسے نہیں ہیں ہم نے تین لاکھ خواتین کو پیسے دیئے جن میں سے 99 فیصد خواتین نے پیسے واپس بھی کئے پھر کئی خواتین نے ایک سے زائد سات مرتبہ تک قرض لیا وہ قرض لیتی رہیں اور واپس کرتی رہیں۔

ضرورت اس بات کی ہے یہ تین لاکھ خواتین اس وقت غربت سے نکلیں گی جب انہیں بڑے لون ملیں گے چھوٹے قرض کا منافع بھی کم ہوتا ہے زیادہ قرض لیں گی تو منافع بھی زیادہ ہوگا۔

سرسو کے پراجیکٹ میں کراچی کو بھی شامل کریں وہاں مچھر کالونی جیسی غریب بستیاں بھی ہیں، ہم نے بعض تحفظات کے بعد کراچی میں بھی پروگرام چلانے کا سوچا ہے، ہم نے حکومت سے کہا ہے کہ آپ کئی اداروں کو گرانٹ دیتے ہیں  ہمیں ایک ارب روپے گرانٹ دے کر دیکھیں اور پھر ہم سے نتائج لیں۔

ہماری کوشش ہے کہ تین لاکھ خواتین کو غربت سے نکالا جائے پھر صوبے کے پڑھے لکھے ہنرمند شہری علاقوں کے پڑھے لکھے نوجوانوں کےلیے کچھ کریں وہ اپنے پیروں پر کھڑا ہونا چاہتے ہیں انہیں کاروبار کے لئے مالی مدد کی ضرورت ہے ۔وہ نوجوان اگر بینک جائے گا تو پھنس جائے گا سرسو کا لون آسان ہوتا ہے۔ بینک لون دینے کے بعد چیک نہیں رکھتا لیکن سرسو تو لون دینے کے بعد مسلسل چیک رکھتا ہے وہ ریگولر بنیادوں پر وہاں جاکر اپنے لون کا استعمال دیکھتا ہے ،اس طرح نوجوانوں میں بھی سیکھنے کاعمل جاری رہتا ہے۔

سرسو جیسے پراجیکٹ کے لیے سیاسی قیادت کو مزید دلچسپی دکھانی پڑے گی وہ کہے گی تو بیوروکریسی کام کرے گی ورنہ کچھ نہیں ہوگا، بی آئی ایس پی بہت اچھا پروگرام ہے لیکن ایس آر ایس او کا پروگرام پائیدار ہے ہمارا پراجیکٹ لوگوں کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کی کوشش ہے یہ پیسہ ضائع نہیں ہوگا۔ ہم ان پیسوں کی سرمایہ کاری کرتے ہیں تاکہ مستقبل میں رکاوٹ نہ آئے۔

بلاول بھٹو ایس آر ایس او کو پسند کرتے ہیں انہوں نے ہمارے کام کی تعریف کی ہے۔ کوشش ہے کہ سندھ حکومت اس کے فنڈز میں اضافہ کرے، خواتین کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے انہیں خود کفالت بنانے کے لئے چھوٹے قرض کی اسکیم بہت سود مند ثابت ہو رہی ہے، اس میں سود بھی نہیں دینا ہوتا اور ادائی میں بھی وقت کی سخت پابندی نہیں ہے۔

شہر بانو کوثر، کبیرخان، خیر پور سے تعلق رکھتی ہیں، ان پڑھ ہیں، شوہر ڈرائیور ہے، چار بچے ہیں، تین بیٹیاں ایک بیٹا، خود نہیں پڑھ سکیں لیکن بچوں کو اعلی تعلیم یافتہ دیکھنا چاہتی ہیں جس کے لئے وسائل نہیں تھے، گزر بسر ہی مشکل سے ہو رہی تھی، 2008 میں انہوں نے سرسو کا سنا جس کی ٹیم ان کے گاؤں آئی تھی، ٹیم نے خواتین کے چھوٹے کاروبار کے لئے چھوٹے قرضوں کی فراہمی کی اسکیم دی جس کا مقصد ان کی گھریلو مالی حالت کو کچھ بہتر بنانا تھا، قرض بلا سود تھا واپسی بھی آسان رکھی گئی تھی۔

انہوں نے ہمت کی اور قرض سے کاروبار کے لئے تیار ہو گئیں اور 15000 قرض لے کر کپڑے فروخت کرنے کا کام شروع کیا، سرسو کی معاونت سے کاروبار کامیاب رہا قرض بھی واپس کیا اور مالی حالت بھی پہلے سے بہتر کر لی، مزید ہمت کی دوبارہ قرض لیا، حوصلہ اور اعتماد بڑھا تو زیادہ قرض لیا اور منڈی سے کیلے لے کر فروخت کرنے کا کام شروع کیا، گھر سے نکلیں تو دنیا دیکھی کاروبار سمجھا حوصلہ پکڑا اور کیلے کے تنوں سے اشیاء بنانا شروع کیں، کیلے کے تنے ضائع ہوتے تھے جلائے جاتے تھے، ماحول کو نقصان پہنچتا تھا۔

انہوں نے اسے استعمال سے کارآمد بنایا، تنے سے دھاگا تیار کیا جو کھڈی پر کپڑا بنانے کے کام آتا انہوں نے اپنا تیار کردہ دھاگا فراہم کرنا شروع کیا، کیلے کے تنوں سے ہی انہوں نے رسیاں بنانا شروع کیں، اچار کا کاروبار شروع کیا، بچوں اور بوڑھوں کے لئے کیلے سے پاوڈر تیار کیا جو خوراک کے طور پر استعمال ہوتا ہے، خواتین کے لئے لنگن بھی بناتی ہیں، سرسو نے اس کاروبار میں ان کی تربیت کی انہیں دھاگا بنانے کی مشین فراہم کی، انہیں ورکشاپ کے لئے اسلام آباد لے گئے، زیادہ تر آرڈر پر اپنی اشیاء فروخت کرتی ہیں، نمایشوں میں بھی اسٹال لگاتی ہیں، اب وہ خود کپڑا بنانے کی تیاری کر رہی ہیں، جس کے لئے انہوں نے سرسو کو 26 لاکھ قرض کہ درخواست دی ہے۔

ان کی بڑی بیٹی اسما گل نے خیر پور ویمن کالج سے اچھے نمبروں سے انٹر پاس کیا اور اسی مہینے میڈیکل کالج میں داخلہ ٹیسٹ میں بیٹھے گی، وہ بچوں کو ڈاکٹر، انجینئر اور وکیل بنانا چاہتی ہیں، ان کی آمدن 35 ہزار ماہانہ تک ہے، ان کے کام میں تینوں چار لڑکیاں ملازم بھی ہیں اور ان کے گاؤں کی مزید 23 خواتین سرسو کی مدد سے چھوٹے کاروبار کر رہی ہیں، شہر بانو بہت شستہ اردو بولتی ہیں ان کا لہجہ صاف ہے، کہیں سے نہیں لگا کہ وہ غیر تعلیم یافتہ ہیں، ان کا اعتماد حیران کن ہے۔

ان کا ماننا ہے کہ شعور کے لئے کسی تعلیم کی ضرورت نہیں، یہ شعور تو شہروں کے اعلی ڈگری یافتہ افراد میں ناپید ہے، سندھ حکومت کو وہ باپ کہتی ہیں اور سرسو کو میکہ یا ماں مانتی ہیں، ہم نے پوچھا کہ یہ آپ سرسو کہہ رہی ہیں یہ ہے کیا، خلاف توقع انہوں نے فورا بتایا سندھ رورل سپورٹ آرگنائزیشن جو سندھ حکومت کے تحت کام کر رہی ہے، دریافت کیا کہ سرسو سے بھی کوئی شکایت پیدا ہوئی قرض کی واپسی میں دیر سویر ہوئی تو کیا رویہ تھا، جواب ملا کہ سرسو ایک سرپرست کے طور ہے، میں نے چار مرتبہ قرض لیا اور چاروں بار واپس کیا، پوچھا کوئی ایسا کیس علم میں ہے کہ وقت پر قرض واپس نہ کیا جائے تو کیا ہوتا ہے، جواب ملا کی اگر کوئی کام کر رہا ہے تو پھر کوئی مشکل پیدا نہیں کرتے وقت مل جاتا ہےشہر بانو کی یہ کہانی ایک نہیں ہے یہ تین لاکھ ان خواتین کی کہانی ہے جو سرسو پروگرام سے وابستہ ہیں اور خود کفالت حاصل کر رہی ہیں۔

ان خواتین کا کہنا ہے کہ وہ ایک فرسودہ رسوم و رواج اور خیالات کے سماج میں زندہ ضرور تھیں لیکن ان میں زندگی نہیں تھی، وہ دیکھتی ضرور تھیں لیکن بیان نہیں کر سکتی تھیں، وہ پیروں پر چل پھر تو سکتی تھیں لیکن گھر کی دہلیز سے باہر قدم نہیں رکھ سکتی تھیں، ان کی زبان تو تھی لیکن وہ کوئی آواز نہیں نکال سکتی تھیں، وہ سوچتی تو تھیں لیکن کسی بھی فیصلہ سازی میں بول نہیں سکتی تھیں، انہیں اسکول جانے کی اجازت نہیں تھی، اپنے قریبی مرد رشتہ داروں سے ملنے کی ممانعت تھی، اسکول جانے کے لئے گھر والوں کو تیار بھی کر لیں تو یہ سماج اور خاندان واپس گھر دھکیل دیتا تھا، کم عمری میں ہی کسی اور کھونٹے سے باندھ دیا جاتا اور پھر وہ ہی زندگی مذید بدتر ہو جاتی، غربت کا یہ حال کہ بھوک مارتی تھی، جانوروں کا خیال بھی ان سے ذیادہ رکھا جاتا تھا لیکن پھر ایک دن سرسو کی ٹیم آئی، کسی طرح ایک نے ہمت کہ ایک دیا جلا اور پھر دیا سے دیا جلتا چلا گیا۔

محمد ڈتل کلہوڑو
 محمد ڈتل کلہوڑو

یہاں یہ سوال بنتا ہے کہ یہ سرسو کیا ہے کیسے کام کرتی ہے، "سرسو" دراصل سندھ رورل سپورٹ آرگنائزیشن کا مخفف ہے جس کے معنی ازخود آگے بڑھانا یا سپورٹ کرنا ہے، وہ حکومت سندھ کے پیپلز پاورٹی ری ڈکشن پروگرام کے تحت کام کر رہی ہے، اسکے بورڈ آف ڈائریکٹر کی چیئرپرسن ناہید شاہ درانی ہیں، جب کی چیف ایگزیکٹو آفیسر محمد ڈتل کلہوڑو ہیں، جن کی محنت خلوص اور لگن سے سندھ کی پس ماندہ خواتین آج سر اٹھا کر جرات اور حوصلے سے ناصرف اپنی مالی غربت پر قابو پا رہی ہیں بلکہ سماج کی ذہنی غربت سے بھی نجات پا رہی ہیں جو میرے نزدیک زیادہ بڑا کارنامہ ہے۔

ایس آر ایس او سے کیا مراد ہے، یہ کب وجود میں آئی اور اس کا کیا مقاصد ہیں اس سوال کے جواب میں محمد ڈتل کلہوڑو نے بتایا کہ ایس آر ایس او 1982 سے چلنے والے آغا خان رورل سپورٹ پروگرام کا تسلسل ہے جس میں اپنی مدد آپ کے تحت لوگوں کومعاشی طور پر اپنے پیروں پر کھڑا کرنا تھا۔

جس کے بانی چیئرمین شعیب سلطان خان تھے جو بڑا کامیاب پروگرام تھا ورلڈ بینک نے پانچ سال بعد اسیسمنٹ کی تو اسے غربت کے خاتمے کے لیے اچھا پروگرام قرار دیا تھا ۔1991 میں سری لنکا میں ہونے والی سارک کانفرنس میں رکن ممالک سے غربت کے خاتمے کے لیے تدابیر پر غور کیا گیا تو وہاں بھی رورل سپورٹ پروگرام ماڈل کو پسند کیا گیا ۔1991 اور92 میں نیشنل رول سپورٹ پروگرام قائم ہوا۔

لہذا اس کے بعد سرحد (خیبرپختونخوا) والوں نے سرحد رول سپورٹ پروگرام، بلوچستان نے بلوچستان رورل سپورٹ پروگرام اور پنجاب نے پنجاب رورل سپورٹ پروگرام بنایا ۔جب محمد میاں سومرو گورنر سندھ بنے تو سندھ میں 2003 میں سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے دور میں قائم ہوا ،اس موقع پر شعیب سلطان کو چیئر کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا تھا ۔حکومت سندھ ایک ارب روپے سالانہ گرانٹ دیتی ہے۔

جس کا مقصد سوشل کیپٹل پیدا کرنا ہےلیکن یہ پروگرام تسلسل سے نہیں چل سکا۔پروگرام سندھ کے دیہی علاقوں کےلیے تیار کیا گیا ہے ۔شعیب صاحب کو ورلڈ بینک نے پھر انڈیا بھیج دیا وہاں صرف خواتین کے لیے کام ہورہا تھا جو انہیں اچھا لگا ۔2008میں پاکستان واپس آئے توقائم علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ تھے۔

انہوں نےصوبائی حکومت کو اس پروگرام کی پریزینٹیشن دی اور سندھ کی خواتین کے ساتھ کام کی خواہش کا اظہار کیا، شعیب صاحب کا کہناتھا ہم کوشش کریں گے ہرگھر سے ایک خاتون سے رابطہ کرکے ان کےلیے سوشل کیپیٹل فراہم کریں وہ عورت ہی اپنے گھرانے کے لیے منصوبہ بنائے گی ،اگر اس کا گھرانہ میاں بیوی سمیت چھ افراد پر مشتمل ہے۔

جس میں ان پڑھ شوہر اور بیٹاہے تو شوہر مزدوری کرے گا بیٹے اور بیٹی کو کوئی ہنرسکھا کر پیروں پر کھڑا کیا جائے اورعورت کی خواہش ہے اسے کچھ پیسے ملیں تاکہ وہ کچھ جانور خرید کر اس سے آمدنی بڑھانے کی کوشش کرے۔ زندگی بہتر کرنے کے اس طرح کے کچھ خواب ہر ایک کے ہوتے ہیں۔

پروگرام کو بطور چیلنج پہلے دوضلعوں کشمور اور شکار پور میں کرکے دکھانے کے لیے کہا سندھ کے یہ اضلاع زیادہ پسماندہ سمجھے جاتے ہیں یہاں خواتین دروازے تک نہیں آتی۔ ابتدا میں ہماری ٹیمیں جب وہاں کام کے لیے گئیں اور رابطہ کیا تو لوگ عجیب نظروں سے دیکھتے تھے ۔جہاں  خواتین کا گھروں سے باہر نکلنے کا رواج نہیں  وہ ایسے منصوبے کا حصہ کیسے بنتی ،لوگ ہمیں  پاگل سمجھتے تھے۔

لیکن ہم نے اپنے طریقوں سےکوششیں کیں اور لوگوں کو سمجھایا۔ ہم ابتدا میں گھر کا مکمل سروے کرکے ریکارڈ بناتے ہیں۔ اس سلسلے میں ہم جب کسی مرد سے اس کی بیوی کا نام پوچھتے اور اس کا شناختی کارڈ طلب کرتے تو شناختی کارڈ تو دور کی بات وہ گھر کی خواتین کا نام تک نہیں بتاتے تھے بہرحال ہماری باتیں جب انہیں سمجھ آنے لگیں، معاشی فوائد نظر آئے توانہوں نے تعاون کرنا شروع کیا۔ ہمارا2009 سے گیارہ تک دونوں ضلعوں میں کام بہت بڑھ گیا تھا ۔2010 کے سیلاب نے ہمارے کام کو متاثر کیا، سیلاب سے بے شمارلوگ بے گھر ہوگئے تھے۔

لہذا اس زمانے میں حکومت سندھ کے مشیر قیصر بنگالی نے اس فنڈ سے ان ضلعوں کے تباہ گھر بنانے کا کہا، اس زمانے میں دوکمروں برآمدے پر مشتمل کچا گھر 84 ہزار روپے میں بن رہا تھا ،ہم نے 14 ہزار کے لگ بھگ کچے گھر تیار کروائے تھے ،آج ورلڈ بینک والے جو گھر بناکر دے رہے ہیں یہ آئیڈیا قیصر بنگالی کا ہے، لیکن آج پکے گھر بنا کر دئے جارہے ہیں ۔ہم نےسیلاب کی وجہ سے گھر بنوائے تھے ورنہ یہ ہمارا کام نہیں تھا۔

وہ گھر لوگوں نے خود بنائے تھے ہم نے متاثرہ لوگوں کوچار قسطوں میں 84 ہزار روپے فراہم کئے تھے یہ ہمارا بڑا کامیاب پروگرام تھا ۔کشمور اور شکار پورضلع کی خواتین کو منظم کرنا سب کے لیے خوش گوار حیرت کا باعث تھا۔ وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے تعریف کرتے ہوئے کام  تیسرے ضلع جیکب آباد تک بڑھانے کی ہدائیت کی تھی ۔

ہم نے شکار پور اور کشمور میں دو سے ڈھائی لاکھ خواتین کوپروگرام میں شامل کیا تو ہمیں اگلے مرحلے مرحلے کےلیے جیکب آباد اور تھرپارکر دیا گیا ۔ یورپی یونین کی پاکستان آمد ہمارا ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا۔ یورپی یونین ٹارگٹڈ پراجیکٹ کرتی ہے ،یورپی یونین کی تین رکنی ٹیم نے ہمارا ماڈل اسٹڈی کیا، پروگرام سے مستفید ہونے والی خواتین سے ملاقات کی تو وہ بہت متاثر ہوئے، جس کے بعد 2015 میں وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ سے ملاقات میں انہوں نے پروگرام کو بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا۔

انہوں نے صوبائی حکومت کو آفرکی یورپی یونین مزید آٹھ ضلع کے پیسے 82 ملین یورو جو آٹھ سے دس ارب روپے بنتے تھے وہ فراہم کرے گی غربت اسکور کارڈ میں پانچ چیزیں شامل ہوتی ہیں جو ہماری ممبرزخواتین گھروں کے سروے سے مالی حالت کا اندازہ لگاکر تیار کرتی ہیں جو پیپر لیس سوال ناموں پر مشتمل ایک طریقہ کار ہے۔

اس زمانے میں  بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے زیرو سے 16 تک اسکور کرنے والوں کی مدد کی جارہی تھی لیکن اب انہوں نے اسکور بڑھا دیا ہے لہذا فنڈ بھی بڑھ گیا ہے ۔ہم زیرو سے 25 تک دے رہے ہیں ۔ لیکن اب طریقہ تبدیل ہوگیا ہے ہمارے پاس فنڈنگ نہیں ہے لیکن اسکور وہی ہے ۔دوسرے مرحلے میں بات چیت سے پروگرام کا تعارف کراتے ہیں، تیسرا مرحلہ کمیونٹی آرگنائزیشن کا جس میں پہلے محلے میں تنظیم پھر ولیج آرگنائزیشن بنائی جاتی ہے ہم اسےلوکل کمیونٹی انسٹی ٹیوشن کہتے ہیں یہ تین پلر ہیں۔ ہم آسان لفظوں میں خواتین کو بتاتے ہیں تمہارا سی ای او فاوئنڈیشن ہے ،وی او دیوار ہیں اور ایل ایس او چھت ہے۔ ان تینوں کے بغیر کام نہیں ہوگا۔

اب تنظیم تو بن گئی اگلا مرحلہ کیپسٹی بلڈنگ یعنی پیسے کا استعمال ہے اسے کیسے کرنا ہے۔ ہم اکاوئنٹ کھلوا کر پیسے جمع کردیں گے تو پھر یہ لوگ استعمال کیسے کریں گے۔ اس کے بعد اہم مرحلہ ہم انہیں ہر گھر کا منصوبہ بتاتے ہیں ،ہم انہیں مجبور کرتے ہیں کہ وہ سوچیں کہ وہ ان کے پاس غربت سے چھٹکارہ حاصل کرنے کے کون کون سے راستے ہیں ،ہم اس موقع پر انہیں گائیڈ کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ہمارے پاس تمہاری مدد کے لیے پیسے بھی ہیں اور سمجھ دار بچوں کے لیے ٹریننگ بھی ہے ،بعض بڑے بچوں کو ہنرمند بنانے کی خواہش کرتی ہیں ،ہم ان کے بچوں کو دوتین مہینے کاکوئی بھی کورس کروادیتے ہیں۔

بعض پیسے مانگتی ہیں جس سے مویشی خریدکر کاروبار کرنا چاہتی ہیں توکوئی دکان کھول کر آمدنی بڑھانے کی خواہش کرتی ہیں کچھ سلائی مشین خریدنا چاہتی ہیں تاکہ کپڑیں سی کر کمالے۔ ہم منصوبوں کے مطابق پیسے فراہم کرتے ہیں اگر وہ سلائی مشین مانگتی ہے تو اسے سات ہزار روپے سے زیادہ نہیں دیتے، کیوں کہ مشین پانچ ہزار کی ہے اسے 20 ہزار روپے کیوں دیں ۔یا کسی بچے کو ٹریننگ دلوانا چاہتی ہےاس کے یہ فیصلے گھرانے کے اتفاق رائے سے ہوتے ہیں ہم اسے مائیکرو انویسٹمنٹ پلان کہتے ہیں۔

اس موقع پر ہمارے پاس انٹروینشن آتی ہے جسے انکم جنریٹنگ گرانٹ کہتے ہیں جو زیرو سے گیارہ میں آتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو پیسے واپس بھی نہیں کرسکتے ہم انہیں پیسے خرچ کرنے سے منع کرتے ہیں کیوں کہ اگر اس نے اپنی خوراک کے لیے بکری خرید لی تو وہ ہمیں پیسے واپس نہیں کرے گی اس مد میں ہمارے پاس ایک ارب روپے ہیں جو ہمیں واپس نہیں ملنے۔ لیکن دوسری بکری دینے پر ہم اس سے پیسے مانگتے ہیں۔ ولیج آرگنائزیشن کے پاس 13 لاکھ روپے ہوتے ہیں اس کی مرضی ہے وہ یہ پیسے پانچ لوگوں میں دے یا چالیس لوگوں کو فراہم کرے لیکن یہ پیسے بلا سود فراہم کئے جاتے ہیں۔

پیسوں کی واپسی کی مدت قرض دار کی سہولت سے طے کی جاتی ہے دکان کھولنے والی ماہانہ قسطوں پر واپسی کا کہتی ہے ،کاشت کاری کا قرضہ فصل تیار ہونے پرجو چھ ماہ تک ہوتا ہے۔ یہ فیصلہ کیش فلو کے مطابق ہوتا ہے ۔ ٹریننگ اور گرانٹ کی فنڈنگ کا نہیں پوچھا جاتا مثلا اگر ہم نے کسی کے گھر کا واش روم بنا دیا یا ہینڈ پمپ لگا دیا اس طرح کے کام کا نہیں  پوچھتے لیکن سی آئی ایف کا پوچھتے ہیں ۔ہمارے13 لاکھ روپے اب 30لاکھ روپے کی روٹیشن میں آگئے ہیں اور13 لاکھ محفوظ ہیں۔

قرض لینے والے کتنے فیصد لوگ رقم واپس کرتے ہیں کے جواب میں ڈتل کلہوڑو کا کہنا تھا کہ تقریباً سوفیصدقرض واپس کرتے ہیں ،کشمور، شکار پور اور جیکب آباد کے لوگوں کو ہم نے  فنڈ دیا تھا پھر 2010 میں سیلاب آیا جس کے بعد وزرا متاثرہ علاقوں میں جاکرہرطرح کے سرکاری قرض معاف کرنے کا اعلان کررہے تھے تو لوگوں نے سمجھا یہ رقم بھی معاف کردی گئی ہے۔

سیلاب کے بعد بہت سارے لوگ دوسری جگہ منتقل ہوئے ،ان ضلعوں میں سیلاب نے بہت نقصان پہنچایا تھا تو ہم سے مدد لینے والے اکثریت کا کہنا تھا ہمارا تو سب ڈوب گیا ابھی کہاں سے واپس کریں۔ لیکن انہوں نے منع نہیں کیا تھا چند سال بعد کچھ ریکوری ہوئی تو اس طرح وہ ایک ارب روپے تو چلے گئے تھے۔ لیکن چھ ارب روپے کی ریکوری 99 فیصد رہی ہے ،یہ ہماری نہیں تھرڈ پارٹی کی رپورٹ ہے۔

ہم 15 ضلع میں خواتین کی مدد کررہے ہیں، ہمارے پاس ابھی سات ارب روپے کا فنڈ موجود ہے جو ہمارے اکاوئنٹ میں نہیں ایک سائیکل کی صورت میں موجود ہیں، جن خواتین کے پاس ہیں وہ جب ہمیں واپس کرتی ہیں تو ہم دوسرے کودیتے ہیں۔ اس وقت ساڑھے تین ارب روپے خواتین کو دے رکھے ہیں۔

یادہ تر کون سے کاروبار کے لیے خواتین کو پیسے دیئے گئے کے جواب میں  بتایا کہ سی آئی ایف میں ایک ارب روپے دیئے۔ باقی چھوٹے قرضے ہیں جو دس ہزار سے چالیس ہزار تک ہیں بڑے قرضے پچاس ہزار سے پانچ لاکھ تک ہیں ۔ہم نے بڑے قرضے ایک ارب روپے 15 ہزار لوگوں کو دیئے۔ ایس آر ایس او اگر دیکھتا ہے کہ یہ کاروبار پانچ لاکھ سے نہیں ہوگا دس لاکھ تک جائے گا تو وہ اپنے طور پر5 لاکھ فراہم کرتا ہے باقی پانچ لاکھ حکومت سندھ کے فنڈ سے فراہم کیا جاتا ہے۔

ان پندرہ ہزار لوگوں نے پیسے واپس کئے ہیں لیکن اس میں سارے کاروبار کامیاب نہیں ہوئے۔ مثلا ً اگر کسی نے ایک مرتبہ پیسوں سے مویشی خریدے پھر اسے بیچ کر ہمارے پیسے واپس کردئے لیکن اپنی بچت سے دوبارہ کام کرنے کے بجائے اس کہیں اور خرچ کردئے تو ہم اسے ناکام کاروبار کہتے ہیں ۔لیکن ہمارے فنڈ کے استعمال سے ساٹھ سے ستر فیصد کاروبار کامیاب ہوئے ہیں۔

لوگوں نے ہمارے پیسے واپس کرنے کے بعد اپنا کاروبارجاری رکھا ہے ۔اس فنڈ کی خاص بات یہ صرف غریب کے لیے نہیں ہے جو بھی کاروبار کرنا چاہتا ہے اس کو دیا جاتا ہے کیوں کہ ہم سمجھتے ہیں جب وہ کوئی کاروبار کرے گا تو لوگوں کو ملازمت بھی دے گا جو اچھا ہے یہ فنڈ ضلع کے شہری علاقوں میں بھی فراہم کیا جاتا ہے۔ اربن علاقوں سے شکوے شکائیت آرہی تھی کہ ساری سہولت رورل کےلیے ہے۔

بڑے قرض کن بنیادوں پر دینے کے جواب میں ڈتل کلہوڑونے بتایا کہ بدین ،ٹھٹھہ ،میرپورخاص ،عمرکوٹ ، خیرپور سانگھڑ کاڈومیسائل ہواور وہ کاروباری ہواس کے علاوہ کسی دوسرے ضلع کے ڈومیسائل کی ہم مدد نہیں کرسکتے۔ جو ہم سے پانچ لاکھ لے گا وہ اپنے کاروبار کو پورا پلان دے گا، اگر وہ کوئی مشینیں لگانا چاہتا ہے تو ہمارا آدمی مشینیں خریدنے اس کے ساتھ کراچی جائے گا دکان کی پزیشن چیک کرے گا اگر وہ جانور بھی خریدے گا تو ہمارے آدمی کے سامنے خریدے گا پانچ لاکھ تک کے بڑے لون کے لیے یہ سب کچھ کیا جاتا ہے کیوں کہ چند واقعات میں ہمیں دھوکہ بھی ہوا ہے لیکن وہ تعداد بہت کم ہے چالیس ہزار تک کے لیے اتنی چیکنگ نہیں کی جاتی۔ چھوٹے قرض کی ریکوری 99 فیصد تک ہے۔ بعض کاروبار میں نقصان بھی ہوا ہے تو ہم قرض دار سے کہتے ہیں ہمارے قرض پر کوئی سود نہیں تھا ، تاخیر سے سہی لیکن یہ ادھار آپ کو واپس کرنا چاہیے تو تھوڑا وقت لے کر واپس کردیتے ہیں۔

پروگرام کو مزید پھیلانے کا کوئی منصوبہ ہے کے سوال کے جواب پر ڈتل کلہوڑو نے بتایا کہ سرسو نے 15 لاکھ خواتین کو منظم کیا ہے لیکن ہمارے پاس ان سب کے لیے پیسے نہیں ہیں ہم نے تین لاکھ خواتین کو پیسے دیئے جن میں سے 99 فیصد خواتین نے پیسے واپس بھی کئے پھر کئی خواتین نے ایک سے زائد سات مرتبہ تک قرض لیا وہ قرض لیتی رہیں اور واپس کرتی رہیں، جیسے شکار پور میں 2009 سے کام شروع کیا گیا ہے وہاں 2010 میں واپس کیا پھر گیارہ میں لیا بارہ میں واپس کیا اس طرح یہ سائیکل چلا ہمارے لیے اس طرح کی خواتین اثاثہ ہیں۔

ضرورت اس بات کی ہے یہ تین لاکھ خواتین اس وقت غربت سے نکلیں گی جب انہیں بڑے لون ملیں گے چھوٹے قرض کا منافع بھی کم ہوتا ہے زیادہ قرض لیں گی تو منافع بھی زیادہ ہوگا۔ ہم نے اپنے چیئرمین کے سامنے یہ مسئلہ رکھا ہے اور ان خواتین سے ملاقات بھی کرائی خواتین نے اپنے منصوبے پیش کئے اور قرض واپس کا ٹائم بھی دیا ہے ،چیئرمین متاثر ہوئے۔

ان کا کہنا تھا سرسو کے پراجیکٹ میں کراچی کو بھی شامل کریں وہاں مچھر کالونی جیسی غریب بستیاں بھی ہیں ،ہم نے بعض تحفظات کے بعد کراچی میں بھی پروگرام چلانے کا سوچا ہے ،ہم نے حکومت سے کہا ہے کہ آپ کئ اداروں کو گرانٹ دیتے ہیں  ہمیں ایک ارب روپے گرانٹ دے کر دیکھیں اور پھر ہم سے نتائج لیں۔

انتظامی اخراجات کتنے ہیں کے سوال پر جواب دیتے ہوئے ڈتل کلہوڑونے بتایا ہمیں تین فیصد ملتا ہے باقی اخراجات ہمیں بتانے پڑتے ہیں۔حکومت سندھ تین فیصد دیتی ہے یورپی یونین نے ساڑھے سات فیصد رکھا تھا ۔حکومت سندھ دس یوسی میں ایک ایس ایم ٹی یعنی تیس ہزار لوگوں کے لیے ایک گاڑی ایک ڈرائیور پٹرول اور تین ایس او جس میں دو خواتین اور ایک انچارج شامل ہے یہ سوشل موبلائزیشن ٹیم کہلاتی ہے۔ جس کا کام دس یوسیز میں تنظیم سازی کرنا ہے۔

ہماری کوشش ہے کہ تین لاکھ خواتین کو غربت سے نکالا جائے پھر صوبے کے پڑھے لکھے ہنرمند شہری علاقوں کے پڑھے لکھے نوجوانوں کے لیے کچھ کریں وہ اپنے پیروں پر کھڑا ہونا چاہتے ہیں انہیں کاروبار کے لئے مالی مدد کی ضرورت ہے۔ وہ نوجوان اگر بینک جائے گا تو پھنس جائے گا سرسو کا لون آسان ہوتا ہے۔

بینک لون دینے کے بعد چیک نہیں رکھتا لیکن سرسو تو لون دینے کے بعد مسلسل چیک رکھتا ہے وہ ریگولر بنیادوں پر وہاں جاکر اپنے لون کا استعمال دیکھتا ہے، اس طرح نوجوانوں میں بھی سیکھنے کا عمل جاری رہتا ہے۔ ہم کہتے ہیں صوبائی حکومت کی کارکردگی قابل ستائش ہیں وہ بہت سارے اچھے کام کررہی ہے ،لیکن سرسو جیسے پراجیکٹ کے لیے سیاسی قیادت کو مزید دلچسپی دکھانی پڑے گی وہ کہے گی تو بیوروکریسی کام کرے گی ورنہ کچھ نہیں ہوگا۔

بی آئی ایس پی بہت اچھا پروگرام ہے لیکن ایس آر ایس او کا پروگرام پائیدار ہے ہمارا پراجیکٹ لوگوں کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کی کوشش ہے یہ پیسہ ضائع نہیں ہوگا وہ اگر ہمیں 6 ارب روپے گرانٹ دیں گے اس میں دس فیصد ہمارا آپریشن کا خرچ ہوگا وہ ایک مرتبہ ہی خرچ ہوگا ہم اس کے بعد دوبارہ پیسے نہیں مانگتے ،ہم ان پیسوں کی سرمایہ کاری کرتے ہیں تاکہ مستقبل میں رکاوٹ نہ آئے۔

بلاول بھٹو نے بتایا کہ ہم نے سندھ میں چالیس ہزار خواتین کو کاروبار کےلیے فنڈ دیا ،لیکن یہ کام تو پنجاب میں بھی ہورہا ہے حکومت پنجاب نے اخوت کو چالیس ارب روپے تک دیئے ہیں جب کہ وہ ان کا ادارہ نہیں ہے، ایس آر ایس او کو تو حکومت سندھ نے قائم کیا ہے۔ بلاول بھٹو ایس آر ایس او کو پسند کرتے ہیں انہوں نے ہمارے کام کی تعریف کی ہے۔

ناہید شاہ درانی سرسو کے بورڈ آف ڈائریکٹر کی چیئرپرسن ہیں، انہوں نے گفتگو میں سندھ میں غربت میں کمی اور خواتین کو خود کفالت حاصل کرنے کے لئے سرسو کے اقدامات اور اس کی افادیت کے مختلف پہلوؤں سے آگاہی دی، پروگرام کو مذید موثر بنانے اس کے پھیلاو اور فنڈز میں اضافے کی کوششوں پر بھی بات ہوئی۔

ان کا کہنا تھا کہ سرسو بنیادی طور پر دیہی علاقوں کے لئے ڈیزائن ہے اور وہیں کام کر رہی ہے، یہ درست ہے کہ شہروں میں بھی کچی آبادیاں اور گوٹھ ہیں، وہاں بھی غربت بہت زیادہ ہے اس پروگرام کو وہاں تک پھیلانا چاہتے ہیں اس کے لئے گفتگو کر رہے ہیں، سرسو انڈوومنٹ فنڈز سے چل رہا ہے، کوشش ہے کہ سندھ حکومت اس کے فنڈز میں اضافہ کرے۔

خواتین کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے انہیں خود کفالت بنانے کے لئے چھوٹے قرض کی اسکیم بہت سود مند ثابت ہو رہی ہے، اس میں سود بھی نہیں دینا ہوتا اور ادائی میں بھی وقت کہ سخت پابندی نہیں ہے، حالات کو دیکھتے ہوئے چھوٹ دے دی جاتی ہے، مقصد خواتین کو ان کے کاروبار میں مدد کرنا ہے، اگر یہ مقصد حاصل ہو رہا ہے تو قرض کی مدت بڑھا دی جاتی ہے، دوبارہ بھی قرض مل جاتا ہے، سرسو کی ٹیم پوری طرح سے خواتین کی مدد کرتی ہے، توقع ہے کہ سرسو کا یہ کام پورے سندھ میں پھیلانے میں کامیاب ہوں گے، اس کی بہت افادیت ہے اور قرض بھی ضائع نہیں ہوتا واپس ملتا ہے، جس کی شرح حیرت انگیز طور پر تقریبا سو فی صد ہی ہے۔

خواتین کی خود کفالت کسی انقلاب سے کم نہیں، بلاول بھٹو

بلاول بھٹو سندھ حکومت کی کارکردگی کا موازنہ ترقی یافتہ ممالک سے کرنا چاہتے ہیں تخفیف غربت پروگرام پر ان کا کہنا ہے کہ دوہزار نو سے آج تک حکومت سندھ محنت کررہی ہے ،پیپلز پاورٹی ریڈکشن پروگرام حکومت سندھ کا ایک اور کامیاب پروگرام ہے ،ہمارا یہ دیہی سپورٹ پروگرام دو ضلعوں سے شروع ہوا تھا۔ یہ بے نظیرانکم سپورٹ پروگرام سے ایک قدم آگے چلتا ہے۔

اس پروگرام کا بھی بڑا واضح فرق سامنے آیا ہے، اس پروگرام کے تحت 13 لاکھ خواتین کوفائدہ ہورہا ہے، اس میں کیش ٹرانسفر نہیں کیا جاتا بلکہ بلاسود قرضہ دئے جاتے ہیں ،یہ چھوٹا قرض ہوتا ہے تاکہ لینے والا اپنی غربت میں کمی لاسکے، یہ قرض بڑا ہونا چاہیے تاکہ وہ کوئی کاروبار شروع کرسکے۔ ہم نے اس پروگرام کی مدد سے 13 لاکھ خواتین جو غربت کا شکار تھیں ان کا کوئی ذریعہ معاش نہیں تھا، وہ خواتین آج پیپلزپاورٹی ریڈکشن پروگرام کی وجہ سے کاروبار کررہی ہیں، اور اب وہ اپنے ساتھ اپنے خاندان کی بھی مدد کررہی ہیں۔

میں اسے انقلاب سمجھتا ہوں جوآپ کونظر نہیں آئے گا لیکن سندھ کی غریب خواتین یہ انقلاب لاچکی ہیں ،سندھ کی خواتین میں وہ طاقت اور کاروباری صلاحیت ہے کہ وہ معمولی سی مدد سے پوری معیشت میں انقلاب لاسکتی ہیں، ہم نے جو بلاسود قرض دئے ہیں، اس کا موازنہ کرنے کے لیے بڑے بینکوں کا ریکارڈ چیک کریں وہ کروڑ پتی، ارب پتی ملزمالکان بڑے کاروباری لوگوں کو لون دیتے ہیں ان کا ریکوری ریٹ چیک کریں اور پیپلز پاورٹی ریڈکشن پروگرام کا بلاسود قرضہ جو سندھ کی دور دراز دیہاتی غریب خواتین کو دئے گئے ہیں ان کا ریکوری ریکارڈ چیک کریں ،ہمارا ریکوری ریٹ 99 فیصد ہے۔

اس کا مطلب ہے جن خواتین کو یہ سہولت ملی وہ اتنا کامیاب ہوگئی ہیں کہ اب وہ اپنے خاندان کا بھی خیال رکھ رہی ہیں اور حکومت کا پیسہ واپس بھی کررہی ہیں ،ہم ان کی ہمت کو سلام پیش کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں یہ ہی وجوہات ہیں جو ہم حکومت میں ہوتے ہیں یعنی ہم نے ملک کے غریب ترین طبقے کا خیال رکھنا ہیں۔

"From Poverty to Power"

غربت کیا ہے اور یہ کیسے ختم کی جا سکتی ہے، غریب کیا صرف مالی تنگی یا کم آمدن حاصل کرنے کا نام ہے؟ یا ذہنی غربت بھی غربت ہی کی ایک قسم ہے، گویا مالی غربت اور ذہنی غربت الگ الگ بھی دیکھی جا سکتی اور ایک ساتھ بھی، ایک فرد جس کے پاس گزارا کرنے کے لئے مناسب آمدن نہیں رکھتا وہ تو غریب ہے لیکن ایک فرسودہ معاشرے کا فرد بھی غریب ہی شمار ہو گا، گویا صرف مالی طور پر غربت سے نکالنے کی کوشش رائیگاں جائے گی اگر فرد کو فرسودہ نظام سے نہ نکالا جائے، غربت سے طاقت یا اختیار حاصل نہ کیا جائے، اسی مناسبت سے

"فرام پاورٹی ٹو پاور" کے عنوان سے دو کتابیں بہت شہرت رکھتی ہیں

یہ انتہائی مشہور اور الگ الگ موضوعات پر مبنی کتابیں ہیں ہیں، برطانوی مصنف جیمز ایلن کی پہلی کتاب ہے جو 1901 میں شائع ہوئی اس کتاب کا پورا نام "From Poverty to Power: The Realization of Prosperity and Peace" ہے، اس کتاب میں "غربت" سے مراد صرف مالی تنگی نہیں بلکہ ذہنی اور روحانی پس ماندگی بھی ہے، مصنف کا ماننا ہے کہ انسان کے بیرونی حالات اس کی اندرونی سوچ کا آئینہ دار ہوتے ہیں اور اپنے خیالات کو پاکیزہ بنا کر، ڈسپلن اور اخلاقی قوت کے ذریعے انسان ناگفتہ بہ حالات سے نکل کر کامیابی، صحت اور حقیقی طاقت (پاور) حاصل کر سکتا ہے، یہ کتاب دو حصوں پر مشتمل ہے: The Path to Prosperity (خوشحالی کا راستہ) اور The Way of Peace (امن کا راستہ،

دوسری کتاب آکسفیم (Oxfam) کے سینئر اسٹریٹجک ایڈوائزر ڈنکن گرین نے لکھی، جو 2008 میں شائع ہوئی، کتاب کا پورا نام "From Poverty to Power: How Active Citizens and Effective States Can Change the World" ہے، یہ کتاب سماجی و اقتصادی ترقی اور غربت کے خاتمے پر بات کرتی ہے، اس کے مطابق غربت صرف آمدنی کی کمی نہیں بلکہ بےاختیاری، کم زوری اور فیصلوں سے محرومی کا نام ہے، غربت اور عدم مساوات کے چکر کو توڑنے کے لیے محض خیرات یا روایتی سرکاری امداد کافی نہیں، بلکہ طاقت، مواقع اور اثاثوں کی منصفانہ تقسیم لازمی ہے، اس تبدیلی کے لیے دو بڑی طاقتیں درکار ہیں، اول فعال سرگرم شہری جب عام لوگ اپنے حقوق کے لئے آواز اٹھاتے ہیں اور حکومتوں کا احتساب کرتے ہیں۔

دوم، مؤثر ریاستیں وہ حکومتیں جو ترقیاتی عمل کو بہتر طریقے سے چلانے کی صلاحیت رکھتی ہوں۔ ڈنکن گرین کی کتاب کی شہرت کے بعد آکسفیم نے اسی نام سے ایک بین الاقوامی آن لائن بلاگ اور فورم From Poverty to Power شروع کیا،اس پلیٹ فارم پر دنیا بھر کے ماہرینِ معاشیات، سماجی کارکنان اور پالیسی ساز عالمی سیاست، ترقیاتی منصوبوں، اور غریب ممالک کے مسائل پر اپنے تحقیقی مضامین اور آراء شیئر کرتے ہیں۔

غربت کو سمجھنے اور اس میں تخفیف کی حکمت عملی پر مزید جاننے کے لئے نامور سینئر صحافی اور استاد پروفیسر سہیل سانگی کا کہنا ہے کہ بنیادی طور پر، غربت کا خاتمہ محض معاشی پالیسی یا وسائل کی تقسیم کا مسئلہ نہیں، بلکہ یہ انصاف، طاقت اور شراکتی جمہوریت کا گہرا تعلق رکھتا ہے۔ غربت کے خاتمے کے لیے وسائل اور مواقع کی منصفانہ تقسیم ناگزیر ہے، یہ بات اصولی طور پر تسلیم کی جاتی ہے مگر عملاً اس پر عمل درآمد بہت کم ہوتا ہے۔ تاہم، منصفانہ تقسیم صرف اوپر سے نیچے کی جانب احسانات کے ذریعے ممکن نہیں۔

اس کے لیے عوام کا منظم، باشعور اور مسلسل عمل ضروری ہے۔ عوامی تحریک اور اجتماعی جدوجہد کے بغیر کوئی بھی منصوبہ خواہ کتنا ہی پرخلوص کیوں نہ ہو ناکامی سے دوچار ہونے کا خطرہ رکھتا ہے، جیسا کہ ترقیاتی منصوبوں کی تاریخ میں بارہا دیکھا گیا ہے۔

یہ بات بلاشبہ درست ہے کہ معاشی عوامل غربت کو برقرار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ مہنگائی، بے روزگاری، اجرتوں میں جمود، اور وسائل تک ناہموار رسائی ایسی رکاوٹیں ہیں جو لاکھوں افراد کو محرومی کے چکر میں جکڑے رکھتی ہیں مگر جدید تحقیق نے یہ واضح کیا ہے کہ غربت محض ایک معاشی بیماری نہیں، بلکہ ایک سماجی اور سیاسی حالت ہے۔

غربت سے نکلنے کے لیے صرف مالی امداد یا بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کافی نہیں، بلکہ ایک مکمل سماجی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ اس تبدیلی کا مرکز عوام کا شعور ہے، ان کا اپنے حقوق سے آگاہ ہونا، نظامی ناانصافیوں کو سمجھنا، اور متبادل راستوں کا تصور کرنا۔ اس سے بھی بڑھ کر، یہ ضروری ہے کہ عام لوگ فیصلہ سازی کے عمل میں، چاہے وہ مقامی حکومت ہو یا قومی ترقیاتی منصوبے، بامعنی طور پر شریک ہوں۔ امداد کا غیرفعال وصول کنندہ تبدیل ہو کر تبدیلی کا فعال معمار بنے۔

دوسرے الفاظ میں، غربت میں جینے والے لوگوں کو اپنی تقدیر کا فیصلہ کرنے میں مرکزی کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہیں استحصال کے خلاف آواز اٹھانے، حکومت اور نجی شعبے کو جوابدہ رکھنے، اور اپنے حقوق کے لیے موثر انداز میں جدوجہد کرنے کا اختیار دیا جانا چاہیے۔ یہ محض علامتی مشاورت کا مطالبہ نہیں، بلکہ حقیقی مشترکہ حکمرانی کا تقاضا ہے، جہاں پسماندہ کمیونٹیز کو بجٹ، پالیسیوں اور پروگراموں پر حقیقی اثرانداز ہونے کا موقع ملے۔

تاریخ ہمیں سبق دیتی ہے کہ کوئی بھی ملک پائیدار اور جامع ترقی اس وقت تک حاصل نہیں کر سکتا جب تک کہ ریاست اپنے بنیادی ستونوں مضبوط انفراسٹرکچر، قانون کی حکمرانی، انسانی سرمائے کی ترقی، اور صنعتی نمو کو فعال طور پر منظم نہ کرے۔ مگر ریاست اکیلے کامیاب نہیں ہو سکتی اگر وہ عوام سے الگ تھلگ کام کرے۔ روایتی امدادی ماڈلز، جو اکثر تکنیکی حل کو سیاسی مصروفیات پر ترجیح دیتے ہیں، بارہا ناکام ہوئے ہیں۔

وہ غربت کو طاقت کے نابرابر تعلقات کی علامت کے بجائے ایک تکنیکی خرابی سمجھتے ہیں۔ اس چکر کو توڑنے کے لیے ہمیں سیاسی اور طاقت کے ڈھانچوں پر توجہ مرکوز کرنی ہوگی، اور یہ یقینی بنانا ہوگا کہ ترقی غریبوں پر مسلط نہ کی جائے، بلکہ انہی کے ذریعے آگے بڑھائی جائے۔

اسی صورت میں غربت کا حقیقی اور پائیدار خاتمہ ممکن ہے، پروفیسر سہیل سانگی کی یہ بات بہت اہم ہے کہ "ترقی غریبوں پر مسلط نہ کی جائے، بلکہ انہی کے ذریعے آگے بڑھائی جائے" دیکھا پرکھا جائے تو سندھ رورل سپورٹ آرگنائزیشن بھی اسی حکمت عملی کے ساتھ کام کر رہی ہے، وہ ناصرف خواتین کی مالی خود کفالت کے لئے سرگرم عمل ہے بلکہ انہیں پس ماندگی اور روایتی فرسودہ نظام سے بھی باہر نکال رہی ہے اور معاشرے میں انہیں باوقار مقام اور مواقع فراہم کر رہی ہے۔

چھوٹا کاروبار ۔۔۔ غربت میں کمی کی حکمت عملی

پاکستان میں غربت کی صورت حال نہایت تشویش ناک ہے اس کی شرح میں خطرناک رفتار سے اضافہ ہو رہا ہے، گذشتہ گیارہ برسوں میں غریبوں کی تعداد میں دگنا اضافہ ہوا ہے، پاکستان میں غربت کے اعدادوشمار پر عالمی اداروں اور سرکاری دعووں میں بڑا فرق دکھائی دیتا ہے۔ قومی اقتصادی سروے 2025-26 کے مطابق پاکستان میں غربت کی شرح میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو بڑھ کر 28.9 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

اس طرح ہر 100 میں سے تقریباً 29 شہری خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ اقتصادی سروے میں بتایا گیا ہے کہ ماہانہ 8 ہزار 483 روپے کمانے والا شہری غربت کی لکیر سے اوپر شمار کیا جاتا ہے، جو کہ 30.5 امریکی ڈالر کے مساوی ہے۔ علاقائی اعداد و شمار کے مطابق دیہی علاقوں میں غربت کی شرح 36.2 فیصد جبکہ شہری علاقوں میں یہ 17.4 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔

صوبوں کی سطح پر صورت حال کے مطابق سب سے زیادہ غربت بلوچستان میں 47 فیصد ریکارڈ کی گئی، جبکہ سب سے کم شرح پنجاب میں 23.3 فیصد رہی۔ اسی طرح سندھ میں غربت کی شرح 32.6 فیصد اور خیبرپختونخوا میں 35.3 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔ سروے کے مطابق ملک میں مجموعی غربت کی شرح میں 2018-19 کے بعد دوبارہ اضافہ دیکھا گیا ہے، جب یہ شرح 21.9 فیصد تھی۔ سروے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مہنگائی اور معاشی دباؤ کے باعث لاکھوں افراد دوبارہ غربت کی طرف دھکیل دیے گئے ہیں، جبکہ عدم مساوات میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ غربت کی پیمائش کا معیار کم از کم ضروری اخراجات پورے کرنے کی صلاحیت کو قرار دیا گیا ہے۔

پاکستان کا غربت کا بحران حکومت کی تسلیم کردہ حد سے کہیں زیادہ گہرا ہے، اور سرکاری دعوؤں اور عوام کی حقیقی زندگی کے حالات کے درمیان فرق پہلے کبھی اس قدر واضح نہیں رہا۔ سوشل پالیسی اینڈ ڈویلپمنٹ سینٹر (ایس پی ڈی سی) کی تازہ ترین تحقیق، جو ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے 2024-25 کے مقامی سطح کے ڈیٹا پر مبنی ہے، معیشت کی ایک ایسی تاریک تصویر پیش کرتی ہے جو ریاست کے اپنے غربت کے اعداد و شمار سے کہیں زیادہ سنگین ہے۔ ایس پی ڈی سی کا آزاد تخمینہ یہ شرح 43.5 فیصد بتاتا ہے۔

یہ صرف ایک معمولی شماریاتی اختلاف نہیں ہے، بلکہ ایسا فرق ہے جو کروڑوں افراد کی زندگیوں کو ظاہر کرتا ہے۔ ایس پی ڈی سی کے مطابق مالی سال 2025 میں تقریباً 10.5 کروڑ افراد غریب تھے، جو مالی سال 2019 میں 7.8 کروڑ تھے۔ یعنی صرف چھ سال میں 2.7 کروڑ مزید افراد غربت کی لکیر سے نیچے چلے گئے۔ 

یہ اضافہ اپنی شدت میں اتنا بڑا ہے کہ یہ کئی ممالک کی کل آبادی سے بھی زیادہ بنتا ہے۔ تاہم سرکاری بیانیہ، جو فی بالغ فرد ماہانہ 8,484 روپے کی غربت کی لکیر پر مبنی ہے، اب بھی یہ ظاہر کرتا ہے کہ صورتحال اتنی سنگین نہیں۔ جبکہ ایس پی ڈی سی کا طریقہ کار ایک مختلف کہانی بیان کرتا ہے۔

پاکستان میں بڑھتی مہنگائی اور آمدنی میں کمی نے عوام کی پلیٹ سے متوازن غذا بھی چھین لی، 63فیصد لوگ آج صحت بخش خوراک خریدنے سے بھی قاصر ہے۔ اقوام متحدہ کی اسٹیٹ آف فوڈ سیکیورٹی اینڈ نیوٹریشن اِن دی ورلڈ 2026 رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس پاکستان کی 63 فیصد آبادی، یعنی تقریباً 16 کروڑ 10 لاکھ افراد، ایک وقت کی معیاری اور صحت بخش خوراک خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتی تھی۔

رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیا میں صحت بخش خوراک نسبتاً کم قیمت پر دستیاب ہونے کے باوجود اسے خریدنے کی صلاحیت رکھنے والے پاکستانیوں کی تعداد خطے میں کم ترین سطح پر ہے۔ غربت میں اضافے کی بنیادی وجوہ مہنگائی یا افراط ہے جو اشیائے خوراک اور توانائی کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ کے سبب ہے۔

معاشی سست روی کے باعث روزگار کے مواقع میں کمی اور دولت کی تقسیم کا غیر منصفانہ نظام ہے، پاکستان میں توانائی کی بلند قیمتیں، زیادہ شرح سود، روہے کی بےقدری، ٹیکس وصولیوں میں کمی سبسڈی کا خاتمہ وہ وجوہ ہیں جن کے سبب بےروزگاری اور غربت میں تیزی سے، اضافہ ہو رہا ہے، ایسے میں ضروری ہے کہ حکومت ٹارگٹڈ سبسڈی کا نظام کو موثر بنائے اور لوگوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا کرے، ہنر کے استعمال اور گھریلو دست کاری پر مبنی چھوٹے کاروبار کے لئے بلاسود چھوٹے اور آسان قرضوں کی فراہمی بہت موثر ثابت ہو سکتی ہے، ضروری ہے کہ سندھ حکومت پاورٹی ریڈکشن پروگرام کے تحت سندھ رورل سپورٹ آرگنائزیشن کا دائرہ وسیع کرے اس کے فنڈز میں اضافہ کرے اور اس کو شہروں کی کچی آبادیوں اور گوٹھوں تک پھیلائے۔

رپورٹ : سلیم اللہ صدیقی

جنگ فورم  سے مزید