• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میزبان: محمد اکرم خان ایڈیٹر، جنگ فورم 

رپورٹ : سلیم اللہ صدیقی

تصاویر: جنید احمد

شرکاء

ریحان حنیف (صدر، کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری)

زبیر موتی والا (سابق سی ای او، ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی، پاکستان TDAP)

محمد جاوید بلوانی (چیئرمین، پاکستان ایپرل فورم / سرپرست،صدر پاکستان ہوزری مینوفیکچررز اینڈ ایکسپوٹرز ایسوسی ایشن)

احمد عظیم علوی (صدر، سائٹ ایسوسی ایشن)

چین ہمارا سب سے اچھا دوست ہے لیکن میں اس کے ساتھ فری ٹریڈ ایگریمنٹ سے خائف ہوں ،پچھلے چند سال سے ہمارا چین سے تجارتی خسارہ بڑھ رہا ہے ہم19 بلین ڈالرکا چین سے مال لیتے ہیں اور تین بلین کا چین کو بیچتے ہیں۔

ہم امریکا اور یورپی یونین کو صلاحیت سے کم ایکسپورٹ کرتے ہیں ۔ہماری کامیاب نہ ہونے کی وجہ حکومت پاکستان ہے وہ کمفرٹ زون میں زندہ ہے وہ سوچتے ہیں اوور سیز سے زرمبادلہ کی شکل میں35 سے 38 ملین ڈالر اور30 بلین سے کچھ اوپر ایکسپورٹ ہوجاتی ہے اس طرح ہمارا تجارتی خسارہ قابو میں ہے ملک چل جائے گا۔

ایکسپورٹ صرف ڈالرکمانے کا ذریعہ نہیں انڈسٹری بھی چلتی ہے جس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں، اس ٹیکس ریٹ میں سرمایہ کاری نہیں ہوسکتی ،جب تک مقامی سرمایہ نہیں آئے گا غیرملکی سرمایہ کار کو ہم نہیں لاسکتے ۔یورپی یونین کے ساتھ بھارت کی ڈیل کے جواب میں حکومت سے پوچھنا چاہیے کہ اس نے کیا کیا ہے

زبیر موتی والا

حکومت کی ایکسپورٹ پالیسی میں کوئی خاص بات نہیں یہ نہ کاروبار دوست اور نہ ہی ایکسپورٹ دوست ہے۔ حالیہ بجلی کی قیمت میں چار روپے فی یونٹ کمی کا اعلان صرف ایک اقدام ہے جس کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہوگا۔

ہماری ایکسپورٹ پالیسی اور ایکسپورٹ انڈسٹری آئی سی یو میں ہے، آئی سی یو میں صرف ڈرپ لگنے سے بیمار صحت یاب نہیں ہوتا ایسے مریض کے سارے ٹریٹمنٹ ساتھ کرنے کی ضرورت ہے، پاکستان دنیا کا واحدملک ہے جہاں ایکسپورٹ کا ٹیکس لوکل سے زیادہ ہے۔ 

یہاں جو بھی نیا کاروبار کرنے آتا ہے، کوئی نیا آنے والا پروپرائٹر کمپنی بناتا ہے، پروپرائٹر پر دنیا میں سب سے زیادہ ٹیکس پاکستان میں لیا جاتا ہے ۔کاروباری برادری، چیمبرز ،ایسوسی ایشن وغیرہ کی سفارشات کو حکومت سنجیدہ نہیں لیتی

جاوید بلوانی

ایکسپورٹ کے اضافے میں پاکستان کی بقا ہے، اضافہ نہ ہونے سے ملک میں غیرملکی زرمبادلہ کی کمی ہوگی، ایکسپورٹ نہ بڑھنے کی وجہ ہماری پیداواری لاگت، شرح سود، بھاری ٹیکسز، پانی، گیس سب مہنگا ہے۔

ہماری ڈیری مصنوعات بیرون ملک ایکسپورٹ کیوں نہیں ہوتی، ہمارے پاس وافر معیاری گلاب موجود ہے جو ضائع کررہے ہیں، ایکسپورٹ سالمیت کی ضمانت ہے اسے آزاد چھوڑ دو، ایکسپورٹر کو کہا جائے یہ میدان کھلا ہے آپ کوکوئی تنگ نہیں کرے گا صرف ایکسپورٹ بڑھاو۔ سپرٹیکس کی وجہ سے جب پیسہ ہماری جیب سے نکل جائے گا تو پھر کام کس طرح ہوگا۔

ریحان حنیف

پاکستان کا 14 فیصد ایکسپورٹ سائٹ سے ہوتا ہے، یہاں  روزانہ نیا ٹارچرمل رہا ہے ،سرکاری ادارے توموجود ہیں لیکن کسی دن پانی کا ناغہ تو کسی دن کچی آبادی والے حملہ کردیتے ہیں کسی بھی وقت نیا مسئلہ کھڑا ہوجاتا ہے، جب صنعت کار کو ذہنی سکون ہی نہیں تو وہ باہر کے خریدار سے کیا بات کرے گا، پچھلے پانچ دن سے سائٹ میں پانی نہیں تھا جن کے آرڈر تھے وہ پریشان تھے، انڈسٹری کی بنیادی ضرورت پوری کی جائے، کراچی کے صنعتی علاقوں کومکمل سیکورٹی فراہم کریں، آج بھی کئی جگہ سے لوگ بھتے کی پرچیوں کی اطلاع دے رہے ہیں۔

احمد عظیم علوی

کئی عشرے مختلف حکومتیں اور پالیسیاں گزر گئیں لیکن ہماری ایکسپورٹ کے اضافے میں کوئی نمایاں فرق نظر نہیں آیا، سوائے2008 سے 2013 کے دوران جب پاکستان پیپلزپارٹی کے دور میں ایکسپورٹ سب سے بلند 35 بلین تک چلی گئی تھی، پھر ہم نے دوبارہ مثبت پیش رفت نہیں دیکھی۔ معیشت میں برآمدات کی اہمیت ایسی ہی ہے جیسے بغیر تنخواہ گھر چلانا ناممکن ہے اسی طرح بغیر برآمدات ملک چلانا بھی ممکن نہیں۔

اگر ملک کو ڈالر کی زیادہ سے زیادہ ضرورت ہے تو اسے کمانے کا یہی ذریعہ ہے، اس کے بغیر پاکستان کے معاشی حالات بہتر نہیں ہوسکتے۔ ماضی میں ایکسپورٹ بڑھانے کے کئی اعلانات ہوئے لیکن وہ پھر بھی جمود کا شکار رہی ہے۔

آج کے جنگ فورم میں ایکسپورٹ میں مزید اضافہ نہ ہونے کی وجوہات کا جائزہ لیں گے مثلاً کیا ہماری پالیسی میں  نقص ہیں ،کیا بڑھتی پیداواری لاگت مشکلات کا باعث ہیں  ،اہلیت کا مسئلہ ہے یا ہمارامال عالمی معیار کا نہیں ہوتا۔

اگر موازنہ کیا جائے تو خطے کے دیگر ممالک بھارت ،بنگلہ دیش سری لنکا اور دیگر پڑوسیوں کے مقابلے ہمارا کیا مقام ہے کیا ہم ان سے مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔ موجودہ حکومت نے بجلی اور ٹیکس میں کمی کرکے نئی پالیسی دی ہے، کیا ہماری ایکسپورٹ پر اچھا اثر پڑے گا۔

ہماری درآمدی پالیسی کیا ہے اور کیسی ہونی چاہیے۔ ان تمام مسائل پر سائٹ ایسوسی ایشن میں  ہمارے ساتھ شریک گفتگو ہیں ریحان حنیف (صدر، کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری) ، زبیر موتی والا (سابق سی ای او، ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی، پاکستان TDAP) محمد جاوید بلوانی (چیئرمین، پاکستان ایپرل فورم / سرپرست، پاکستان ہوزری مینوفیکچررز اینڈ ایکسپوٹرز ایسوسی ایشن) اور احمد عظیم علوی (چیئرمین سائٹ ایسوسی ایشن)  ۔فورم کا آغاز جاوید بلوانی سے کریں گے۔

جنگ: حکومت نے اپنی نئی پالیسی بنادی ہے اس سے ایکسپورٹر کا کتنا فائدہ ہوگا؟

جاوید بلوانی: حکومت کی ایکسپورٹ پالیسی میں کوئی خاص بات نہیں ہے نہ یہ کاروبار دوست ہے اور نہ ہی ایکسپورٹ دوست ۔حالیہ بجلی میں چار روپے فی یونٹ کمی کااعلان صرف ایک اقدام ہے جس کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہوگا۔

ہماری ایکسپورٹ پالیسی اور ایکسپورٹ انڈسٹری آئی سی یو میں ہے ،آئی سی یو میں صرف ڈرپ لگنے سے بیمار صحت یاب نہیں ہوتا، ایسے مریض کے سارے ٹریٹمنٹ ساتھ کرنے کی ضرورت ہے، ہماری ایکسپورٹ کو کئی مسائل کا سامنا ہے۔

اس کا موازنہ اپنے خطے اور قریب کے دیگر ممالک سے کریں تو ان کے ہمارے درمیان بڑا فرق نظر آئے گا، ہمارے ریجنل مسابقتی ممالک کے مال پرلاگت ہم سے 15 سے 12 فیصد کم ہوتی ہے، ان میں بنگلہ دیش ،بھارت ویت نام شامل ہیں۔ ہمارے یہاں ٹیکس بھی زیادہ ہے، پاکستان دنیا کا واحدملک ہے جہاں ایکسپورٹ کا ٹیکس لوکل سے زیادہ ہے۔

اس میں مزید خراب بات ہے یہاں جو نیا کاروبار کرنے والا آتا ہے، جیسے نوجوان بزنس مین یعنی طالب علمی کے بعد نیا آنے والا پروپرائٹر کمپنی بناتا ہے، پروپرائٹر پردنیا میں سب سے زیادہ ٹیکس پاکستان میں لیا جاتا ہے ۔کاروباری برادری چیمبرز ،ایسوسی ایشن وغیرہ حکومت کو جوبھی سفارشات دیتی ہیں حکومت اسے سنجیدہ نہیں لیتی۔

ایک دو مرتبہ حکومت نے ہماری سفارشات پر کام کیا تواس کے بعد پاکستان کی ایکسپورٹ ایسی بڑھی کہ سارے ریجنل مسابقتی ممالک پاکستان کی طرف متوجہ ہوگئے تھے کہ آخر پاکستان کیا کررہا ہے۔

پھر انہوں نے ہماری پالیسی کی نقل شروع کردی ۔کامیابی کا یہ دور مشرف حکومت، پیپلزپارٹی اور پھر آخری مرتبہ تحریک انصاف کے دور میں آیا تھا، اس دوران ہماری ایکسپورٹ 25 سے 40 فیصد تک بڑھی ہے۔

جنگ: اگر اچھی اور کامیاب پالیسی تھی تو وہ مستقل جاری کیوں نہیں رہی ؟

جاوید بلوانی: پاکستان میں ایسے لوگ بیٹھے ہیں جو اپنے ملک کے ہی دشمن ہیں، یہ نہیں چاہتے پاکستان کی ایکسپورٹ بہترہو کیوں کہ جب ایکسپورٹ بڑھی پالیسی کے کامیاب نتائج سامنے آئے، معلوم نہیں کیا ہوجاتا ہے اس کےبعد ساری صورت حال اتنی تیزی سے واپس ہوتی ہے کہ لوگ رو پڑتے ہیں۔ اگر اس دوران کے ڈیٹا کو چیک کریں گے تو دیکھتے ہوئے دل افسردہ ہوجائے گا کہ آخر ایسا کیوں ہوا۔

جنگ: آپ کے خیال میں وہ کون سے اقدامات ہوئے جس کی وجہ سے ہماری ایکسپورٹ گھٹنا شروع ہوئی ؟

جاوید بلوانی: جب ہم نے پہلی مرتبہ ایکسپورٹ پالیسی اور ٹیکسٹائل پالیسی کے لیے محنت کی تھی اس میں زیرو ریٹڈ ٹیکس تھا، جس سے ایکسپورٹ میں یک دم اضافہ ہوا، ایکسپورٹ ری فنانس پر حکومت نے سپورٹ کیا تھا۔

ہم نے دوہزار نو سے 14 تک ٹیکسٹائل پالیسی میں دن رات کام کیا۔ ہم نے مشرف دور حکومت میں وزرات ٹیکسٹائل بنوائی مشتاق چیمہ اس کے پہلے وزیر تھے مشرف دور میں بڑا کام ہوا تھا۔

جنگ: ٹیکسٹائل کی وزارت پی پی حکومت میں بھی موجود تھی تو پھر اس کے بعد کیا ہوا؟

جاوید بلوانی: وزارت ٹیکسٹائل کے بننے سے بہت فائدہ ہوا تھا اس کے خاتمے کے پیچھے بڑا معاملہ ہے، ہماری ایکسپورٹ میں سب سے بڑا حصہ ٹیکسٹائل کا ہے جو 60 فیصد سے زائد کا ہے باقی دیگر شعبوں سے ہے۔ ٹیکسٹائل گرکربھی52سے 54فیصد ہے۔ ہم نے اسی لیے کہا تھا کہ وزارت کامرس ایکسپورٹ بڑھانے کے لیے دیگر شعبوں پر توجہ دے، اس لیے ٹیکسٹائل کی علیحدہ وزارت بنادی گئی تھی۔

کامرس منسٹری سے ٹیکسٹائل نکالنے سے وزارت کامرس بے کار ہوگئی تھی۔ اگر پالیسی جاری رہتی تو ٹیکسٹائل کے ساتھ دیگر شعبوں کی ایکسپورٹ میں اضافہ ہوسکتا تھا۔ وزارت ٹیکسٹائل کےلیے ہم نے ٹیکسٹائل ریسرچ سیل بنوایا تھا ،آج اس سیل کے قابل نوجوان دنیا میں کام کررہے ہیں۔

ایک امریکا کے کاٹن کے شعبے میں واشنگٹن میں ٹیکسٹائل کا ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ ہے، ہمارا کہنا تھا یہ لوگ فیڈرل سیکریٹری سے زیادہ بہترکام دکھائیں گے، وفاقی سیکریٹری کسی دوسری جگہ سے دوسال کے لیے آتا ہے۔ اسے ریسرچ سیل سے سب کچھ مل جاتا تھا۔ جب ٹیکسٹائل منسٹری ختم ہوکر واپس وزارت کامرس کے پاس گئی تو فیڈرل سیکریٹری ٹیکسٹائل ریسرچ سیل سے کہتا تھا تمہیں زیادہ معلوم ہے لہذا تم بات کرو۔

جنگ: ہماری ٹیکسٹائل انڈسٹری کپاس سے جڑی ہے آج ہماری کپاس کی پیداوار ماضی کے مقابلے میں آدھی سے زیادہ کم ہے ؟

جاوید بلوانی:  پیداواری معاملہ بھی ٹیکسٹائل پالیسی میں تھا، ہم مون سینٹو بیج کےلیے بہت لڑے ہیں، انڈیا کی پیداوار ہم سے کم تھی اسی بیج سے اس کی پیداوار دگنی ہوگئی ہے۔ پاکستان میں بیج کے بھی ریسرچر تھے ہمارے بیج کی دنیا بھر میں طلب تھی۔

جنگ: کپاس میں ہماری پیداوار کیوں بہتر نہیں ہورہی ؟

جاوید بلوانی: اس کے لیے سرکاری پلاننگ کی ضرورت ہے، کوئی بھی شخص کسی چیز کی کاشت اپنا فائدہ دیکھ کر کرتا ہے ،ماضی میں کپاس سے کئی کسانوں کو نقصان ہوا ہے۔ لہذا صورت حال برقرار رکھنے کے لیے منصوبہ بندی کرنا پڑتی ہے، حکومت کا فرض ہے کہ وہ کاشت کار کو نقصان سے بچائے، یہ کام نہیں ہوئے جس کی وجہ سے کپاس کی پیداوار میں کمی آرہی ہے۔

اس پرحکومت کی کوئی پالیسی نہیں ہے۔ گندم کی بھی یہ ہی صورت حال ہے کبھی ایکسپورٹ ہوتی ہے کبھی امپورٹ۔ ہمارے یہاں مانٹیرنگ کا کوئی نظام ہی نہیں ہے۔ جب ٹیکسٹائل پالیسی بن رہی تھی تو وزیر زراعت ہم سے پوچھتا تھا کہ آپ کے پاس ڈیٹا کہاں سے آیا۔ ہم نے فصلوں کے ریکارڈ کے لیے ڈیٹا جمع کر رکھا تھا، سندھ پنجاب میں فی ایکٹر کتنی فصل پیداوار ہورہی ہے فی ایکڑ اخراجات کیا ہورہے ہے، صوبوں میں پیداواری اخراجات میں کیا فرق ہے۔

ہمیں اسی ریسرچ میں معلوم ہوا تھا کہ پاکستان میں سب سے پہلے کاٹن کی فصل بلوچستان میں ہوتی تھی اس کے بعد سندھ اور پھر پنجاب میں کاشت ہوئی ،رواں برس کپاس کی کاشت میں سندھ پہلے نمبر پر ہے پہلے پنجاب ہوتا تھا۔ پیداواری صورت حال کی بہتری کے لیے حکومت کو سنجیدگی سے کام کرے، زراعت، انڈسٹری، انجئیرنگ کے لیے ریسرچ سیل بنانے کی ضرورت ہے، جہاں لوگ دنیا کا جائزہ لیں۔

جنگ: اس سال ہماری برآمدات کا مستقبل کیا ہے ؟

جاوید بلوانی: کراچی چیمبر کا کہنا ہے جب فائنل ٹیکس ہے تو سپر ٹیکس کیوں لیا جارہا ہے ،سپر ٹیکس ایک مرتبہ کےلیے آیا تھا پہلے آئی ڈی پیز کے لیے کہا گیا پھر بجٹ خسارے کےلیے اور اب مستقل کرنے کا کہا جارہا ہے۔ سپریم کورٹ میں آٹھ ججوں نے یہ کیس سنا تھا۔

جاوید بلوانی
جاوید بلوانی

پہلے تین نے اور پھر پانچ نے سنا یہاں ایک مہینے میں نمٹا دیا گیا ایک مہینے میں آرڈر بھی جاری کردیا گیا فیصلہ بھی مختصرہے ۔جب 300 ملین مارکیٹ نکال لیں گے تو ایک بلین سے زیادہ رقم ہوگئی۔ انڈسٹری کا بہت برا حال ہوجائے گا۔ ہماری ایکسپورٹ بڑھنے کی وجہ زیرو ریٹڈ ہونا تھا۔ اس زمانے میں شرح سود کم تھا فنانس ریٹ کم تھا اور رقم ہروقت ہاتھ میں ہوتی تھی۔ ہم کئی سالوں سے کہہ رہے ہیں کہ بینک ٹو بینک ایل سی شروع کریں لیکن نہیں کی جارہی۔

جنگ: ایل سی کھولنے میں کسی قسم کی دشواری کا سامنا تو نہیں ہے ؟

جاوید بلوانی: ایل سیز میں کوئی مسئلہ نہیں  آسانی سے کھل رہی ہیں، ایکسپورٹرز کی لیکوڈیٹی روکی جائے گی تو وہ کام نہیں کرسکے گا ان حالات میں  برآمدات بڑھنے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔

جنگ: ملک کے بڑے چیمبر کے صدر ہونے کی وجہ سے ایکسپورٹ کے حوالے سے جب حکومت رابطہ کرتی ہے ،آپ نے کوئی تجاویز حکومت کو دیں ؟

ریحان حنیف: ایکسپورٹ کے اضافے میں ہی پاکستان کی بقا ہے،اگر اس میں اضافہ نہیں ہوگا تو ملک میں غیرملکی زرمبادلہ کی کمی ہوگی۔ اگر ایکسپورٹ میں اضافہ ہوتا ہے تو انڈسٹرلائزیشن میں بھی اضافہ ہوگا، جس سے روزگار بڑھے گا، ٹیکس بڑھے گا۔ جس سے حکومتی آمدنی میں اضافہ ہوگا۔ پاکستان کی سالمیت اور خود مختاری ایکسپورٹ کے اضافے میں ہے۔

ریحان حنیف
ریحان حنیف

ورنہ ہمیں لوگوں سے مانگنے کے لیے جانا پڑتا ہے ہم فارن ایکسچینج مانگتے ہیں جس کے جواب میں ان کی باتیں تسلیم کرنا پڑتی ہیں، ایکسپورٹ پاکستان کی سالمیت کی ضمانت ہے۔ ایکسپورٹ نہ بڑھنے کی وجہ ہماری پیداواری لاگت ،شرح سود، بھاری ٹیکسز، پانی، گیس سب مہنگا ہے۔

اگر حکومت ان چیزوں کو قابو کرلے تو ہماری ایکسپورٹ میں مناسب اضافہ ممکن ہے۔ دوسری بڑی وجہ نئے سیکٹرز کا تلاش نہ کرنا ہے۔ کاروبار کا عالمی اصول ہے دنیا میں جہاں بھی کسی مال کا خریدار50 سے 60 فیصد خریدتا ہے کاروباری نقطہ نگاہ سے یہ بہت خطرناک بات ہوتی ہے کیوں کہ کسی دن وہ خریدار غائب ہوگیا تو آپ کا مال فروخت ہونا بند ہوجائے گا، لہذا کسی ایک پر انحصار نہیں کیا جاتا۔ 

ایکسپورٹ میں ٹیکسٹائل ہماری 60 فیصد ہے، ہم زرعی ملک ہیں، دودھ کی پیداوار میں ہمارا دنیا میں پانچواں نمبر ہے، جب کہ ہماری اپنی مارکیٹ میں امپورٹڈ دودھ مکھن فروخت ہورہے ہیں، آخر کیا وجہ ہے ہماری تیار شدہ ڈیری مصنوعات بیرون ملک ایکسپورٹ کیوں نہیں ہوسکتی، ہمارے پاس معیاری گلاب وافر مقدار میں موجود ہے، جسے ہم ضائع کررہے ہیں، نیدر لینڈ کا ائیر فریشنردنیا میں سب سے اچھا تسلیم کیا جاتا ہے اس کا یہ آئیٹم بہت ایکسپورٹ ہوتا ہے، ہمارے پاس گلاب کا وافر خام مال موجود ہے جسے ضائع کیا جارہا ہے۔

ٹیکسٹائل کو علیحدہ کرنے کے بعد وزارت کامرس کو ان ہی خطوط پر مختلف سیکٹر پر کام کرنے کی ضرورت تھی، قدرت نے ہمیں ہرشے سے نوازا ہے جسے ضائع کیا جارہا ہے۔

جنگ: ہم گندم کپاس چینی  ایکسپورٹ کررہے تھے اب وہ بھی امپورٹ ہورہی ہے؟

ریحان حنیف: اگر ہمارے پاس وافر گندم موجود ہے تو اسے ایکسپورٹ کرنے کے بجائے اس سے بنی ہوئی اشیا ایکسپورٹ کرنا چاہیے، پاستا نوڈلر دنیا کیا کچھ بنا کر فروخت کررہی ہے ،بھارت چپس کا بڑا ملک بن گیا ہے۔

وزارت کامرس کویہ سوچنا چاہیےکہ ہماری گندم بنی مصنوعات کس طرح ایکسپورٹ ہوسکتی ہیں، ایک ملین ڈالر کی گندم ایکسپورٹ کرنے کے بجائے اس سے تیار اشیا پانچ ملین ڈالر میں بیچا جائے۔ ایکسپورٹ نہ بڑھنے کی دو بڑی وجوہات ہیں پہلا لاگت اوردوسرا نئے سیکٹرز تلاش نہ کرنا۔

جنگ:  اشیا کی پیداواری لاگت میں کیسے کمی کی جاسکتی ہے آپ حکومت کو کیا تجویز کریں گے ؟

ریحان حنیف: بجلی گیس سستی اور شرح سود کم کردیں۔ امریکا میں کمبوڈیا کی گارمنٹس فروخت ہوتی ہے ۔ہم لاگت کی وجہ سے پیچھے ہیں۔ حکومت کو نئے سیکٹرز تلاش کرنے میں توجہ دینا ہوگی۔

جنگ: حکومت نے برآمدات بڑھانے کے لیے جو پیکج دیا ہے اس کا کتنا فائدہ ہوگا ؟

ریحان حنیف: بجلی میں چار روپے کم کرنا اچھا اقدام ہے لیکن یہ اونٹ کے منہ میں زیرہ ہے۔

جنگ: ہم نے ٹیکس ریٹ میں بھی دوبارہ جائزہ لینے کا سنا ہے ؟

ریحان حنیف: ایکسپورٹ سالمیت کی ضمانت ہے اسے آزاد چھوڑ دو،ایکسپورٹر کو کہا جائے یہ میدان کھلا ہے آپ کو کوئی تنگ نہیں کریں گا صرف ایکسپورٹ بڑھاو۔سپرٹیکس سے جب زیادہ پیسہ ہماری جیب سے نکل جائے گا تو پھر کام کس طرح ہوگا، اب کیا ہم کاروبار کے لیے دس سے ساڑھے دس فیصد پر بینک سے لون لیں گے اس طرح کام نہیں ہوسکتا۔

جنگ: شرح سود میں پہلے کےمقابلے میں نمایاں کمی آئی ہے ؟

ریحان حنیف: ہم کہتے ہیں اگر شرح سود خطے میں 15 فیصد ہے ہمارا بھی کردیں، پورے خطے میں شرح سود چھ سے سات فیصد ہے۔ سپرٹیکس کی صورت میں 300 ارب روپے بھی ایکسپورٹر کی جیب سے نکل جائے گا یہ بہت بڑی رقم ہے۔جب دکان سے مال خالی ہوجائے گا تو پھر کیا بیچو گے۔

جنگ: حکومت کی ریفنڈ پالیسی کیا جاری ہے ؟

ریحان حنیف:حکومت نے دینے کا کہا ہے۔

جنگ: پہلے ایکسپورٹ پروموشن بیورو بنا اب ٹڈاپ یعنی ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی ہے لیکن ایکسپورٹ بڑھانے میں کیوں ناکام ہیں ؟

زبیر موتی والا
زبیر موتی والا

زبیر موتی والا: ہمارے دور میں ایکسپورٹ  تین ارب ڈالر بڑھی تھی، چاول میں دو ملین کا اضافہ تھا ہم نے ہرسیکٹر میں کام کیا تھا۔ میز ویت نام میں ہم نمبر ون ایکسپورٹر ہیں سیسماسیڈ چین میں سب سے زیادہ ایکسپورٹ کرتے ہیں۔ 

آگے بڑھنے کے لیے سادہ طریقہ ہے ،ہم نے تمام فری ٹریڈ ایگریمنٹ کا مطالعہ کیا ،ہم نے دیکھا کہ ہم کیا بناتے ہیں لیکن اسے ایکسپورٹ نہیں کرتے، اگر ہم فری ٹریڈ ایگریمنٹ میں ہیں تو جو پاکستان میں بن رہی ہے اسے ایکسپورٹ کرنا چاہیے۔

ہمارے یہاں ان بنیادی باتوں کا بھی علم نہیں ہے، چین ہمارا سب سے اچھا دوست ہے لیکن میں اس کے ساتھ فری ٹریڈ ایگریمنٹ سے خائف ہوں۔ ہماری ان سے کل تجارت 22 سے 23 بلین ڈالر کی ہے، پچھلے چند سال ہمارا ان کے ساتھ تجارتی خسارہ بڑھ رہا ہے ۔ہم 19 بلین ڈالرکا چین سے مال لیتے ہیں اور تین بلین کا چین کو بیچتے ہیں ۔میں نے ایک میٹنگ میں چینی حکام سے اس صورت حال کا پوچھا۔

اگر چین سے ہمارا یہ فرق ختم ہوجائے ہماری ایکسپورٹ کے حالات بہتر ہوجائیں گے ،چین ہمارا بہت اچھا دوست ہے لیکن وہ فیصلے کمرشمل بنیادوں پرکرتا ہے، وہ ہم سے مال اچھی کوالٹی سستا ہونے پرخریدتا ہے ۔جب تک ہم کمپٹیٹو نہیں ہوں گے کچھ بھی نہیں ہوسکتا۔ ابھی بہت سی چیزیں ہیں جو ہم چین کو بیچ سکتے ہیں اس پرحکومت کام کرے، ہم امریکا اور یورپی یونین کوبھی اپنے صلاحیت سے کم ایکسپورٹ کرتے ہیں۔

ہم میں اہلیت ہے، ٹیکسٹائل کی مثال لیں ہم سارے برانڈ ایکسپورٹ کرتے ہیں۔ میں نے لاہور میں ہیلتھ اور انجیئرنگ کی نمائش کروائی تھی، وہاں افریقہ سے بیس رکن وفد آیا ،ان میں سے 19 نےایک ہی بات کہی ہمیں یقین نہیں آرہا یہ پاکستان ہے آپ کی اشیا کم قیمت پر اچھی کوالٹی کی ہیں۔ 

ہماری کامیاب نہ ہونے کی وجہ حکومت پاکستان ہے وہ کمفرٹ زون میں زندہ ہیں ۔ وہ سوچتے ہیں اوور سیز سے زرمبادلہ کی شکل میں35 سے 38 ملین ڈالر آجاتا ہے30 بلین سے کچھ اوپر کا ایکسپورٹ ہوجاتا ہے اس طرح ہمارا تجارتی خسارہ قابو میں ہے ملک چل جائے گا۔

وہ یہ بھول رہے ہیں کہ ایکسپورٹ ملک کے لیے صرف ڈالرکمانے کا ذریعہ نہیں ہے اس سے انڈسٹری چلتی ہے جس سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ ایکسپورٹ کا براہ راست تعلق لااینڈ آرڈرحالات ،بنیاد پرستی اور انتہا پسندی سے ہے، یہ تینوں چیزیں بے روزگاری کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔ پاکستان میں ڈھائی سے تین فیصد پاپولیشن گروتھ ہے

حکومت کو دیکھنا چاہے کہ اگر روزگار کے نئے مواقع پیدا نہیں ہوں گے تو یہ آبادی کیا کرے گی۔

جنگ: حکومت فوری ایسے کون سے اقدامات کرے جس سے ایکسپورٹ بڑھے ؟

زبیر موتی والا: ہمیں اعتماد میں لیئے بغیرحکومت فیصلے کرتی ہے ،ہماری بات نہیں سنی جاتی حکومت سمجھتی ہے کہ ہم زاتی فائدے کی بات کریں گے۔حکومت بھول رہی ہے اگر ہم نے ایک مرتبہ ایکسپورٹ کا کسٹمر چھوڑا تو دوبارہ ملنا بہت مشکل ہوتا ہے کیوں کہ ہمارے چھوڑنے پر وہ کسی اور ملک سے مال لے گا اور ایک دفعہ تعلق بن جائے تو وہ دوبارہ کہیں اور نہیں جاتے۔

ہمارا حکومت کو مشورہ ہے ہیں وہ ہماری پیداواری لاگت خودطے کرے جس کےلیے وہ انٹرنیشنل ایجنسیاں ہیں مثلاً ایس جی ایس،کوٹیکنا، مرسی وغیرہ ان سے یہ کام کرالے، ہم نے گورنمنٹ کو ٹیکسٹائل ایسوسی ایشن سے اس کام کےلیے پیسے فراہم کرنے کی بھی پیش کش کی ہے، ہم نے ماضی میں بھی ایسا کیا تھا۔

جنرل مشرف نے اپنی حکومت کے پہلے تین سال پاکستان کی بڑی خدمت کی تھی۔ فیلڈ مارشل سے بھی ہماری ملاقات رہی میں سمجھتا ہوں انہیں بتایا نہیں گیا ہے، اس ملک میں بیوروکریسی بہت طاقتور ہے۔ بنگلہ یش کی ملوں میں زیادہ تر پاکستان سے گئے لوگ کام کررہے ہیں یہاں سے لوگ وہاں جاکر سرمایہ کاری کررہے ہیں آخر کوئی تو وجہ ہوگی اس وجہ کو ڈھونڈنے کی ضرورت ہے۔ 

بنگلہ دیش کا گیس میں ہم سے چالیس فیصد قیمت کا فرق ہے بجلی میں 35 سے 55 فیصد کا قیمت کا کٹیگری ٹو کٹیگری فرق ہوتا ہے وہاں پانی مفت ہے ہماری دو روپے تو پانی کی لاگت آتی ہے، پھر کم ازکم اجرت ہمارے ان کے درمیان تیس ڈالر کا فرق ہے وہ ایکسپورٹر سے ٹیکس کے بجائے انسینٹیو دیتے ہیں، وہ بیک ٹو بیک ایل سی کی اجازت بھی دیتے ہیں،اور وہ دس دن میں ریفنڈ دینے کو یقینی بناتے ہیں اور اگر دیر ہوئی تو حکومت اس پر انٹرسٹ ادا کرے گی۔

جنگ: حکومت کو بنگلہ دیش ماڈل اپنانے کی سفارش کریں ؟

زبیرموتی والا: ہم نے کہا تھا لیکن وہ ناراض ہوگئے۔ اتنی مشکل حالات میں یہاں کون سرمایہ لگائے گا، آج دنیا کھلی ہوئی ہے۔ اگر میرے پاس سرمایہ ہوگا تو میں بنگلہ دیش میں انڈسٹری لگاؤں گا، بنگلہ دیش میں ہمارے ایک صنعت کار نے سات ہزار لوگوں کو ملازمت دے رکھی ہے۔ جب کہ پاکستان میں ہراسمنٹ کا ماحول ہے، روزانہ نوٹسز ،37 اے جو گرفتاری کی اختیار دیتا ہے۔ میں اپنی فیکٹری میں کام کررہا ہوں گا وہ کسی ثبوت کے بغیر گرفتارکرلے گا۔

جنگ: ایس آئی ایف سی بنائی ،معدنیات کی پالیسی بنائی معیشت کو دیکھنے کے لیے آئی ایس آئی میں ونگ بنایا ہے ان کوششون کا کتنا فائدہ ہوا ہے۔

زبیرموتی والا: ایس آئی ایف سی نے اچھا کام کیا ہے ان کے پاس تمام معلومات آگئی ہیں۔ اس کے سربراہ جنرل سرفراز نے چند دن قبل تقریر کرتے ہوئے کہا کہ جب تک سپر ٹیکس ختم نہیں ہوگا سرمایہ نہیں آئے گا اور ٹیکس میں کمی کی بھی بات کی کیوں کہ اس ٹیکس ریٹ میں سرمایہ کاری نہیں ہوسکتی اور جب تک مقامی سرمایہ نہیں آئے گا غیرملکی سرمایہ کار کو ہم نہیں لاسکتے۔

ہم سے آئی ایس آئی والوں نے بھی پوچھا تھا لیکن ہمارا سوال یہ ہے کب تک پوچھتے رہیں گے اب نتیجہ آنا چاہیے ہمیں کمفرٹ زون سے نکلنا چاہیے۔ ہمارا 60 فیصد ایکسپورٹ ٹیکسٹائل ہے تو پھر اس کی منسٹری ختم کرنے کی کیا ضرورت ہے اسے بحال کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان 25 کروڑ آبادی کا ملک ہے کامرس منسٹری دیگر چالیس فیصد شے پر کام کرے، انجیئرنگ، پلاسٹک بے حساب چیزیں ہیں جس پر کام کرنے کی ضرورت ہے ۔

جنگ: اگر پالیسی ٹھیک ہوجائے تو اسی صلاحیت پر جو ایکسپورٹ ہورہی ہےاس میں مزید کتنا اضافہ ہوسکتا ہے ؟

زبیرموتی والا: آج ٹیکسٹائل کی ویلیوایڈ لیں تو اس میں 30 سے 35 فیصد ویلیو ایڈڈ ہے اگر ویلیوایڈڈ کو ڈبل کردیں یہ 70 فیصد ہوگا، ہماری صلاحیت تو اس سے بھی زیادہ کی ہے،لیکن اگریہاں پہنچ جائیں توصرف ٹیکسٹائل کی ایکسپورٹ 33 بلین ڈالرہوجائے گا جو ابھی13 سے 14 بلین ڈالر ہے۔

ایکسپورٹ فیسلی ٹیشن اسکیم ٹھیک چل رہی تھی اچانک واپس لے لی ،پہلے ایف ٹی آر تھا اسے این ٹی آر کردیا ایف ٹی آر 30 سال سےچل رہا تھا اسے بدل کر رکھ دیا اب نارمل سے زیادہ ٹیکس بھرنا پڑرہا ہے ایکسپورٹ کسیے بڑھے گی۔

جنگ: ایکسپورٹ بڑھانے کے لیے سائیٹ ایسوی ایشن کے پاس کوئی فارمولا ہے ؟

احمد عظیم علوی: پاکستان کا 14 فیصد ایکسپورٹ سائیٹ سے ہوتا ہے ۔جب تک صنعت کار کو پرسکون ماحول نہیں ملے گا اس کےلیے کام کرنا بہت مشکل ہے، یہاں  روزانہ نیا ٹارچر مل رہا ہے، حکومت کے ادارے تو موجود ہیں لیکن کسی دن پانی نہیں تو کسی دن کچی آبادی والے حملہ کردیتے ہیں کسی دن نیا مسئلہ کھڑا ہوجائے گا، جب صنعت کار کو ذہنی سکون ہی نہیں تو وہ باہر کے خریدار سے کیا بات کرے گا، پچھلے پانچ دن سے سائیٹ میں پانی نہیں تھا جن کے آرڈر تھے وہ پریشان تھے۔

احمد عظیم علوی
احمد عظیم علوی

غیرملکی کمٹمٹ کے معاملے میں بڑے ڈسپلن ہوتے ہیں اگر ایک مرتبہ کام بروقت کرنے میں ناکام ہوجائیں تو وہ آئندہ کے لے صاف کہہ دیتا ہے آپ لوگ زبان کا پاس نہیں رکھتے ہم آئندہ آپ کے ساتھ کام نہیں کریں گے، یہ باتیں ہماری بیورو کریسی نہیں سمجھتی۔ ہمیں یہ طے کرنا چاہیے کہ پاکستان کے سات آٹھ دماغ منتخب کرکے ان کی بات سنیں اور سمجھیں۔

جنگ: ریسرچ اور ڈیولپمنٹ کی بڑی اہمیت ہے ایکسپورٹ کے لیے کیا سائیٹ ایسوسی ایشن اہمیت دیتی ہے ؟

احمد عظیم علوی: کراچی چیمبر میں ایک سیل ہے ہم یہاں بھی اسے کھولنا چاہتے ہیں جہاں ہم ٹیکنیکل ٹریننگ دے سکیں۔

جنگ: سائیٹ ایسوسی ایشن ایکسپورٹ بڑھانے کے لیے حکومت کو کیا مشورے دے گی ؟

احمد عظیم علوی: ہماری بنیادی ضرورتیں دروازے پر فراہم کی جائیں، ہمیں پانی فراہم کیا جائے، انڈسٹری سے پانی بجلی گیس کی سو فیصد ریکوری ہے۔ ہمارا سرکلر ڈیبٹ میں کوئی حصہ نہیں ہے ہم دے رہے ہیں ہم ہر طرح سے حاضر ہیں، بس حکومت سے گزارش ہے انڈسٹری کی بنیادی ضرورت پوری کرے اور کراچی کے صنعتی علاقوں کو محفوظ ماحول فراہم کردیں ،آج کئی جگہ سے لوگ بھتے کی پرچیوں کی اطلاع دے رہے ہیں حکومت اس معاملے کو سنجیدگی سے حل کرے۔

جاوید بلوانی: انڈسٹری اور سرمایہ باہر جارہا ہے، حکومت سنجیدہ ہوجائے۔

ریحان حنیف: بیرون ملکوں میں ہمارے کمرشل اتاشی کی کیا کارکردگی ہے حکومت کو ہی دیکھنا چاہئے، بھارت سے یورپی یونین معاہدہ سے حکومت پاکستان کو آگاہی کیوں نہ ہوئی، یہ بڑا دھچکا ثابت ہوگا۔

زبیر موتی والا: آگے کا وقت مزید مشکل ہے بھارت کا امریکا سے ڈیل ہونے جارہی ہے اگر چار چھ مہینے میں وہ بھی آگئی تو پھر کہاں جائیں گے، گزشتہ ماہ یورپی یونین اور بھارت کے مابین آزاد تجارتی معاہدہ FTAہوا، بھارتی وزیراعظم نے اسے ’’مدر آف آل ڈیلز‘‘ قرار دیا۔ معاہدے کے تحت بھارت 27یورپی ممالک کو بغیر کسٹم ڈیوٹی ٹیکسٹائل سمیت دیگر مصنوعات ایکسپورٹ کرسکے گا جس کے بدلے بھارت اپنی بڑی مارکیٹ ان 27ممالک سے فری ٹریڈ کیلئے کھولے گا اور اس طرح دنیا کا سب سے بڑا فری زون بھارت اور یورپی یونین 25سے 30فیصد گلوبل GDP اور 2 ارب افراد کیلئے معاشی مواقع فراہم کرینگے جسکے تحت یورپی یونین اور بھارت بغیر ڈیوٹی تجارت کرسکیں گے۔ خدشات ہیں کہ اس معاہدے سے پاکستان کی یورپی یونین ٹیکسٹائل بالخصوص ہوم ٹیکسٹائل ایکسپورٹ متاثر ہوسکتی ہیں۔ 

بھارت سے EU ڈیوٹی فری ایکسپورٹ مصنوعات میں ٹیکسٹائل، لیدر، جیمز اینڈ جیولری، انجینئرنگ گڈز اور کیمیکلز شامل ہیں جبکہ EU سے بھارت ایکسپورٹ میں آٹو موبائل، مشینری، کیمیکلز، فارماسیوٹیکل، میڈیکل آلات اور کچھ فوڈ آئٹمز شامل ہیںیورپی یونین کے ساتھ بھارت کی ڈیل کے جواب میں حکومت سے پوچھنا چاہیے کہ وہ اس سے نمٹنے کے لیے کیا کرنے جارہی ہے۔