• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نظام بدلنا ہوگا: انتخابات چراکر حکم رانی کرنے سے ملک آگے نہیں جائے گا

میزبان: محمد اکرم خان ایڈیٹر، جنگ فورم 

رپورٹ : سلیم اللہ صدیقی

تصاویر: جنید احمد

آئین اور قانون کی بالادستی قائم کئے بغیر ترقی ناممکن ہے۔ کبھی یہاں جمہوریت لائی جاتی ہے کبھی ہائی برڈ نظام کا تجربہ کرکے کام چلایا جاتا ہے، کبھی الیکشن میں دھاندلی کرکے حکومتیں بنتی ہیں۔

ان تجربات کے اثرات ملک پر آتے ہیں اس کا معیشت ، کاروباراور روزگار پراثر پڑتا ہے جس کا براہ راست تعلق نوجوانوں کے مستقبل سے ہے، نوجوان ہمارا اثاثہ اور بوجھ دونوں بن سکتے ہیں۔حکومت کی ذمہ داریوں میں معیاری تعلیم ،کاروبار، روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور مضبوط معیشت بنانے کے اقدامات شامل ہیں۔

ہمارا آج کا نوجوان بیرون ملک جاکر کامیاب زندگی گزارنے پر مجبور ہے پچھلے سال15 لاکھ افراد بیرون ملک گئے ہیں۔ ترقی کے لیے معاشی اور سیاسی استحکام ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ پاکستان کے پاس مثبت سوچ رکھنے والی لیڈرشپ نہیں ہے۔

اسٹیبلشمنٹ کاملک کے آئین میں کردار واضح ہے۔ وہ اپنے کردار سے جب باہر نکلتے ہیں تو ملک کو نقصان پہنچتا ہے۔ ملک میں تین بڑی جماعتیں ہیں کبھی نہ کبھی اقتدار میں رہی ہیں، ان کے پاس کوئی سوچ ہے نہ صلاحیت اور صاف نیت اور نہ دیانت دار ی۔

پاکستان کے انتخابی عمل سے عوام کا اعتبار ختم ہوگیا ہے ۔جب تک انتخابات میں مداخلت ہوتی رہے گی بہتری نہیں آئے گی۔ پنجاب میں کوشش ہے کہ وہاں بلدیاتی الیکشن براہ راست بیلٹ سے نہ ہوں، جو لوگ منتخب ہوں انہیں قابو کرکے اپنے چیئرمین منتخب کرالیں، جب نیت ٹھیک نہ ہو تویہ نظام ناکام ہوگا۔ سفارتی تعلقات معیشت کو ٹھیک کرنے میں مدد دیتے ہیں، سفارت کاری سے مراد تجارتی تعلقات ہیں۔ معیشت کا ٹھیک نہ ہونا حکومتی نااہلی ہے۔

پاکستان دنیاکا واحد ملک ہے جہاں پانچ نظام تعلیم ایک ساتھ چل رہے ہیں، پاکستان کو معیاری تعلیم نظام کی ضرورت ہے۔ سارے بورڈز ختم کرکے ایک نظام لانا پڑےگا۔ نیب نے ثابت کیا وہ پاکستان کا سب سے کرپٹ ادارہ ہے، نیب کوختم کردینا چاہیے۔ کراچی کے شہریوں کو پانی نلکوں کے بجائے ٹینکر سے دیاجاتا ہے، یہاں پانی پر حکمران اشرافیہ قابض ہے۔

کراچی میں کوئی پوچھنے والا نہیں، یہ ہی حال وزیراعلیٰ پنجاب کا ہے سارے پیسے لاہور میں لگا دیئے ہیں۔ پاکستان کو ریفارمز کی ضرورت ہے۔ صوبے چھوٹے ہوں تو مسائل حل ہوسکتے ہیں  ۔سب کے تحفظات کو مدنظر رکھ کر نئے صوبے بنانا چاہیے۔ آئین کے تحت صوبوں کو وسائل کے ساتھ ذمہ داری بھی دی جائے۔ گیس اور بجلی کی تقسیم صوبے کی ذمے داری ہے یہ دونوں صوبوں کے حوالے کریں۔

پاکستان میں سرمایہ کاری نہ آنے کی بڑی وجہ سرمایہ کاروں کا ہمارے لیگل سسٹم پر اعتماد کا نہ ہونا ہے۔ جج جو مرضی کرلیں کوئی پوچھنے والا نہیں۔حکومتی پالیسی معیشت کی گروتھ کے لیے ہونی چاہیے۔

ہم زرعی ملک ہیں لیکن ہمارے کسانوں کی حالت خراب ہے، ڈھائی کروڑ بچے اسکول سے باہر ہیں جو پاکستان پر سب سے بڑا بوجھ بنیں گے، ہم ججوں میں کروڑوں مالیت کی گاڑیاں بانٹ رہے ہیں، 10 ارب کے جہاز خرید رہے ہیں لیکن بچوں کے لیے تعلیم کی فکر نہیں ہے۔ 

پچھلے 15 برسوں میں ہر پاکستانی گھرانے کی آمدنی میں اضافے کے بجائے کمی ہوئی۔ سیاست میں آنے والے کو اپنے اثاثے اور ٹیکس سامنے لانا چاہیے۔ پاکستان کے پارلیمنٹرین کی اکثریت ٹیکس نہیں دیتی۔

ہم  جنگ فورم کے خصوصی پروگرام ایوان خاص کے ساتھ حاضر خدمت ہیں، ہمارےآج کے مہمان سابق وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی ہیں ۔وہ نئی سیاسی جماعت عوام پاکستان کے چیئرمین ہیں۔ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے نئی جماعت کی بنیاد اس وقت ڈالی جب ان کی جماعت حکومت میں تھی۔

ان کے اس اقدام سے اصولی موقف اور مفادپرست سیاست سے ان کی ناپسندیدگی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔جو پاکستانی سیاست میں اچھی مثال ہے ۔ آج ہم ان سے "پاکستان کی سیاست اور معیشت کا مستقبل" کے موضوع پران سےگفتگو کریں گے۔

پاکستان کی داخلی سیاست میں کیا ہورہا ہے، اس میں تقسیم زیادہ ہے یا انتشار بڑھ رہا ہے، ہماری سیاست میں ہائی برڈ رجیم کا بھی بڑا چرچا ہے بعض کے خیال میں سیاسی اسپیس میں کمی آئی ہے جس سے پارلیمنٹ کمزور ہوئی ہے۔

ایسے میں ایک نئی سیاسی جماعت کا جنم لینا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے، پاکستان کی سیاست میں پارلیمان کا کیا مستقبل ہے, دوسرا معاملہ خارجہ امور کا ہے، تازہ ترین مشرق وسطی کا تنازعہ جس میں ایران امریکا جنگ میں پاکستان ثالثی کا کردار ادا کررہا ہے، اس میں پاکستانی کردار کیسا ہے، اس تنازعے کے پاکستان پر کس طرح کے معاشی اور خارجہ امور پراثرات پڑیں گے، پاکستان کی معیشت شدید دباؤ میں ہے قرضوں کا بڑھتا دبائو، توانائی کا بحران، بڑھتی مہنگائی یہ سب کچھ سامنے ہے، اس طرح کے بہت سے سوالات پر شاہد خاقان عباسی اپنی سیاسی سوچ کے مطابق بات کریں گے۔

ان کے ساتھ سابق وفاقی وزیرخزانہ اور عوام پاکستان کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر مفتاح اسماعیل اور دادا بھائی فاونڈیشن اور دادا بھائی گروپ آف کمپمنیر کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر حبیب اللہ دادا بھائی بھی موجود ہیں، جنگ فورم کا اہتمام دادا بھائی انسٹی ٹیوٹ آف ہائر ایجوکیشن میں کیاگیا تھا تفصیلی رپورٹ حاضر خدمت ہے۔

جنگ: پاکستان کے حالات کو مجموعی طور پر کس طرح دیکھتے ہیں؟

شاہد خاقان عباسی: آج ہر دوسرا شخص پاکستان کے مستقبل پرفکرمند ہے ،خاص طور نوجوان پوچھتے ہیں کہ پاکستان کا مستقبل کیسا ہے اوراس میں کیا ہماری جگہ ہے۔ اگر نہیں تواس کا بہتر حل کیا ہے ہمارا مستقبل کیسے بہتر ہوگا ۔ہم سمجھتے ہیں جس ملک میں آئین اور قانون کو بالادستی حاصل نہیں ہو وہ کبھی ترقی نہیں کرسکتا۔ یہ بات بڑی عام سی معمولی نظر آتی ہے ،لیکن یہ کامیاب دنیا کا تجربہ ہے اور بنیادی حقیقت ہے۔

آئین اور قانون کی بالادستی قائم کئے بغیرترقی ناممکن ہے ۔ہمیں اپنے مفادات کے حصول اور ترقی کےلیے آئین اور قانون پرعمل کرنا پڑے گا ۔ پچھلے سال جن تین لوگوں کو معیشت کا نوبل پرائزملا، ان کی ریسرچ کے مطابق جن ملکوں پر نوآبادیاتی طاقتیں حاوی تھیں، جب وہ طاقتیں واپس گئیں تو ان کے جانے کے بعد ان ملکوں نے ترقی کی یا نہیں کی، ان تینوں کا ایک نکتے پراتفاق تھا جن ملکوں نے بھی آئین اور قانون پرعمل کیا اس نے ترقی کی جس نے عمل نہیں کیا وہ ترقی نہیں کرسکا۔

پاکستان میں نظام چلانے کے لئے تجربات ہوتے رہے ہیں ۔کبھی یہاں جمہوریت لائی جاتی ہے کبھی ہائی برڈ نظام کا تجربہ کرکے کام چلایا جاتا ہے، کبھی الیکشن میں دھاندلی کرکے حکومتیں بنتی ہیں۔ ان تجربات کے اثرات ملک پر آتے ہیں اس کا معیشت، کاروباراور روزگار پراثر پڑتا ہے جس کا براہ راست تعلق نوجوانوں کے مستقبل سے ہے۔ 

نوجوان ملک کا سب سے اہم قیمتی اثاثہ اور ‍ذمہ داری ہیں۔ دنیا میں بہت کم ایسے ملک ہیں جہاں اکثریت نوجوانوں کی ہے، ہماری دوتہائی آبادی کی عمر تیس سال سے کم ہے ،یہ نوجوان ہمارا اثاثہ اور بوجھ دونوں بن سکتے ہیں ۔ملک کے نوجوان کو بہترمستقبل دینے کی بنیادی ذمہ داری حکومت کی ہوتی ہے۔

حکومت کی ذمہ داریوں میں معیاری تعلیم ،کاروبار اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور مضبوط معیشت بنانے کے اقدامات شامل ہیں ۔ہمارا آج کا نوجوان بیرون ملک جاکر کامیاب زندگی گزارنے پر مجبور ہے، اگر اچھے موقع اسے اپنی سرزمین پر ملے تو وہ کبھی بھی دوسرےملک نہیں جائے گا۔

پچھلے سال15 لاکھ افراد بیرون ملک گئے ہیں۔ جس میں زیادہ تعداد نوجوانوں کی ہے یہ نوجوان پاکستان کے لیے بہت کچھ کرسکتےتھے ۔وہ بہ مجبوری صرف پیسوں کے لیے اپنی سروسس دوسرے ملک کی معیشت کو دے رہے ہیں۔

نوجوانوں کے لیے بہتر مواقع مہیا نہ کرنا ہماری لیڈرشپ اور سیاست کی ناکامی ہے۔ ہم اسے ہی ٹھیک کرنے کے لیے میدان میں اترے ہیں ،جس ملک میں سیاسی عدم استحکام ہو وہاں ترقی ناممکن ہے ،ترقی کے لیے معاشی اور سیاسی استحکام ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ ہم ایک زمانے سے مسائل کے حل کے لیے معجزانہ حل ڈھونڈتے ہیں ،دنیا میں کہیں بھی مسائل ایسے حل نہیں ہوتے ۔آگے بڑھنے کےلیے نظام ٹھیک کرنا پڑتا ہے ریفارمز لانی پڑتی ہیں۔

اس کی بڑی مثال چین ہے ،دنیا کی تاریخ میں تیزی سے ترقی کرنے والا ملک صرف چین ہےانہوں نے ترقی کا ایک ہی طریقہ ریفارمز کا اختیار کیا۔ آج پاکستان میں ہرنظام ناکام ہے اس کے باوجود ہم ریفارمز نہیں کرتے، اس کی وجہ ملک میں قابض اشرافیہ ہے ۔ہماری ملکی پالیسیاں چند افراد اپنے زاتی مقاصد اور اقتدار کے طول کے لیے استعمال کرتے ہیں، انہیں عوام اور ریاست دونوں کی پروا نہیں ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان کے پاس مثبت سوچ رکھنے والی لیڈرشپ نہیں ہے۔

جنگ : آپ کے مطابق ہمارے نظام میں لوگ اوپر سے مسلط کئے جاتے ہیں، تو پھر آپ نے اپنی پارٹی کی بنیاد کس امید پر قائم کی ہے کیا آپ بھی کسی نرم گوشہ کی تلاش میں ہیں۔

شاہد خاقان عباسی: ہمیں کسی نرم گوشے کی ضرورت نہیں ہے، اسٹیبلشمنٹ ملک کے نظام کا ایک حصہ ہے جس کا آئین میں کردار واضح تحریر ہے۔ وہ اپنے کردار سے جب باہر نکلتے ہیں ملک کو نقصان پہنچتا ہے۔ بدقسمتی سے آزادی کے بعد23 سال بعد ملک میں پہلا الیکشن ہوا، لیکن بدقسمتی سے اس کے نتائج تسلیم نہیں کئے گئے۔

جس کے بعد پاکستان ٹوٹ گیا۔ لیکن ہم نے کوئی سبق حاصل نہیں کیا ،پھر نئی حکومت کے تین سال بعد بڑی مشکل سے پہلا متفقہ آئین بنایا ،لیکن جس لیڈر نے آئین بنانے میں پیش رفت کی تھی اسی نے آئین کے تحت پہلے الیکشن میں دھاندلی کی جس کے اثرات آج تک ملک پر ہیں۔

پھر مارشل لا نافذ ہوئے جس میں سیاست ایک طرف لگ گئی۔ درمیان میں سیاست دانوں کو کچھ اختیارات ملے ہیں، اگر سیاست دان کسی مفاد پرستی میں اصولوں کا سودا نہیں کرتے تو شاید ملکی حالات مختلف ہوتے۔ ترقی کا کوئی شارٹ کٹ نہیں ملک آئین اور قانون کے مطابق چلے گا تو ہی آگے بڑھے گا۔

فورم کو اوپن کرتے ہیں۔

ڈاکٹر امیرحیدر : اگر نوجوانوں کے لیے یہاں کچھ نہیں ہوگا تو برین ڈرین تو ایسے ہی چلے گا۔ آپ کی جماعت کے منشور میں نوجوانوں کے لیے کیا ہے؟

شاہد خاقان عباسی: سارے مسائل کے حل کی بنیاد مضبوط معیشت ہے، جس سے نوجوان کے مسائل بھی حل ہوں گے، بہترین تعلیم حاصل کرنے کی ہر کسی خواہش ہوتی ہے، پھر اچھا روزگار یا کاروباری مواقع ۔جب کاروبار کے اچھے مواقع ہوں گے تو روزگار پیدا ہوگا۔

ہر چیز دوسرے سے جڑی ہے ملک میں سیاسی استحکام کے بغیر معیشت آگےنہیں بڑھ سکتی، ملک میں آئین اور قانون کی حکمرانی ہوگی تو معیشت آگے بڑھے گی، اگر ہم بنیاد ٹھیک نہیں کریں گے اور معجزاتی حل ڈھونڈیں گے اور یہ سوچیں کہ ہمارے اس ملک سے تعلق بہتر ہوگئے تو کچھ پیسے مل جائیں گے اس طرح کے اقدامات سے ہمارے معاملات ٹھیک نہیں ہوں گے ،نوجوان کے مسائل کا حل ان کا بہتر مستقبل مضبوط سیاسی نظام اور مستحکم معیشت میں ہے۔

س: آپ کی جماعت دوسری سیاسی جماعت سے کس طرح مختلف ہے ؟

شاہد خاقان عباسی: ملک میں تین بڑی جماعتیں ہیں اور وہ کبھی نہ کبھی اقتدار میں رہی ہیں وہ آج بھی حکومت چلارہے ہیں، ان کی کارکردگی سامنے ہے۔ ہم سمجھتے ہیں ان کے پاس نہ کوئی سوچ ہے نہ صلاحیت اور نہ ہی صاف نیت اور نہ ہی یہ دیانت دار ہیں۔ میں ایوانوں میں موجود تینوں جماعت سے واقف ہوں،ان میں معاملات سے نمٹنے کی صلاحیت ہی نہیں ہے۔

سیاسی میدان میں نکلنے سے پہلے ہم نے اپنی جماعت میں یہ صلاحیت پیدا کی کیا ہم میں ملکی معاملات سمجھنے ان پر بات کرنے اور حل کرنے کی صلاحیت ہے۔ ہم دعویٰ سے کہتے ہیں ہم واحد سیاسی جماعت ہیں جو ہر معاملے پر ملک کی بات کرتی ہے ملکی مسائل اور اس کا حل بتاتی ہے ایک سیاسی جماعت کی یہ ہی ذمہ داری ہے۔ سیاست کرنے کا مقصد صرف اقتدار حاصل کرنا نہیں ہوتا یہ مقتدا بھی ہوتی ہے۔

جنگ: گلگت بلتستان کے انتخابات ہونے جارہے ہیں ،کیا آپ اس الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں، پنجاب میں بہت عرصے سے بلدیاتی انتخابات نہیں ہوئے ہیں ،اس پر آپ کا کیا موقف ہے؟

شاہد خاقان عباسی: پاکستان کے انتخابی عمل سے عوام کا اعتبار ختم ہوگیا ہے، جب تک انتخابات میں مداخلت ہوتی رہے گی بہتری نہیں آئے گی بلکہ مزید خرابیاں بڑھیں گی ،اسی لیے ہم نے پہلے بھی الیکشن میں حصہ نہیں لیا تھا،کیوں کہ ہمیں وہ خرابی نظرآرہی تھی۔ گلگت بلتستان میں سیاسی جماعت کی رجسٹریشن علیحدہ ہے ہم وہاں رجسٹرڈ نہیں ہیں ،مستقبل میں ضرور حصہ لیں گے۔

ہمارے لوگ وہاں ہیں جو ہماری حمائیت کے ساتھ آزاد لڑنا چاہتے ہیں۔ جہاں تک پنجاب میں بلدیاتی الیکشن کی بات ہے پاکستان میں بلدیاتی الیکشن نہیں ہوتے اورجب ہوتے ہیں تویہ طے ہوتا ہے کہ یہ نظام فیل ہوجائے گا، بلدیاتی نظام کے رکن کا قومی اور صوبائی اسمبلی کے ممبر سے اختیارات کا ٹکراؤ ہے۔

مسائل اور وسائل وہی ہیں جس پر سیاست ہوتی ہے اس لیے حکمراں پارٹی کے اراکین کوشش کرتے ہیں کہ وہ بلدیاتی وسائل پر قبضہ کرلیں جس کے بعد بلدیاتی نظام کا مقصد فوت اور نظام کرپٹ بن جاتا ہے ہمیں پہلے نظام کو ٹھیک کرنا پڑے گا۔ 

پنجاب میں کوشش کی جارہی ہے وہاں بلدیاتی الیکشن براہ راست بیلٹ سے نہ ہوں، جو لوگ منتخب ہوجائیں انہیں قابو کرکے اپنے چیئرمین منتخب کرالیں ،جب نیت ٹھیک نہ ہو تویہ نظام ناکام ہوگا۔

عرفان احمد: آج کل ہماری ڈپلومیسی بڑی کامیاب ہے ۔لیکن معیشت بہتر نہیں ہورہی۔ معاشی صورت حال بہتر کرنے کےلیے آپ نے اپنی پارٹی منشور میں کیا اقدامات طےکئے ہیں ؟

شاہد خاقان عباسی: نظام ٹھیک کئے بغیر کوئی بھی چیز ٹھیک نہیں ہوگی ۔جب الیکشن میں دھاندلی ہوگی قانون اور آئین پر عمل درآمد نہیں ہوگا تو نظام کیسے آگے بڑھے گا۔ غلطیاں ٹھیک کئے بغیر قومی مسائل ٹھیک نہیں ہوں گے، سفارتی تعلقات بدلتے رہتے ہیں سفارتی تعلقات ہی معیشت کو ٹھیک کرنے میں مدد دیتے ہیں ورنہ صرف چند دنوں کی واہ واہ ہوتی ہے۔

سفارت کاری سے مراد تجارتی تعلقات ہیں۔ آپ کس طرح اپنے ملک کےلیے ایکسپورٹ اور امپورٹ کے بہتر مواقع حاصل کرسکتے ہیں ہمیں زیادہ ایکسپورٹ کی ضرورت ہے، آج کے ترکی کی معیشت کی بنیاد ترگت اوزال نے30 سال پہلے رکھی تھی، ترکی بڑے تکلیف دہ صورت حال سے گزرا ہے، وہاں دوسو فیصد تک افراط زر چلی گئی تھی، ہماری جب ان سے ملاقات ہوئی توان کا کہناتھا کہ آپ کی ساری باتیں ٹھیک ہیں لیکن ہمیں بتائیں آپ کیا بیچیں گے اور ہم سے کیا خریدیں گے ،یہ ہی سفارت کاری ہے۔اسی سے باقی تعلقات پیدا ہوں گے۔

جنگ: ایران امریکا تنازع میں پاکستان کا کردار کیسا ہے؟

شاہد خاقان عباسی: ہمارا کردار سہولت کاری کا ہے لیکن معاملہ پیچیدہ ہے ،اس میں ایک ملک دوسرے پر بلاجواز حملہ آور ہوا ۔حملہ آور کو امید تھی دوسرا فریق جلد بات چیت پر آمادہ ہوجائے گا لیکن ایسا نہیں ہوا ایران نے جنگ کو گلوبلائیز کردیا ہے۔

اس میں اس کو بہت نقصان ہوا لیکن  خلیجی ممالک کو بھی نقصان ہوا ہے اور آخر میں یہ سارا نقصان مسلمان ممالک کو ہی ہوگا ۔جانی ، مالی، معیشت اور تعلقات سب خطرے میں پڑ گئے ہیں ۔جنگ کے خاتمے کا فیصلہ دونوں ملکوں کا نہیں ہے، امریکا جنگ ختم کرکے فیس سیونگ چاہتا ہے، لیکن اصل معاملہ اس کے بعد ہوگا۔

جنگ: پاکستان پر اس کے کس طرح کے اثرات پڑسکتےہیں؟

شاہد خاقان عباسی: جنگ گلوبلائیز ہونے سے پوری دنیا کو نقصان ہوا ہے اس کی لپیٹ میں ہم بھی ہیں۔ اگرجنگ جلد ختم نیہں ہوئی تو پٹرول مزید مہنگا ہوگا، پاکستان ان اثرات سے نہیں بچ سکتا اسے برداشت کرنا پڑے گا۔

جنگ: توانائی بحران سامنے ہے ایسے میں کیپسٹی پے منٹ بڑا درد سر بن گیا ہے اس پرکیا رائے ہے۔

شاہد خاقان عباسی: کیپسٹی پے منٹ کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ حکومت نےتوانائی پالیسی بنائی، کنٹریکٹ اور ٹیرف بنانے کے بعد انویسٹر سے کہا اس پر دستخط کرو تم پلانٹ لگاو بجلی ہم خریدیں گے۔ اب اگر اکانومی اس سطح پر نہیں گئی تو کیسپٹی پے منٹ کومورد الزام نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔

کیسپسٹی پیمنٹ کا 70 فیصد حکومت کے پاس جاتا ہے، اگر اس میں سے ٹیکس نکال دیں تو 80 فیصد تک بات چلی جاتی ہے، نیوکلیئر تھرکول، ایل این جی سب کیپسٹی پیمنٹ پر ہیں۔ معیشت کا ٹھیک نہ ہونا حکومتی نااہلی ہے۔

ایک زمانے میں16 گھنٹے تک لوڈشیڈنگ تھی ،سالانہ 90 ارب یونٹ بنتے تھے اور وہ سب استعمال ہوتے تھے۔ جب بجلی لگی تو ہم 145ہزار یونٹ استعمال پر چلے گئے۔ آج ان کا استعمال دو سے ڈھائی لاکھ ہونا چاہیے تھا لیکن ایسا نہیں ہوا، معاملہ معیشت کا ہے جو بڑھنے کے بجائے سکڑ گئی ہے۔

جنگ: اس کا سارا منفی اثر عوام پر پڑ رہا ہے، بجلی گیس کئی گنا مہنگی ہوگئی ہیں، صعنتیں تباہ ہورہی ہیں اس مسئلے سے کیسے نکلیں؟

شاہد خاقان عباسی: معیشت کو بہتر کرنے کےعلاوہ کوئی حل نہیں ہے ،کیوں کہ بجلی لگتی بھی ڈالر میں ہے بنتی بھی ڈالر میں ہے۔ جب آپ کا ڈالر 100 روپے سے دوسو82 روپے پر چلاجائے گا تو بجلی مہنگی ہوگی۔ ہر چیز کا حل گروتھ میں ہے معیشت ٹھیک ہوگی تو یہ بھی ٹھیک ہوجائے گا۔

محمد جنید: پاکستان کی تعلیمی صورت حال دیگر ممالک سے بہت پیچھے ہے اس پر آپ کی کیا منصوبہ بندی ہے؟

شاہد خاقان عباسی: میری پیدائش کراچی کی ہے ہم نے کراچی اور پاکستان کے تعلیمی اداروں تعلیم حاصل کی اور مزید تعلیم کے لیے بیرون ملک گئے جہاں اپنے ہم عصروں سے بہتر تھے، بنیادی بات یہ ہے کہ کیا پاکستان کے نظام تعلیم نے ترقی کی یا نہیں کی ،ہم نے نظام کو ریفارمز نہیں کیا۔

پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں پانچ نظام تعلیم ایک ساتھ چل رہے ہیں، ہمارے بورڈز، مدرسہ او لیول اے لیول وغیرہ۔ پاکستان دو سے ڈھائی ملین پاونڈ فیس میں ادا کرتا ہے ۔ہم اسے ہی درست کرنا چاہتے ہیں۔

ہم سمجھتے ہیں پاکستان کومعیاری تعلیم نظام کی ضرورت ہے جب تک یہ نہیں ہوگا ہمارا نظام تعلیم بہتر نہیں ہوگا۔ اس کے لیے امریکا کی مثال لے سکتے ہیں۔سارے بورڈز ختم کرکے ایک نظام لانا پڑے گا۔

نعمتوں راشہ: سعودیہ کے ساتھ دفاعی معاہدے سے فائدہ ہوگا یا نقصان؟

شاہد خاقان عباسی: پاکستان نے اپنے قیام کے بعد سے پالیسی کے تحت حرمین شریفین کی حفاظت کا ذمہ لے رکھا ہے، پچھلے سال دفاعی معاہدے کرکے باضابطہ کردیا گیا ہے۔ پہلے بھی اسرائیلی خطرے سے نمٹنے کے لیے ایک بفر موجود تھا ہماری تین ہزار فوج تبوک میں تھی۔

اب دوطرفہ معاہدہ ہے، اس کے کیا اثرات ہوں گے یہ وقت بتائے گا ۔اس معاہدے سے پاکستان کو فائدہ ہوسکتا ہے لیکن اس کے کچھ اثرات پاکستان کی خارجہ پالیسی پر بھی پڑیں گے۔ جس کے لیے ہمیں توازن پیدا کرنا پڑے گا۔

س: رول آف لا جب آئے گا جب احتساب ہوگا معیشت کی بہتری کے لیے احتساب اور گورنس کتنا ضروری ہے ؟

شاہد خاقان عباسی: احتساب رول آف لا کا حصہ ہے،قانون کی حکمرانی ہوگی تو احتساب بھی ہوگا۔ ہمارے ملک میں احتساب کے لیے ادارہ بنایا گیا ہے جس کا مقصد صرف قومی سیاست دانوں کا احتساب تھا ۔انہیں احتساب کرنے کا بہت شوق ہے لیکن کرنہیں پاتے۔1999 میں نیب کا قانون بنا،میں تین سال جیل میں اور17 سال نیب عدالتوں کا سامنا کرتا رہا، اس دوران مجھ پر ہرطرح کا الزام لگا ،لیکن میں نے ہمیشہ کہا کیس چلائیں میں اپنا دفاع کروں گا۔ لیکن کیس نہیں چلایا گیا۔ اس ادارے کو27 سال ہوگئے ۔ اور یہ آج تک کسی سیاستدان کومجرم ثابت نہیں کرسکا، اس نے ملک کے سارے سیاستدانوں کو ایماندار ثابت کیا ہے۔

کیوں کہ نیب کسی کو بھی سزا نہیں دلواسکا۔ نیب کا دفتر وزیراعظم ہاوس کے دفتر سے زیادہ اچھا ہے یہ اربوں روپے خرچ کرتے ہیں۔ نیب نے ثابت کیا وہ پاکستان کا سب سے کرپٹ ادارہ ہے۔ کرپشن سے مراد صرف حکومتی پیسے ہڑپ کرنا نہیں ہوتا، ٹیکس چھپانا سب سے بڑی کرپشن ہے اورپاکستان میں کوئی ٹیکس نہیں دیتا۔ نیب کوختم کردینا چاہیے۔

س: کراچی کی بہتری کے لیے آپ کی جماعت کی کیا سوچ ہے؟

شاہد خاقان عباسی: 18ویں ترمیم کا مقصد آبادی کے مطابق صوبوں میں وسائل کی تقسیم تھا۔ اس ترمیم سے وفاق کنگال اور صوبوں کے پاس بہت پیسے آگئے ہیں۔ اس آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو وسائل مقامی سطح تک تقسیم کرنا تھا۔لیکن صوبے وفاق سے پیسے لے کر بات یہیں روک کر بیٹھے ہیں۔ 

سندھ کو ملنے والا پیسہ سب سے زیادہ کراچی سے آتا ہے، کراچی کی آبادی زیادہ ہے لیکن یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ جہاں آبادی زیادہ ہو زیادہ پیسے بھی وہیں خرچ ہوں، لیکن جہاں ضروت ہے وہاں تو خرچ کرنا چاہیے یہ ذمہ داری حکومت کی ہے۔

کراچی پاکستان کا سب سے اہم اور بڑا شہر ہے لیکن بدقسمتی سے شہریوں کو پانی نلکوں کے بجائے ٹینکر سے دیا جاتا ہے ان کا بڑا خرچہ پانی کا ہے مطلب پانی کی کمی نہیں ہے یہاں پانی پر حکمران اشرافیہ قابض ہے جو عوام کو گھروں پرپانی نہیں دینا چاہتی ۔ہائیڈرنٹ زمین سے پانی نکال کر پانی فراہم کرتے ہیں لیکن یہاں پائپ لائن میں لگے ہوئے ہیں۔

یہ لوگ شہریوں کے پانی کو ٹینکر سے بھرکر ڈیزل کی قیمت پر بیچتے ہیں۔ہمیں یہی چیزیں ٹھیک کرنی ہے پورے ملک کی یہ ہی صورت حال ہے۔ ہمارے وزرائے اعلیٰ خود مختار حکمران بن گئے وہ سارے پیسے لاڑکانہ میں لگائے یا کراچی میں کوئی پوچھنے والا نہیں ،یہ ہی حال وزیراعلیٰ پنجاب کا ہے سارے پیسے لاہور میں لگادیئے ہیں۔پاکستان کو ریفارمز کی ضرورت ہے ۔

جنگ: کیا آپ پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کی حمایت کرتے ہیں ؟

شاہد خاقان عباسی: نئے صوبے بننا چاہیئے ایک صوبہ اتنا بڑا کہ ملک کی دو تہائی آبادی وہاں ہے۔ نہ وہ صوبہ چلتا ہے نہ دوسرے چلتے ہیں، دیہی اور شہری تفریق بھی خرابی ہے۔ اگر صوبے چھوٹے ہوں تو یہ مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ سب کے تحفظات کو مدنظر رکھ کر نئے صوبے بننا چاہیے۔

آئین کے تحت صوبوں کو وسائل کے ساتھ ذمہ داری بھی دی جائے۔ مثلا گیس صوبے کی ذمہ داری ہے، بجلی کی تقسیم صوبے کی ذمے داری ہے۔ یہ دونوں صوبوں کے حوالے کریں صوبے اپنی جگہ پر آجائیں گے۔

جنگ: اٹھارویں ترمیم کے تحت وفاق کی17 وزارتیں ختم ہونا تھی لیکن ایسا نہیں ہوا وفاق یہ ذمہ داری کیوں نہیں چھوڑتا ؟

شاہد خاقان عباسی: پچھلی عبوری حکومت نے ملک میں دو ڈویژن کا اضافہ کرکے 52 ڈویژن بنادیے ہیں۔ نہ انہیں یہ اختیار تھا نہ پاکستان کو اس کی ضرورت ہے۔

س: کیا آپ نہیں سمجھتے پاکستان اکانومی گروتھ نہ ہونے میں ہمارا لیگل سسٹم بھی ہے قانون کی عمل داری نہیں ہے؟

شاہد خاقان عباسی: پاکستان میں سرمایہ کاری نہ آنے کی بڑی وجہ سرمایہ کاروں کا ہمارے لیگل سسٹم پراعتماد کا نہ ہونا ہے، غیرملکی ہو یا مقامی تاجر جب تک ان کے سرمائے کا تحفظ نہیں ہوگا سرمایہ کاری نہیں ہوگی۔ ہم نے 26 ویں اور27ویں ترمیم سے لیگل سسٹم کو ختم کردیا، اسے انتظامیہ کے تابع کردیا ہے۔

بڑا مسئلہ ججوں کا طریقہ سلیکشن رہا ہے ۔جو جج آج لگ رہے ہیں وہ بھی غلط ہے جو ججوں نےلگائے وہ بھی غلط تھا ، غلط جج بیس پچیس سال تک نظام کو تباہ کرتا ہے۔ یہاں جج جو مرضی کرلیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ سلیکشن میں شفافیت کےلیے ججوں کی پبلک اسکروٹنی ضروری ہے۔

کبیر حسین: آپ کی جماعت عوام کا ریاست کے ساتھ اعتماد کی بحالی کے لیے کیا کرے گی ؟

شاہد خاقان عباسی: عوام کا ریاست کے ساتھ تعلق ٹوٹا ہوا ہے ،آئین میں تفصیل سے عوام کے بنیادی حقوق کا ذکر ہے لیکن اس میں سے ایک دو بھی عوام کو میسر نہیں ہیں۔ ہم نے شہریوں سے بنیادی حقوق تک چھین لیے ہیں ،آج سے زیادہ پچھلے تین مارشل لامیں  عوام کو بنیادی حقوق حاصل تھے۔

جنگ: ایک مرتبہ پھر شرح سود میں اضافہ ہوا ہے کیا اس کی ضروت تھی ؟

شاہد خاقان عباسی: میرے خیال میں اس کی ضرورت نہیں تھی ۔شرح سود بڑھنے کی وجہ افراط زر میں اضافہ گروتھ میں کمی ہوتی ہے ۔حکومتی پالیسی معیشت کی گروتھ کے لیے ہونی چاہیے ۔ہم زرعی ملک ہیں لیکن ہمارے کسانوں کی حالت خراب ہے، پچھلے سال حکومت نے وعدے کے باوجود کسانوں کو گندم کی طے شدہ رقم نہیں دی وہ تو تباہ ہوگئے ہیں، جب ریاست اپنے وعدے پورے نہیں کرے گی تو نظام کیسے چلے گا۔ ہر چیز مہنگی ہے، ملکی گیس سے بننے والا ہمارا یوریا اس کی قیمت 2850 روپے سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے لیکن وہ مارکیٹ میں چھ ہزار روپے کا فروخت ہوتا ہے۔

مفتاح اسماعیل: شرح سودکا تعلق دنیا بھرمیں ڈالرکی قیمت سے بھی طے ہوتا ہے اگر ابھی شرح سود نہیں بڑھاتے تو اسٹیٹ بینک کو خطرہ تھا روپیہ ڈالر کے مقابلے میں گرجائے گا، جس سے پاکستان میں مزید مہنگائی بڑھتی اور غربت میں اضافہ ہوتا۔ پچھلے دو تین سال سے روپے کی قدر گرنے سے پاکستان میں غربت بڑھ گئی ہے، اس لیے شرح سود بڑھانا ضروری تھا۔ ایسے حالات سے نکلنے کےلیے  بنیادی اصلاحات کرنی پڑے گی۔

جنگ: ہماری پالیسیاں آئی ایم ایف کے دباؤ پر بن رہی ہیں  دباو عوام پرجارہا ہے، حکومت کہتی ہے یہ آئی ایم ایف کا آخری پروگرام ہوگا کیا یہ ممکن ہے ۔

مفتاح اسماعیل : جو بنیادی ریفارمز کرنے چاہیے تھے وہ نہیں کئے گئے اس لیے یہ آئی ایم ایف پروگرام آخری نہیں ہوگا ۔ہمیں فارن کرنسی کی ضروت ہوتی ہے جو پہلے ایکسپورٹ کے ذریعے اور دوسرا ریمی ٹینس کی مدد سے اور اس کے بعد تیسرا طریقہ کسی سے قرض لینا ہے، کیوں کہ پچھلے پانچ سال میں ہماری ایکسپورٹ میں کمی آئی ہے ،مشرق وسطیٰ کے تنازع سے ریمی ٹینس میں بھی کمی کا خدشہ ہے تو آخری آپشن قرض ہے۔

جب تک ہم درآمدات نہیں بڑھائیں گے ہماری آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹے گی۔ حکومت آئی ایم ایف کی ہربات نہیں مانتی وہ صرف مطلب کی باتیں تسلیم کرتی ہے جس کا برا اثرعوام پر پڑتا ہے۔ دو مہینے پہلے حکومت نے ارکان اسمبلی میں33 ارب روپے کابجٹ تقسیم کیا، ہرحکومتی ایم این اے کو25 کروڑ روپے اپنے حلقے میں خرچ کرنے کے لیے دیئے گئے ہیں۔

یہ پیسے صرف ٹھکانے لگانے کےلیے ہیں ۔ان ہی خرابیوں کے خاتمے کے لیے شاہد خاقان عباسی کی قیادت میں عوام پاکستان پارٹی بنائی ہے جس میں صلاحیت اور دیانت دونوں ہیں۔

دوسرا پچھلے تین ادوار جس میں ن لیگ، پی ٹی آئی حکومت شامل ہیں اتنا قرض لیا ہے کہ واپس کرنا مشکل ہورہا ہے اور اب کوئی مزید قرض نہیں دے رہا ۔ہم شیڈو بجٹ دیں گے ہمارے بجٹ کا مرکزی خیال ٹیکس ریٹ کم اور حکومتی اخراجات اس سے زیادہ کم کرنا ہوگا۔

شاہد خاقان عباسی: اگر45 فیصد ٹیکس ہوگا تو وہ کوئی نہیں دے گا چوری کرے گا،لیکن دس سے پندرہ فیصد کی ٹیکس چوری کوئی نہیں کرنا چاہے گا ،مفتاح اسماعیل وزیرخزانہ تھے، ہم نے2018 میں پاکستان کی تاریخ کا سب سے بہتر فنانس بل پاس کیا، ہماری اپنی پوری حکومت ایف بی آر سب مخالف تھے لیکن ہم نے کیا۔

ہم نے آٹھ سال پہلے ساڑھے 12 لاکھ تک آمدنی والے کوٹیکس چھوٹ دی تھی آج چھ لاکھ پرٹیکس لگ رہا ہے۔ ہم نئی حکومت کو ایک سمت دینا چاہتے تھے، پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ انکم ٹیکس ریٹ اتنے کم کئے گئے تھے لیکن عمران خان کی حکومت نے ہمارے فیصلوں کو واپس کردیا تھا۔

س: اچھی تعلیم فراہم کرنا کس کی ذمہ داری ہے ؟

شاہد خاقان عباسی: ہر شہری کو تعلیم مہیا کرنا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے ،یہ صوبائی حکومتوں کا کام ہے۔ آج ڈھائی کروڑ بچے اسکول سے باہر ہیں جو پاکستان پر سب سے بڑا بوجھ بنیں گے، ہم ججوں میں کروڑوں مالیت کی گاڑیاں بانٹ رہے ہیں ،10 ارب کے جہاز خرید رہے ہیں لیکن بچوں کے لیے تعلیم کی فکر نہیں ہے، اس کی وجہ آج کے حکمراں عوام کی نمائندگی نہیں کرتے وہ عوام کے ووٹ سے نہیں آئے۔ ملک کوکئی ریفارمز کی بہت ضرورت ہے۔ورنہ خرابیاں بڑھیں گی۔

مفتاح اسماعیل: ملک کے دو کروڑ ساٹھ لاکھ بچے اسکول سے باہر ہیں ،پاکستان کے نصف سے زیادہ بچے پرائیوٹ اسکول جاتے ہیں ،باقی بچوں کی تعلیم کا معیار کا اندازہ یوں لگائیں کہ وہ اپنا نام بھی نہیں لکھ پڑھ سکتے تعلیم میں سب سے اچھے بچے آزاد کشمیر اور سب سے بری صورت حال سندھ میں ہیں سندھ کے کچھ ڈسٹرکٹ جس میں کراچی شامل ہے وہاں تعلیم کامعیار اچھا ہے جس کی وجہ بچوں کے والدین ہیں۔ بلوچستان میں اوسطاً حکومت سالانہ فی بچے 60 ہزار روپے خرچ کرتی ہے۔

بچے کو تعلیم نہیں مل رہی لیکن پیسے خرچ ہورہے ہیں ۔ہم کہتے ہیں بچوں کی تعلیم کے پیسے اس کے والدین کودیں وہ خود اچھے اسکول کو ڈھونڈ کر بچے کو پڑھائے گا اور باقی پیسوں سے بچے کو کھانا بھی دے گا۔ جس بچے کوکھانا نہیں ملے گا اسے دنیا کا بہترین استاد بھی نہیں پڑھا سکتا۔

پاکستان کی سالانہ آبادی 60 لاکھ بڑھ رہی ہے، اس کا مطلب اگلے چارسال بعد ان بچوں کو کلاس روم میں بٹھانا ہے جو مشکل ہے اس لیے ہمیں آبادی کی منصوبہ بندی پر بھی کام کرنا پڑے گا ہماری آبادی بڑھنے کی رفتار دنیا کے تمام مسلمان ملکوں سے زیادہ ہے۔ حکومت کرنے سے مراد راج کرنا نہیں ہوتا خدمت کرنا ہوتا ہے اگرحکومتی مزاج تبدیل نہیں ہوا تو حالات کبھی بہتر نہیں ہوں گے۔

قرۃ العين: عام آدمی پر ٹیکس بڑھتا جارہا ہے لیکن ٹیکس نیٹ میں اضافہ نہیں ہورہا جس کی وجہ پاکستان میں غربت میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے اس کی وجوہات کیا ہیں ؟

شاہد خاقان عباسی: جب معیشت ناکام ہوگئی تو روزگار کے مواقع کم ہوں آمدنی کم ہوگی توغربت بڑھےگی۔ پچھلے 15 سال میں ہر پاکستانی گھرانے کی آمدنی میں اضافے کے بجائے کمی ہوئی ہے۔ اس بیماری کا واحد علاج نظام کی درستگی سے منسلک ہے۔

مفتاح اسماعیل: پاکستان کو اشرافیہ کا ملک بنادیا گیا ہے جوغلط ہے یہ سب کا ملک ہےغریب کا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا طاقتور کا۔ہماری جماعت نے سات اصول بنائے ہیں ۔ پہلا ،ملک میں آئین اور قانون کی بالادستی، دوسرا دیانت داری اور شفافیت ،چوتھا ہیومن ریسورس ہمارا سب سے بڑا اثاثہ ہے۔

پانچواں ،پاکستان کے غریب ترین آدمی کی ترقی ،چھٹا پاکستان پر بلا رنگ نسل مذہب ہر پاکستانی کا حق ہے ،ساتواں ،حکومت وہی اچھی جو لوگوں کے پاس ہو ۔اس کا مقصد عوام کو طاقتور کیا جائے۔

فیضان: آپ کو ایک ریفارم کرنے کا موقع ملا تو وہ کیا ہوگا؟

شاہد خاقان عباسی: ملک میں رول آف لا لے کر آئیں یہ ابتدا ہے ریفارمز کی ۔

الطاف حسین: نوجوان سیاست سے مایوس ہیں انہیں واپس کیسے لائیں گے ؟

شاہد خاقان عباسی: نوجوان واقعی مایوس ہیں کیوں کہ یہ نظام نوجوان کو کچھ دے نہیں سکا لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ سیاست کو چھوڑ دیا جائے ،اپنے اچھے برے کی پہچان کریں اور فیصلہ کریں ۔لیڈر شپ کی ذمہ داری ہےکہ وہ عوام کی مایوسی دور کریں ۔وہ نظام کو درست کریں۔

جنگ: جسمانی اسمارٹنس پر نہ جائیں ذہنی اسمارٹنس پر جائیں پھر شاید بھلا ہوجائے۔

حنزہ: اگر آپ حکومت میں آتے ہیں تو سندھ میں رائج کوٹہ سسٹم ختم کریں گے؟

شاہد خاقان عباسی: سندھ میں دیہی اور شہری کوٹہ سسٹم ایک ٹائم فریم کے لیے لایا گیا تھا وہ ختم ہوگیا ہے ،کوٹہ کسی طرح کا بھی ہو نقصان دہ ہوتا ہے اوراسے ختم کرنا ہوتا ہے۔ان ہی خامیوں کی وجہ سے ہم ریفارمز کی بات کرتے ہیں۔

اسماعیل خان: سیاسی جماعتیں ملک میں جمہوریت کی خواہش مند ہیں لیکن اپنی جماعت میں جمہوریت نہیں رکھتے کیا آپ کی موجودگی میں آپ کی جماعت سے کوئی دوسرا وزیراعظم بن سکتا ہے۔

شاہد خاقان عباسی: ہماری جماعت میں یہ قدغن ہے ،ہماری جماعت کےعہدے دارکا کوئی رشتے دار نہ پارٹی میں عہدہ رکھ سکتا ہے نہ وہ پارٹی کی طرف سے الیکشن لڑسکتا ہے۔

ندیم آرائیں: میں عوام پاکستان جماعت کا کراچی سے جنرل سیکریٹری ہوں، میری پارٹی کے ہر رکن کو ہر عہدے پر الیکشن لڑنے کا حق حاصل ہے۔

نویداسلم: آپ کہتے تھے کہ بزنس مین حکومت نہیں چلاسکتا لیکن آپ کے ساتھی بڑے کاروباری ہیں؟

شاہد خاقان عباسی: سیاست کرنا ہر شہری کا حق ہے ،پاکستان میں بزنس مین سیاست نہیں کرتا کیوںکہ حکومت کے پاس کسی بھی کاروبار کو تباہ کرنے کے بڑے اختیارات ہیں، میرے ساتھی مفتاح اسماعیل اعلیٰ تعلیم یافتہ کامیاب کاروباری شخص ہیں لیکن وہ اس کے باوجود سیاست میں ہیں جو معمولی بات نہیں ہے۔ سیاست میں آنے والے کو اپنے اثاثے اور ٹیکس سامنے لانا چاہیے۔پاکستان کے پارلیمنٹرین کی اکثریت ٹیکس نہیں دیتی۔

محمد علی شاہ: کیا آپ ملک سے مہنگائی ختم کرنے کا وعدہ کریں گے ؟

شاہد خاقان عباسی: یہ وعدہ کوئی نہیں کرسکتا جو کرے گا وہ جھوٹ بولے گا۔مسائل کو کبھی بھی معجزاتی حل نہیں ملتے۔

جنگ فورم  سے مزید