• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بے روزگاری، غربت اور مہنگائی میں کمی کے لئے ادھار نہیں، پیداوار

میزبان: محمد اکرم خان ایڈیٹر، جنگ فورم 

رپورٹ : سلیم اللہ صدیقی

تصاویر: جنید احمد

شرکاء: عبدالقادر میمن (بانی چیئرمین، پاکستان ٹیکس بار ایسوسی ایشن)

محمد جاوید بلوانی (چیئرمین، پاکستان ایپرل فورم / سرپرست،صدر پاکستان ہوزری مینوفیکچررز اینڈ ایکسپوٹرز ایسوسی ایشن)

محمد ریحان حنیف (صدر، کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری)

ہمارے اخراجات آمدنی سے زیادہ ہیں، ان حالات سے نکلنے کےلیے اسٹرکچرل تبدیلیوں کی ضرورت ہے، آمدنی بڑھے گی تو ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو کم ہوگا، نئے ٹیکس دینے والے سے کچھ پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے۔

بس اس سے کہیں جوتم دے سکتے ہو وہ ٹیکس ادا کرو، ایف بی آر ٹیکس دینے والوں کو سہولیات فراہم کرے تاکہ یہ لوگ دوسروں کو بھی پاکستان میں سرمایہ کاری کی ترغیب دیں، دنیا میں کسی بھی ملک کی معیشت آٹومیشن اور ڈیجیٹلائز کئے بغیر ترقی نہیں کرسکی ہے۔

انڈین معیشت67 فیصد ڈیجیٹلائز ہوگئی ہے، ہمیں بحثیت قوم شارٹ ٹرم، میڈیم ٹرم اور لانگ ٹرم ٹارگٹ بنانے کی ضرورت ہے، ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کے لیے لوگوں کی حوصلہ افزائی کی جائے ان کے لیے آسانیاں پیدا کریں۔ ٹیکس ریٹ ریشنالائز کریں

عبدالقادر میمن

خطے کی سب سے مہنگی بجلی اور گیس پاکستان میں ہے، ہماری سیاست سے لے کر بیوروکریسی تک سب کرپٹ ہیں، ریجن کا سب سے خراب لا اینڈآرڈر پاکستان کا ہےاور ہماری خواہش ہے کہ معیشت ٹھیک ہوجائے، صرف بجٹ بنانے سے معیشت نہیں چلتی، معیشت درست کرنے کے لیے سب چیزیں ٹھیک کرنا پڑے گی۔

ہم نے کام میں آسانی کے لیے ایف بی آرمیں سسٹم آٹومیشن کروایا تھا تو ایف بی آر میں لوگ خوش ہونے کے بجائے ناراض ہوگئے تھے کیوں کہ ان کا دھندا بند ہوگیا، دنیا میں قرض لینے سے مراد کوئی نیا کاروبار شروع کرکے کمانا ہے جب کہ یہاں قرض صرف قرض اتارنے کےلیے لیا جارہا ہے، حکومت نئے کاروبار کےلیے پالیسی بنائے جس میں ابتدائی چار پانچ سال نئے کاروبارکو کوئی نہیں پوچھے ۔توانائی کی قیمت اور ٹیکس ریٹ کم کیا جائے

جاوید بلوانی

پاکستان اپنی ایکسپورٹ بڑھائے ,ایکسپورٹ بڑھنے سے زیادہ غیرملکی زرمبادلہ آئے گا، ایکسپورٹ کی مدد سے تجارتی توازن اور تجارتی خسارے پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ اسی ایکسپورٹ سے ایف بی آر کا ریونیو ہدف بھی پورا کریں گے۔

ایکسپورٹ بڑھنے سےانڈسری لائزیشن ہوگی, صنعتی پیداوار بڑھے گی توجی ڈی پی میں اضافہ اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، ڈیجیٹلائزیشن اور آٹومیشن سے سرکاری آمدنی میں اضافہ اور کرپشن ختم ہوگی، حکومت ایکسپورٹرز کو کوئی مراعات نہیں دے رہی۔

بجلی اور گیس ایکسپورٹرز کا خام مال ہوتا ہے، حکومت گیس کے بجائے ایکسپورٹ میں اضافے سے ڈالر کمائے، بیوروکریسی کی بے جا مداخلت کو روکا جائے۔ غیر ضروری پرتعیش اشیا پرنان ٹیرف بیریئر لگایا جائے اگر روٹین میں استعمال کرنے والی غیرملکی اشیا کے بجائے ملکی اشیا استعمال کریں تو ہمارے ٹھیک ٹھاک ڈالر بچیں گے۔

ریحان حنیف

گزشتہ دنوں جنگ فورم میں "معاشی بحران ،معاشی پالیسی کے سبب ؟" کے موضوع پر بات چیت کی گئی۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں پاکستان معاشی بحران کا شکارہے ،بیرونی اور اندرونی بجٹ خسارے میں اضافہ ،بڑھتی مہنگائی، شرح سود میں اضافہ، مہنگی بجلی اور پیٹرول، پیٹرول لیوی کا بڑھتا بوجھ ان ساری مشکلات کا عوام کو سامنا ہے۔

عبدالقادر میمن
عبدالقادر میمن

ہمارا ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو ریجن کے دیگر ممالک کے مقابلے میں کم ہے، وفاق کے اخراجات میں اضافہ اور آمدنی میں کمی کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے وفاق اور صوبوں میں وسائل کی تقسیم پر بھی اختلاف ہے۔ ایسے دیگر مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمارے ساتھ بات چیت کے لیے جنگ فورم میں عبدالقادر میمن (بانی چیئرمین، پاکستان ٹیکس بار ایسوسی ایشن) محمد ریحان حنیف (صدر، کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری) محمد جاوید بلوانی (چیئرمین، پاکستان ایپرل فورم / سرپرست، صدر، پاکستان ہوزری مینوفیکچررز اینڈ ایکسپوٹرز ایسوسی ایشن) موجود تھے۔ فورم کا انعقاد دادا بھائی انسٹی ٹیوٹ آف ہائر ایجوکیشن میں کیا گیا جس کی تفصیلی رپورٹ حاضر خدمت ہے۔

عبدالقادر میمن

سو روپے کمانے والا گھر 150 روپے کے اخراجات کرے تو گھر ایسے نہیں چلتے، پاکستان کے اخراجات آمدنی سے زیادہ ہیں لہذا پاکستان کی بقا کےلیے قرضہ لیا جاتا ہے پھر قرضوں کی واپسی کےلیے مزید قرضہ لیتے ہیں۔ ان حالات سے نکلنے کےلیے اسٹرکچرل تبدیلیوں کی ضرورت ہے، آمدنی بڑھے گی تو ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو کم ہوگا جس کی وجہ ہماری کمپوزیشن ہے۔

ہماری جی ڈی پی کے چار بڑے سیکٹرز ہیں، زراعت، سروسس، مینوفیکچرنگ، سروسس میں ریٹیل، ہول سیل ٹرانسپورٹ آتا ہے۔ اس وقت سارا بوجھ ریٹیل، ہول سیل کے بجائے مینوفیکچرنگ اٹھارہا ہے۔ ہمیں چند کام کرنے کی فوری ضرورت ہے جو لوگ ٹیکس نیٹ میں نہیں ہیں انہیں شامل کرنے کا حل تلاش کیا جائے۔ لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کے لیے آسانی پیداکی جائے ۔دنیا میں کوئی بھی خوشی سے ٹیکس نہیں دیتا۔

لوگوں کو ایک سادہ سا فارم دے کر بھرنا کا کہیں اور ان سے ان کی سہولت کے مطابق ٹیکس دینے کی گزارش کریں ،1863 میں ایڈم اسمتھ نے لکھا کہ ٹیکس اتنا لیا جائے جتنا برداشت کرنے کی قوت ہو۔اگر ریٹیل سیکٹر کے شامل ہونے سے 25 سے 30لاکھ لوگوں کا ٹیکس نیٹ میں مزید اضافہ ہوجائے گا ۔نئے ٹیکس نیٹ میں شامل ہونے والوں سے گھر اس کا لائف اسٹائل سے متعلق کچھ پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ بس اس سے جو بزنس کیا اس میں سے جوٹیکس وہ دے سکتا ہے وہ ادا کرکے ٹیکس نیٹ میں شامل ہوجائے۔

اس طرح کی اسٹرکچرل تبدیلیاں کرنا مناسب ہیں ۔اگر ٹیکس دینے والوں پرسے ٹیکس کا بوجھ کم نہیں کیا گیا تویاد رکھیں بہت لوگ ملک چھوڑ جائیں گے ۔ہمارے سے ڈیڑھ گھنٹے کی فلائٹ پر دوسرے ملک میں9 فیصد ٹیکس ہے جب کہ یہاں 50 فیصد ٹیکس ہے لہذا کوئی بھی41 فیصد زیادہ ٹیکس کیوں دے گا ۔ایف بی آر ٹیکس دینے والوں کوسہولیات فراہم کرے تاکہ یہ لوگ کسی دوسرے کو بھی پاکستان میں سرمایہ کاری کی ترغیب دیں۔

رواں سال دنیا بھرمیں مہنگائی کی لہر ہے متعدد ملکوں میں مہنگائی کی شرح پاکستان سے زیادہ ہےجس میں امریکا کینیڈا جیسے ترقی یافتہ ممالک بھی شامل ہیں۔ اگر رواں سال جنگ نہیں ہوتی تو ہمارے یہاں افراط زر ون ڈیجیٹ پرآچکا تھا شرح سود بھی ٹھیک تھا جی ڈی پی گروتھ بھی بڑھ کر 3 فیصد ہوگئی تھی۔ اگر جنگ ختم ہوتی ہے تو ہماری مائیکرواکنامک ٹھیک ہوسکتی ہے لیکن اگر ایسا نہیں ہوا تو یہ پاکستان سمیت پوری دنیا کولے ڈوبے گی۔

میرا فلپائن اور ایک آدھ اور ترقی پذیر ملک جانے کا اتفاق ہوا ،وہاں ایک شخص کو لے کر سفرکرنے والوں کو گاڑی کو سفر کی اجازت نہیں ہے۔ ہمیں بھی ایسا کرنا پڑے گا یعنی جب تک گاڑی کی تمام نشستیں نہیں بھریں گاڑی سڑک پر نہیں لے کرآئیں۔ جو گاڑی پیر کو سڑک پر چلے وہ منگل کو نہیں آئے گی ،اپنے روزمرہ کے معاملات میں پاکستانیوں کو نظم وضبط لانا ہوگا۔ گھروں میں موجود چار پانچ گاڑیاں سب علیحدہ استعمال کرنا بند کریں۔

بہتری کےلیے اپنا لائف اسٹائل بدلنا ہوگا ۔آخری اہم ترین بات جو بہت ضروری ہے، دنیا کے کسی بھی ملک کی معیشت آٹومیشن اور ڈیجیٹلائز کئے بغیر ترقی نہیں کرسکی ہے۔ انڈین معیشت67 فیصد ڈیجیٹلائزہوگئی ہے ہمیں ڈیجیٹلائزیشن کی طرف جانا ہوگا لیکن ایف بی آر کے پلان کی طرح نہیں۔ ہمیں بحثیت قوم شارٹ ٹرم ،میڈیم ٹرم اور لانگ ٹرم ٹارگٹ بنانے کی ضرورت ہے۔

پاکستان میں ٹیکس دینے والوں کی تعداد میں کمی کی وجہ ہماری مختلف ترجیحات ہیں ،جن ممالک کی درست رہیں وہ ترقی کررہے ہیں، ویت نام پر چار جنگیں مسلط ہوئیں لیکن آج کا ویت نام دیکھیں دل خوش ہوجائے گا, اگر ہم سنجیدہ ہوں تو معاشی طور پر آگے بڑھنے والا دنیا میں پاکستان جیسا ملک کوئی نہیں ہے۔ اگر عالمی بینک میں پابندی نہیں ہوتی تو کئی پاکستانی اکنامسٹ عالمی بینک کے سربراہ ہوتے۔ لیکن بدقسمتی سے ہم اپنے قابل لوگوں کو اہمیت نہیں دیتے۔

کوویڈ میں کام کرنے کے کئی نئے طریقے سامنے آئے جیسے ورک فرام ہوم ۔یہ بہت اچھا ہے۔ کوئی بھی شخص جو ملک کی اکنامی کے لیے کچھ کرنا چاہتا ہے وہ ٹیکس نظام کا حصہ بن کر کچھ نہ کچھ حصہ ڈالے ۔آخری آنے والے این ایف سی ایوارڈ پر نظر ثانی کی ضرورت ہے، کیوں کہ اس کے بعد صوبے امیر اور فیڈریشن غریب ہوگیا ہے ۔نیا این ایف سی ایوارڈ آنا چاہیے جس میں صوبے اپنے پیروں پر کھڑے ہوں۔

ہمارا ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو بھی اس اقدام کے بغیر نہیں بڑھے گا۔جہاں تک مہنگائی کی بات ہے یہ گلوبلی ہے ،جنگ کی وجہ سے پٹرول مہنگا ہے پٹرول سے ہرشے کا تعلق ہے۔ ہمیں توجہ ٹیکس نیٹ میں اضافہ ،تمام مالی ٹرانزیکشن کو کوشش کرکے ڈیجیٹلائزڈ اور آٹومیشن کیا جائے۔ آدم اسمتھ نے کہا تھا قانون کو آسان ہونا چاہیے، دوسرا حکومت اتنا ہی ٹیکس میں اضافہ کرے جتنی اس کی ضرورت ہو، ہم پر بیرونی قرض سے زیادہ اندرونی قرض ہے، ایک زمانے میں حکومت اپنے اندرونی قرض پر 24فیصد تک سود اداکرتی تھی جوبتدریج کم ہوکر10 فیصد پر آگیا تھی لیکن جنگ کی وجہ سے دوبارہ اضافہ ہوا ہے۔

محمد ریحان حنیف
محمد ریحان حنیف

حکومت نے سب سے زیادہ لیوی ہائی آکٹین پر لگائی، حکومت کی نیت تھی کہ اس طرح استعمال کرنے والے محتاط ہوجائیں گے۔ لیکن دلچسپ بات ہے کہ مجھے ایک سرکاری افسر نے بتایا کہ مہنگا ہونے کے باوجود اپریل میں پٹرول کا استعمال مارچ کے مہینے سے زیادہ رہا ۔پاکستان دیوالیہ ملک نہیں ہے، دیوالیہ ہونے سے مراد آج ملنے والی ہر شے ڈبل مہنگی ہوجائے گی، پھر ہمیں مہنگی شرائط پر قرض ملے گا۔

ان ہی خطرات سے بچنے کےلیے ہمیں آمدنی بڑھانے کی ضروت ہے ۔لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کےلیے حوصلہ افزائی کی جائے ان کےلیے آسانیاں لائیں ۔ٹیکس ریٹ کو ریشنلائز کریں ،کم از کم پانچ سال میں بتدریج کم کرنے کا پروگرام ضرور لائیں کوئی ہدف مقرر کرنا چاہیے۔ ڈیجیٹلائزیشن اورآٹومیشن کےلیے آسان اسکیم لاناچاہیے ۔ٹیکس دینے والوں کی حوصلہ افزائی کے لیے ترغیبات کے لیے قوانین بنانے چاہیے۔

اگر کسی کو سو روپے دینے ہیں تو اسے قسط وار ہی سہی دینا تو شروع کریں تاکہ ٹیکس دینے والاآپ پر اعتبار کرے۔ حکومت پاکستان کوڈیبٹ کےلےاین ایف سی ایوارڈ میں تین چار شعبے فیڈریشن کو واپس دینا چاہیے نیشنل فنانس کمیشن پر نظر ثانی ہونا چاہیے۔ پاکستانی نوجوانوں کو ناامید ہونے کی ضرورت نہیں ہے، ہمارا نوجوان کارکردگی کے لحاظ سے دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے۔ آپ اپنے ارد گرد آگے بڑھنے کے مواقع تلاش کریں، پاکستان آگے بڑھنے کے لیے بہترین جگہ ہے۔

محمد ریحان حنیف

جس طرح کے معاشی حالات کا پاکستان شکار ہے ایسے میں کسی اچھے بجٹ کی امید لگانا دیوانے کا خواب تھا۔ پاکستان ایسے معاشی دوراہے پر کھڑا ہے جہاں بعض میکرو اکنامک اشاریے بہتری کا اشارہ کر رہے ہیں لیکن حقیقی معیشت، صنعت، تجارت اور عام شہری کی زندگی میں اس کے مثبت اثرات محسوس نہیں ہو رہے۔

گزشتہ دو برسوں میں مہنگائی میں کمی، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ، روپے کے نسبتاً استحکام اور کرنٹ اکاؤنٹ میں بہتری کو مثبت پیش رفت قرار دیا جا سکتا ہے، تاہم محض میکرو اکنامک استحکام کو معاشی بحالی نہیں کہا جا سکتا۔ جب تک صنعتی پیداوار، نجی سرمایہ کاری، روزگار کے مواقع اورعوام کی قوتِ خرید میں نمایاں اضافہ نہیں ہوگا، اس وقت تک معیشت کو حقیقی معنوں میں مضبوط قرار دینا قبل ازوقت ہوگا۔

عالمی مالیاتی ادارے پاکستان کی معیشت میں بتدریج بہتری کی پیش گوئی کررہے ہیں، لیکن ان اعدادوشمار کا حقیقت پسندانہ جائزہ لینا ناگزیر ہے ۔موجودہ بجٹ میں پاکستان کو روزگار کے وسیع مواقع پیدا کرنے، غربت میں کمی لانے اور نوجوان آبادی کو معاشی سرگرمیوں میں مؤثر انداز سے شامل کرنے کے لیے کم از کم 6 سے 7 فیصد سالانہ شرح نمو درکار ہے۔

آج پاکستانی صنعت اپنی تاریخ کے مشکل ترین دور میں سے ایک سے گزر رہی ہے۔ بلند بجلی اور گیس کے نرخ، مہنگی فنانسنگ، پیچیدہ ٹیکس نظام، ریفنڈز میں تاخیر اور پالیسیوں میں عدم تسلسل نے پیداواری لاگت کو اس حد تک بڑھا دیا ہے کہ مقامی صنعت عالمی منڈی میں اپنی مسابقت کھوتی جا رہی ہے۔ ان حالات کی وجہ سے برآمدی شعبہ مسلسل دباؤ کا شکار ہے جبکہ خطے کے دیگر ممالک اپنی صنعتوں کو کم لاگت توانائی، آسان قرضوں اور برآمدی مراعات کے ذریعے عالمی منڈی میں زیادہ مسابقتی بنا رہے ہیں۔

پاکستان کا ٹیکس نظام بھی فوری اور بنیادی اصلاحات کا متقاضی ہے۔ افسوس اس بات پر ہے ہرسال انہی لوگوں اور کاروباری اداروں پر مزید مالی بوجھ ڈالا جاتا ہے جو پہلے سے ٹیکس ادا کر رہے ہیں ،جب کہ معیشت کے بڑے غیر دستاویزی حصے کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کے لیے مؤثر اقدامات دکھائی نہیں دیتے۔ٹیکس وصولیوں میں پائیدار اضافہ نئے ٹیکس عائد کرنے سے نہیں بلکہ ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے، قوانین کو سادہ بنانے، کاروبار دوست ماحول پیدا کرنے اور ٹیکس دہندگان کا اعتماد بحال کرنے سے ممکن ہے ۔

ہمیں دو چیلجز کا سامنا ہے ،پہلا ایف بی آر کااپنا مقررکردہ ٹیکس وصولی کا ہدف پورا کرنا ،دوسرا تجارتی توازن ،مشرق وسطی کی جنگ سے توانائی کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہونا ہے جس کی وجہ سے تجارتی توازن میں بہت بڑا فرق آیا۔دونوں چیلنجز سے نمٹنے کا ایک ہی طریقہ ہے ,پاکستان اپنی ایکسپورٹ بڑھائے, ایکسپورٹ بڑھنے سے غیرملکی زرمبادلہ میں اضافہ ہوگا اورہمیں فارن کرنسی کےلیے کسی مدد کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

اس سے ہماری ریمی ٹینس کو بھی سہارا ملے گا اور قرضوں کی ادائی کےلیے فارن کرنسی بھی موجود ہوگی ۔ہم ایکسپورٹ کی مدد سے تجارتی توازن اور تجارتی خسارے پر قابو پاسکتے ہیں ۔ایکسپورٹ سے ایف بی آر کی آمدنی بھی پوری کریں گے۔ ایکسپورٹ بڑھنے سےانڈسٹری لائزیشن ہوگی ,صنعتی پیداوار بڑھے گی تو جی ڈی پی میں اضافہ اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے ،جب بزنس بڑھے گا تو ٹیکس بھی زیادہ جائے گا ،نئے ملازم رکھنے پران کی تنخواہوں سے ٹیکس کٹے گا۔ ایکسپورٹ بڑھانے سے ہی آمدنی کے ہدف پورے ہوسکتے ہیں۔

ایکسپورٹ میں اضافہ پاکستان کے مسائل کا واحد حل ہے ۔لیکن پاکستان ایکسپورٹ بڑھانے کے لیے کوئی خاص کام نہیں کرسکا ہے ۔ہمارا انحصار صرف ٹیکسٹائل پرہے۔ چھوٹا سا ہالینڈ ائیرفریشنر کی 30 ارب ڈالر سے زیادہ کی ایکسپورٹ کرتا ہے ،پاکستان کی پوری ایکسپورٹ ہالینڈ کے ائیر فریشنر ایکسپورٹ کے برابر ہے وہ ائیر فریشنربنا کر اربوں ڈالر کما رہا ہے اور ہمارا بہترین گلاب صرف ہار بنا ہوا ہے۔

دنیا میں انڈیا بنگلہ دیش ،کمبوڈیا وغیرہ ٹیکسٹائل کا بازار ہیں ،مہنگی بجلی، گیس زیادہ شرح سودکی وجہ سے بازارکا سب سے مہنگا مال ہمارا ہےپھرہم سے کوئی مال کیوں خریدے اور ایکسپورٹ بڑھائے بغیر ملک چلانا ناممکن ہے ۔ہماری آئی ٹی ایکسپورٹ تین ملین کے قریب ہے اگر یہاں کامیاب نہیں ہوتے تو پھر ہمارے پاس آمدنی بڑھانے کے تین شارٹ کٹ ہیں۔ پہلا پاکستان میں تیل اور گیس کے بڑے ذخائر دریافت ہوں ۔ دوسرا ریمی ٹینس میں اضافہ اور تیسرا آئی ٹی ہے یہاں سے سو ارب تک کماسکتے ہیں۔

اہم ترین کراچی پاکستان کی معیشت کا انجن اور قومی خزانے میں سب سے زیادہ حصہ ڈالنے والا شہر ہے مگر انفراسٹرکچر، ٹرانسپورٹ، پانی، سیوریج، سڑکوں اور دیگر شہری سہولیات کے حوالے سے اسے مسلسل نظر انداز کیا رہا ہے۔صنعت و تجارت کو درپیش بنیادی مسائل کے حل میں تاخیر سرمایہ کاری کے ماحول کو بری طرح متاثر کر رہی ہے۔

محمد جاوید بلوانی
محمد جاوید بلوانی

کراچی کے صنعتی، تجارتی اور بندرگاہی انفراسٹرکچر کو عالمی معیار کے مطابق ترقی دے کر برآمدات اور معاشی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان قدرتی وسائل، نوجوان افرادی قوت، زرعی صلاحیت، معدنی ذخائر، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور اپنے منفرد جغرافیائی محلِ وقوع کی بدولت غیر معمولی معاشی امکانات کا حامل ملک ہے۔

ان صلاحیتوں سے بھرپور استفادہ کے لیے پالیسیوں میں تسلسل، ادارہ جاتی اصلاحات، توانائی کے شعبے کی تنظیمِ نو، برآمدات پر مبنی صنعتی حکمت عملی اور نجی شعبے کے ساتھ مؤثر مشاورت کو یقینی بنانا ہوگا تاکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو اور پاکستان سرمایہ کاری کے لیے ایک پرکشش منزل بن سکے۔ پاکستان کی معیشت میں بہتری کے آثار ضرور موجود ہیں، لیکن ان اشاروں کو حقیقی اقتصادی خوشحالی میں تبدیل کرنے کے لیے حکومت کو اصلاحات کے اگلے مرحلے میں داخل ہونا ہوگا۔

مالیاتی نظم و ضبط کے ساتھ ساتھ پیداواری شعبے کی بحالی، برآمدات میں غیر معمولی اضافہ، توانائی کی لاگت میں کمی، کاروبار دوست ٹیکس نظام اور نجی سرمایہ کاری کے فروغ پر فوری توجہ دی جائے۔ کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ہمیشہ حکومت کے ساتھ تعمیری تعاون کے لیے تیار ہے کیونکہ مضبوط صنعت، مضبوط تجارت اور مضبوط کراچی ہی ایک مضبوط، مستحکم اور خوشحال پاکستان کی ضمانت ہیں۔

محمد جاوید بلوانی

ایران اور امریکا کشیدگی نے پھر ثابت کیا ہے جغرافیائی سیاسی تنازعات کس تیزی سے عالمی معیشت کو متاثر کرتے ہیں ۔توانائی درآمد کرنے والی حیثیت سے پاکستان کے لئے اس بحران سے معاشی استحکام کو مضبوط بنانے اور بیرونی انحصار کم کرنے کی ضرورت کو مزید اجاگر کیا ہے۔ پاکستان آج دوسال پہلے کی نسبت زیادہ مضبوط معاشی بنیادوں کے غیریقینی عالمی صورت حال کا سامنا کررہا ہے۔

افراط زر میں نمایاں کمی آئی ہے۔ بیرونی شعبے کی صورت حال بہترہوئی ہے، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا ہے اور بیرون ملک پاکستانیوں کی ترسیلات زر تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے لیکن اس کے باوجود پاکستان اب بھی معاشی ترقی ،صنعتی مسابقت اور سرمایہ کاری کے میدان میں اپنےعلاقائی حریف ممالک سے بہت پیچھے ہے۔ ویتنام، بھارت، انڈونیشیا اور بنگلہ دیش ہم سے آگے ہیں۔ آج پاکستان کی حالت یہ ہے ہم کسی ترقی کےلیےادھار نہیں لے رہے بلکہ پچھلے قرض اتارنے کے لیے نیا قرض لے رہے ہیں۔

دنیا میں قرض لینے سے مراد کوئی نیا کاروبار شروع کرکے کمانا ہے جب کہ ہمارے یہاں قرض صرف قرض اتارنے کےلیے لیا جارہا ہے جو خراب صورت حال کی طرف اشارہ کرتا ہے ۔ پاکستان کی صنعت کو آج بھی توانائی کےبلند نرخوں ،مہنگی فناسنگ، پیچیدہ ٹیکس نظام، ریفنڈز میں تاخیر، پالیسیوں میں عدم تسلسل، محدود برآمدی تنوع اور کم عمر غیر ملکی سرمایہ کاری جیسے مسائل کا سامنا ہے، یہی عوامل پاکستان کی پیداواری لاگت بڑھانے اور عالمی منڈی میں اس کی مسابقت کم کرتے ہیں۔

ویتنام نے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران برآمدات پر مبنی صنعتی حکمت عملی اختیار کی ،مستقل پالیسیوں ،کم توانائی لاگت ،جدید اور کاروبار دوست ماحول کی بدولت آج ویت نام دنیا کے اہم مینوفیکچرنگ مراکز میں شمار ہوتا ہے ۔بھارت نے فارماسوٹیکل اور دیگر صنعتوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری حاصل کی، وسیع مقامی منڈی، بہتر انفراسٹرکچر،ڈیجیٹل اصلاحات اور پالیسیوں کے تسلسل نے بھارت کی عالمی مسابقت میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ انڈونیشیا کو قدرتی وسائل، نسبتا توانائی میں خودانحصاری اور مضبوط گھریلو مارکیٹ کا فائدہ حاصل ہے، تیل گیس پام آئل اور معدنیات کی برآمدات نے اسے عالمی توانائی بحرانوں کے دوران بھی نسبتاً مستحکم رکھا ہے۔

بنگلہ دیش نے ریڈی گارمنٹس کی صنعت کو قومی ترجیح بنایا،کم پیداواری لاگت ،بہتر پیداواری صلاحیت، خواتین کی وسیع افرادی قوت اور عالمی برانڈز کے ساتھ مضبوط روابط نے اسے دنیا کے بڑے ملبوسانی برآمد کنندگان میں شامل کردیا ہے۔ اس کے برعکس پاکستان کی صنعت آج بھی بلند توانائی نرخوں ،مہنگی فناسنگ، پیچیدہ ٹیکس نظام، ریفنڈز میں تاخیر ،پالیسیوں میں عدم تسلسل،محدود برامدی تنوع اور کم عمر غیر ملکی سرمایہ کاری جیسے مسائل کا سامنا کررہی ہے ،یہی عوامل پاکستان کی پیداواری لاگت بڑھانے اور عالمی منڈی میں اس کی مسابقت کم کرتے ہیں۔

ایران امریکا تنازع کا پاکستان کی معیشت کے لیے بڑا امتحان ہے ۔پاکستان کی سب سے بڑی معاشی کمزوری درآمدی توانائی پر انحصار ہے ۔پاکستان اپنی تقریباً81 فیصد پٹرولیم خلیجی ممالک سے درآمد کرتا ہے ۔تقریباً90 فیصد تیل کی درآمدات آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوتی ہے۔ اس تنازع کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں ،شپنگ اخراجات اور انشورنس پریمیم میں اضافہ ہوا ہے ۔جس سے پاکستان کے درآمدی بل، مہنگائی ،بجلی کی پیداواری لاگت اور صنعتی اخراجات پر براہ راست دبائو پڑا۔

تمام چیلنجز کے باوجود پاکستان کے لیے کئی مواقع موجود ہیں۔ عالمی کمپنیاں اپنی سپلائی چین کو متنوع بنارہی ہیں، جس سے پاکستان کی ٹیکسٹائل اور ویلیوایڈڈ مینوفیکچرنگ فائدہ پہنچ سکتا ہے ۔خلیجی ممالک، وسطی ایشیا اور دیگر خطوں کے ساتھ تجارتی روابط مضبوط بنانے کے نئے امکانات پیدا ہوئے ہیں اگر پالیسیوں میں تسلسل برقرار رکھا جائے تو پاکستان مزید برآمدات اور غیرملکی سرمایہ کاری حاصل کرسکتا ہے۔

پاکستان معاشی بحران سے نکل کر استحکام کے مرحلے میں داخل ہوچکا ہے لیکن آج عالمی معیشت میں صرف استحکام کافی نہیں اصل کامیابی ان ممالک کو حاصل ہورہی ہے جو کم لاگت پر پیداوار، جدید صنعت، برآمدات میں تنوع مضبوط انفرا اسٹرکچر اورسرمایہ کار دوست پالیسیوں کے ذریعے اپنی مسابقت میں مسلسل اضافہ کررہے ہیں۔ ایران امریکا تنازع نے پھر ثابت کیا ہے کہ توانائی پر انحصار بلند پیداواری لاگت اور کمزور صنعتی مسابقت پاکستان بڑے معاشی خطرات ہیں۔

اگر پاکستان توانائی ٹیکس برآمدات، سرمایہ کاری اور صنعتی اصلاحات پر مستقل مزاجی سے عمل کرے تو وہ اپنی جغرافیائی اہمیت ،نوجوان افرادی قوت اور صنعتی صلاحیت کو بروئے کار لا کر نہ صرف علاقائی ممالک کا مقابلہ کرسکتا ہے بلکہ آئندہ دہائی میں مضبوط برآمدی معیشت بھی بن سکتا ہے ۔پاکستان نے معاستی استحکام حاصل کرلیا ہے اب وقت آگیا ہے کہ اس استحکام کو مسابقت سرمایہ کاری صنعتی ترقی اور برآمدات میں مبنی پائیدار معاشی نمو میں تبدیل کیا جائے۔

پاکستان میں غربت کی شرح میں اضافہ ہورہا ہے ،یہ حکومتوں کی ناکامی ہے ،ابتدائی چند برسوں کے علاوہ ہمیں کبھی بھی بجٹ ٹارگٹ حاصل نہیں ہوا ۔جس کی بنیادی وجہ میرٹ پر عمل درآمد کا نہ ہونا ہے، تعلیمی اداروں سے لے کر حکومت بنانے تک کہیں میرٹ نہیں ہے۔ پاکستان کی ایکسپورٹ دو مرتبہ 35 فیصد سے 28 فیصد تک گئی، اگر سالانہ 35 فیصد گروتھ شروع ہوجائے تو دس سال میں کہاں پہنچتی، پچھلے 78سال میں ایکسپورٹ میں صرف دو مرتبہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

اس کامیابی کے لیے ہم نے تمام اسٹیک ہولڈرز کو شامل کرکے ٹیکسٹائل پالیسی بنائی تھی۔ ہم نے پالیسی میں جتنی گروتھ لکھی تھی اضافہ اس سے زیادہ ہوا تھا مگر ہمیشہ کی طرح چند لوگوں کو ایکسپورٹ میں اضافہ برا لگا ۔ گیس دریافت ہونے پردنیا کہتی تھی اب پاکستان کی تقدیر بدل جائے گی لیکن ہم نے اسے ڈومیسٹک استعمال کیا جہاں 47 فیصد لائن لاسز ہیں۔ آئی پی پیز کا معاملہ دیکھیں، نہ ڈسٹری بیوشن سسٹم نہ ٹرانسمیشن لائن ہے۔

ایف بی آر میں انفورسمنٹ ڈیپارٹمنٹ میں  بڑی تعداد میں اسٹاف ہےجس کا کام ٹیکس نیٹ میں اضافہ کرنا ہے۔میں چیئرمین ایف بی آرسے اس شعبے کی کارکردگی کا پوچھتا ہوں ۔لیڈر شپ کا فقدان پاکستان کی سب سے بڑی خامی ہے۔پاکستان تیزی سے ترقی کرنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔ جس کی ٹھوس وجوہات ہیں، جیسے پاکستان کا جغرافیائی محل و قوع، پاکستان سے براستہ سڑک انڈیا چین سینٹرل ایشیا اور پورے یورپ تک جاسکتے ہیں ۔دنیا کی بہت بڑی آبادی تک ہماری زمینی راستے سے رسائی ہے، اتنی اچھی لوکیشن اور موسم کے ساتھ ہم نے پاکستان کا برا حال کررکھا ہے۔

ایک زمانے میں ہماری کپاس کی کاشت بھارت سے زیادہ تھی ،آج بنگلہ دیش میں ہم سے زیادہ اسپننگ چل رہی ہیں ۔پورے خطے کی سب سے مہنگی بجلی اور گیس پاکستان میں ہے، ہماری سیاست سے لے کر بیوروکریسی کرپٹ ہے ،پورے ریجن کا سب سے خراب لا اینڈآرڈر پاکستان کا ہےاور ہماری خواہش ہے معیشت ٹھیک ہوجائے، معیشت ٹھیک کرنے کے لیے یہ سب چیزیں ٹھیک کرنی پڑے گی۔صرف بجٹ اہداف سے معیشت نہیں چلتی۔

ایک زمانے میں ویت نام ہم سے پیچھے تھا اب ہم سے بہت آگے ہے ۔ہم گاڑیاں بناتے تھے, اگر ہمارے بیوروکریٹ ایمان دارہوتے تو وہ کام آج بھی چل رہا ہوتا۔ چین ہم سے سائیکل امپورٹ کرتا تھا ہم نے وہ بھی بند کردی۔ ایف بی آر میں صرف اسٹاف بڑھ رہا ہے، ٹیکس نیٹ بڑھانے والا ان کا شعبہ انفورسمنٹ بالکل بے کار ہے، ہم نے ریفنڈ کے لیے ایک ایماندار افسر سے ایف بی آر میں سسٹم اٹومیشن کروایا تھا۔خوش ہونے کے بجائے اس کام پرایف بی آر میں لوگ ناراض ہوگئے تھے کیوں کہ ان کا دھندا بند ہوگیا۔ ان خرابیوں کے باجود ہمیں ناامیدنہیں ہونا چاہیے سب ٹھیک ہوسکتا ہے۔

حاضرین کے سوالات

شیرعلی خان آزاد: نئی کمپنی رجسٹرڈ کیوں نہیں کی جاتی، سرکاری ملی بھگت سے ہونے والی رشوت اورٹیکس چوری کی روک تھام کیسے ہو ؟

محمد جاوید بلوانی: راشی افسران رجسٹریشن میں رکاوٹ ہیں ،چھوٹے دکان داراسی خوف سے رجسٹریشن سے بھاگ رہے ہیں کہ اس کے بعد یہ ہمیں کسی نہ کسی بہانے سے پریشان کریں گے ۔

ریحان حنیف: اس کی روک تھام کا حل ڈیجیٹلائزیشن ہے جب کام کےلیے لوگوں سے رابطہ ختم ہوگا کرپشن بھی ختم ہوگی ۔اس کی مثال پاسپورٹ آفس ہے پہلے سارا کام مینویل ہوتا تھا لائن سے لے دفتری کام تک، ہم سب اپنے کام کو آسان کرنے کے لیے کام پیسے دے کر ایجنٹ سے کراتے تھےلیکن جب سے پاسپورٹ آفس میں کام ڈیجیٹلائز اور کمپیوٹرائزہواہےایجنٹ کی افادیت ختم ہوگئی کمپیوٹر کام کا نمبر دیتا ہے سارا کام خود بخود ہوتا ہے لہذا یہ سلسلہ ختم ہوگیا۔ ڈیجیٹلائزیشن اور آٹومیشن سے سرکاری آمدنی بڑھے گی اور کرپشن ختم ہوگی، شفافیت کا یہی بہترین حل ہے۔

عبدالقادرمیمن: پاکستانی نوجوانوں کو ناامید ہونے کی ضرورت نہیں ہے، ہمارا نوجوان کارکردگی کے لحاظ سے دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے۔ آپ اپنے ارد گرد آگے بڑھنے کے مواقع تلاش کریں ،پاکستان آگے بڑھنے کے لیے بہترین جگہ ہے۔

سرفرازمصطفی: اس بجٹ میں بڑی ریفارمز کاروبار اور کاروباری کےلیے کیا ہوسکتی ہے ؟

عبدالقادر میمن: اس بجٹ میں کچھ ہونہ ہو لیکن اس مرتبہ جو بھی شخص اس ملک کی اکنامی میں کچھ کررہا ہے وہ ٹیکس کے نظام کا حصہ بن کر کچھ نہ کچھ حصہ ڈالے۔ آخری آنے والے این ایف سی ایوارڈ پر نظر ثانی کی ضرورت ہے ،کیوں کہ اس کے بعد صوبے امیر اور فیڈریشن غریب ہوگیا ہے۔ نیا این ایف سی ایوارڈ آنا چاہیے جس میں صوبے اپنے پیروں پر کھڑے ہوں۔ ہمارا ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو بھی اس اقدام کے بغیر نہیں بڑھے گا۔

وجیہہ خالد: حکومتی اقدامات سے کس حد تک مہنگائی میں کمی کی امید ہے ؟

عبدالقادر میمن: مہنگائی گلوبلی ہے ،جنگ کی وجہ سے پٹرول مہنگا ہے پٹرول سے ہرشے کا تعلق ہے۔ اس لیے مہنگائی کو فوکس نہیں ہونا چاہیے ۔ ٹیکس نیٹ میں اضافہ ،تمام مالی ٹرانزیکشن کو کوشش کرکے ڈیجیٹلائزڈ اور آٹومیشن کیا جائے۔

آدم اسمتھ نے کہا تھا قانون کو آسان ہونا چاہیے، دوسرا حکومت اتنا ہی ٹیکس میں اضافہ کرے جتنی اس کی ضرورت ہو، ہم پر بیرونی قرض سے زیادہ اندرونی قرض ہے، ایک زمانے میں حکومت اپنے اندرونی قرض پر 24فیصد تک سود اداکرتی تھی جوبتدریج کم ہوکر10 فیصد پر آگیا تھی لیکن جنگ کی وجہ سے دوبارہ اضافہ ہوا ہے۔

حکومت نے سب سے زیادہ لیوی ہائی آکٹین پر لگائی ،حکومت کی نیت تھی کہ اس طرح استعمال کرنے والے محتاط ہوجائیں گے ۔لیکن دلچسپ بات ہے کہ مجھے ایک سرکاری افسر نے بتایا کہ مہنگا ہونے کے باوجود اپریل میں پٹرول کا استعمال مارچ کے مہینے سے زیادہ رہا۔

ریحان حنیف: ہرالزام حکومت پرلگانا بھی درست نہیں ہے ،رات بارہ بجے کے بعد آپ کسی بھی سڑک پرنکل جائیں چائے کے دھابے پر مہنگائی سے پریشان مڈل اور لوئرمڈل کلاس بیٹھا چائےنوشی کرتا نظرآئے گا ۔آدھی رات کو بیٹھ کر پیسہ اور وقت ضائع کرنے والے صبح کیاکام کریں گے۔

پریانکا ڈیسائی: حکومت کو پرائیوٹ سیکٹرز کوکیا مراعات اور سہولیات دینا چاہیے ؟

محمد ریحان حنیف: حکومت ایکسپورٹرز کو کوئی مراعات نہیں دے رہی ۔بجلی گیس ایکسپورٹرز کا خام مال ہوتا ہے ،2200 روپے گیس کی قیمت ہے اورہمیں وہ چار ہزار روپے میں دی جارہی ہے بنگلہ دیش میں سبسڈی دی جاری ہے حکومت گیس سے کمارہی ہے ۔حکومت گیس کے بجائے ایکسپورٹ بڑھا کر ڈالر کمائے،بیوروکریسی کی بے جا مداخلت کو روکا جائے ۔

حسن نواز: پاکستان کے معاشی صورت حال کی خرابی کی وجہ کیا ہے ؟

عبدالقادر میمن: پاکستان دیوالیہ ملک نہیں ہے، دیوالیہ ہونے سے مراد آج ملنے والی ہر شے ڈبل مہنگی ہوجائے گی ،پھر ہمیں مہنگی شرائط پر قرض ملے گا ۔ان ہی خطرات سے بچنے کےلیے ہمیں آمدنی بڑھانے کی ضروت ہے ۔

محمد جاوید بلوانی: آج پاکستان کی حالت یہ ہے ہم کسی ترقی کےلیےادھار نہیں لے رہے بلکہ پچھلے قرض اتارنے کےلیے نیا قرض لے رہے ہیں ۔دنیا میں قرض لینے سے مراد کوئی نیا کاروبار شروع کرکے کمانا ہے جب کہ ہمارے یہاں قرض صرف قرض اتارنے کےلیے لیا جارہا ہے جو خراب صورت حال کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

جنگ: آپ کے نزدیک وہ کون سے پانچ اقدامات ہیں جس سے ہمارے مالی مسائل بہتر ہوں ؟

عبدالقادر میمن: لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کےلیے حوصلہ افزائی کی جائے ان کےلیے آسانیاں لائیں ۔ٹیکس ریٹ کو ریشنلائز کریں ،کم از کم پانچ سال میں بتدریج کم کرنے کا پروگرام ضرور لائیں کوئی ہدف مقرر کرنا چاہیے ۔ڈیجیٹلائزیشن اورآٹومیشن کےلیے آسان اسکیم لاناچاہیے۔ ٹیکس دینے والوں کی حوصلہ افزائی کے لیے ترغیبات کے لیے قوانین بنانے چاہیے۔

اگر کسی کو سو روپے دینے ہیں تو اسے قسط وار ہی سہی دینا تو شروع کریں تاکہ ٹیکس دینے والاآپ پر اعتبار کرے۔ حکومت پاکستان کو ڈیبٹ کے لے این ایف سی ایوارڈ میں تین چار شعبے فیڈریشن کو واپس دینا چاہیے نیشنل فنانس کمیشن پر نظر ثانی ہونا چاہیے۔

محمد جاوید بلوانی: حکومت کو نئے کاروبار کے لیے پالیسی بنانی چاہیے جس میں ابتدائی چار پانچ سال نئے کاروبارکو کوئی نہیں پوچھے گا۔ توانائی کی قیمت کم ہونی چاہیے، ٹیکس ریٹ کم کیا جائے اور ٹیکس نیٹ کو بڑھایا جائے۔ پاکستان کا قرض اتارنے کے لیے سالانہ 25 سے30فیصد ایکسپورٹ بڑھانا ضروری ہے۔ جس کے لیے ہم وزیرخزانہ سے ملے ہیں ان کو کچھ تجاویز بھی دی ہیں۔

محمد ریحان حنیف: ٹیکسوں کی شرح کم ہونی چاہیے ،غیرضروری ایگزمشن جیسے فاٹا اور پاٹا کو دیا گیا تھا یہ ختم ہونا چاہیے۔ ٹیرف ریفارمز ہونی چاہیے۔ٹیرف ریفارمز کے ذریعےاسمگلنگ کوختم کرنا چاہیے۔ غیر ضروری پرتعیش اشیا پرنان ٹیرف بیریئر لگائیں اگر روٹین میں استعمال کرنے والی غیرملکی اشیا کے بجائے ملکی اشیا استعمال کریں تو ہمارے ٹھیک ٹھاک ڈالر بچیں گے ،ہمیں بحثیت قوم اپنی ذمہ داری کا احساس کرناچاہیے۔

جنگ فورم  سے مزید