میزبان: محمد اکرم خان
ایڈیٹر، جنگ فورم
رپورٹ: سلیم اللہ صدیقی
تصاویر: محمد جنید
سرمایہ کاری نہ ہونے اور نئی صنعتیں نہ لگنے سے روزگار کے مواقع محدود ہیں، تنخواہ دار طبقے پر زیادہ ٹیکس سے ان کی قوت خرید متاثر ہوئی ہے جس کی وجہ سے ہماری مقامی صنعتیں پوری طرح نہیں چل رہی۔
ہمارا کرنٹ اکاوئنٹ قابومیں ہے اسٹیٹ بینک کےمحفوظ ذخائر میں بھی اضافہ ہوا ہے، بجلی قیمت اور شرح سود میں مزید کمی پر حکومت اور پالیسی میکرز متفق ہیں، نئے مالی سال میں کوآپریٹیو ٹیکس 29 فیصد سے کم کرکے 27 فیصد اور سپر ٹیکس کو ختم کیا جائے۔
سیلری کلاس سے ٹیکس کم اور دیگر ٹیکسوں میں کمی اور ختم کرنے کی طرف جایا جارہا ہے ان تجاویز کے نفاذ سے انڈسٹری کی کارکردگی میں بھی اضافہ ہوگا جس سے روزگار کے مواقع بڑھیں گے جس کا ثمر عام آدمی کو ملے گا۔
ہماری اسٹاک مارکیٹ اچھا کام کررہی ہے اس کے انڈیکس میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جو ملکی معیشت پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کی علامت ہے، نج کاری پالیسی سے پاکستان کو فائدہ ہوا ہے نیشنلائزیشن کے زمانے میں حکومت بینکوں میں سالانہ پیسے ڈالتی تھی، لیکن نج کاری کے بعد ہر بینک سے50 ارب سے زیادہ کا ٹیکس وصول کرتی ہے، پاکستان معاشی طور پر درست سمت پر گامزن ہے ،امید ہے اگلے دو تین سال میں پاکستانی بہت اچھے دن دیکھیں گے۔
پی آئی اےاچھا چلے گی تواس کے پہلے بینیفشری اس کے مسافر ہوں گے انہیں بہترین سروس کے ساتھ براہ راست پرواز ملے گی ، ہمیں مزید جہاز لینے ہیں لہذا پی آئی اے سے اسٹاف کم نہیں ہوگا، اگلے تین سال میں ہمارا فریٹ 18 سے بڑھ کر 38 جہازوں پر مشتمل ہوگا جس کے لیے مزید اسٹاف درکار ہوگا ۔60 کے قریب نئے پائلٹ اور کیبن اسٹاف رکھنے کا پراسیس جاری ہے، شراکت داروں نے اپنا سرمایہ لگا دیا ہم اسے ڈوبنے نہیں دیں گے، پاکستان اگر میرٹ پر فیصلے کرے تو آئی ایم ایف کے پاس جانے کی ضرورت نہیں ہوگی اور اگر ایسا نہیں ہوا تو آئی ایم ایف کے پاس جائے بغیر کوئی چارہ نہیں ہوگا۔
فوجی فاونڈیشن نے یواے ای سے سرمایہ کاری کا کہا ہے فوجی فاونڈیشن کو ایک بلین ڈالر کےانویسٹر فنڈ ملیں گے۔ یواے ای کا ایک بلین ڈالر حکومت پر قرض ہے جو پاکستان میں ڈیپازٹ ہے وہ اس طرح سرمایہ کاری میں بدل جائے گا۔
لوگ زیادہ پیسے بیرون ملک میں جمع کررہے ہیں۔ میں تو کہتا ہوں جو لوگ پیسے ملک سے باہر رکھتے ہیں انہیں پھانسی دینی چاہیے زراعت روزگار کا سب سے بڑا ذریعہ ہے حکومت کے چاہیے وہ زراعت کی بحالی کے طویل المیعاد منصوبے بنائے، رئیل اسٹیٹ میں حکومت کے پاس بہت زمینیں ہیں ان کے پاس ساحلی زمین، ریلوے کی پراپرٹی اور دیگر مقامات پر موجود ہیں ۔ وہ پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ میں مونیٹائز کرسکتے ہیں۔
پاکستان برسوں سے مسائل کا شکار ہے موجودہ حالات میں کچھ خبریں بہت بری ہیں تو کچھ اچھی بھی سننے کو ملی ہیں۔ بری خبروں میں مہنگائی، گرتی برآمدات اورانرجی بحران وغیرہ شامل ہیں۔ لیکن بہت اچھی خبریہ ہے کہ پاکستان کے معروف کاروباری شخصیت اور عارف حبیب کے کنسورشیم نے قومی ائیرلائن پی آئی اے خرید لی ہے، ان کا یہ عمل بتاتا ہے کہ انہیں پاکستان کے مستقبل پر مکمل اعتماد ہے انہوں نے پی آئی اے کے75 فیصد شیئرزخرید لیے ہیں۔
یہ پاکستانی معیشت کے لیے بہت بڑی خبر ہے ۔آج جنگ فورم کے مہمان عارف حبیب گروپ کے چیئرمین ہیں جو جنگ فورم کے پروگرام ایوان خاص ’’میںمعاشی بحالی پی آئی اے سے پاکستان تک‘‘ کے موضوع پر بات کریں گے۔ ہم اس موقع پر MITE یونی ورسٹی اور ان کی ریکٹر ڈاکٹر ہمابقائی کے بھی مشکور ہیں اپنی گفتگو کا آغاز ڈاکٹر ہما بقائی سے کرتے ہیں۔
ہمابقائی: پی آئی اے کی نج کاری پاکستانی معیشت کے لیے سنگ میل ہے قومی ائیرلائن کو کافی عرصے سے پرائیویٹائیز کرنے کی کوششیں جاری تھیں، لیکن سب کے متفق ہونے کے باوجود کسی نہ کسی وجہ سے معاملہ التوا کا شکار تھا۔ لیکن اب پی آئی اے کی شفاف نج کاری ہوگئی ہے،کہا جاتا ہے اگر ملک میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ آئے تو ہمارے معاشی حالات بدل ہوجائیں گے۔ اس ضمن میں غیرملکی سرمایہ کاروں کو ترغیب اوراعتماد دینے کے لیے قومی معیشت میں ملکی کاروباری افراد کی سرمایہ کاری ضروری ہے۔
پی آئی اے کی نجکاری ہماری معیشت کے لیے اچھی مثال اور آغاز ہے، ابھی کئی اور اداروں کو بدلنے کی ضرورت ہے ۔میرا شعبہ تعلیم ہے تعلیم کا بوجھ بھی صرف ریاست نہیں اٹھاسکتی یہاں بھی پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ کی ضرورت ہے۔
ماضی میں ہمارے یہاں بینکنگ سیکٹرمیں کامیاب نجکاری ہوئی ہے، جس کے متعلق یہ رائے ہے کہ نج کاری سے بینکنگ سیکٹرنے بہت کمایا لیکن کیااسی طرح وہ فائدہ قومی معیشت کو ہورہا ہے۔ ہمارا عارف حبیب سے بھی یہ سوال ہے کہ یہ نج کاری کس طرح سے مختلف ہوگی۔
عارف حبیب: میرا تعلق کیپیٹل مارکیٹ سےہے جس کا کام اچھی امیدیں بیچنا ہیں۔ میں پاکستان کو مواقع کی سرزمین سمجھتا ہوں، میرے والدین بے سروسامانی میں 1948 میں بھارت سے ہجرت کرکے پاکستان آئے تھے، میرے دیگر بھائی ملازمت کرتے تھے میں گھر کا پہلا فرد تھا جس نے کاروبار شروع کیا ،ہماری ترقی اور کامیابی پاکستان کی وجہ سے ہے۔
میں پاکستانی معیشت کے تین مراحل پر بات کروں گا ۔کوویڈ نے2020 میں دنیا بھرمیں کہرام مچا دیا تھا لیکن پاکستان کی کارکردگی اچھی رہی ،پھر روس یوکرین جنگ سے مہنگائی کی عالمی لہر آئی بدقسمتی سے ان ہی دنوں پاکستان میں سیاسی عدم استحکام بھی شروع ہوگیا، پی ٹی آئی حکومت نے جاتے ہوئے بڑی معاشی غلطیاں کیں تو نئی پی ڈی ایم حکومت نےغلطیاں دہرائیں ایک موقع پر پاکستان ڈیفالٹ کے دہانے پر تھا تاہم حکومت نے آئی ایم ایف پروگرام میں شامل ہوکر اس خطرے سے نکال لیا تھا لیکن دوسری طرف آئی ایم ایف کی ریفارمز انتہائی سخت تھیں۔
روپے کی قدر کم ہونے سے مہنگائی بڑھ گئی ،کاروباراور صنعتوں کو بحران کا سامنا کرنا پڑا جس نے عوام کے مسائل میں اضافہ کردیا تھا ۔پاکستان ابھی تک اس نقصان سے نہیں نکل سکا ہے، آئی ایم ایف نےحکومتی قرضے کم کرنے کے لیے سبسڈیز کو واپس لینے اور شرح سود میں اضافے کی ہدایت کی تھی، دوہزار24 میں ہمارا بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 8 فیصد ہوگیا تھا پھر ٹیکسوں میں اضافے کے ساتھ تمام سبسڈیز کوواپس لے لیا گیا ،بجلی اور گیس کے مہنگے ہونے کی وجہ بھی سبسڈیز کا خاتمہ ہے۔
آئی ایم ایف کی ہدایت نے حکومت کے مالی وسائل کو سنبھالا بجٹ خسارہ کم ہوا لیکن مہنگائی نے عوام کی مشکلات بڑھا دیں۔ ان وجوہات کی سے ہم دنیا میں ان کمپوٹیٹیو ہوگئے ان حالات میں ہم ڈالر نہیں کما سکتے تھے۔ ڈالر کی مشکل سے نکلنے کے لیے پاکستان نے دوست ملکوں سے مدد لی۔ ہم نے امپورٹ ڈالر کے اخراجات سے بچنے کےلیے یہ نعرہ لگایا کہ ہماری امپورٹ اب ایکسپورٹ اور ریمی ٹینسس سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔
حکومت کی اس پالیسی نے ہماری معیشت کو سنبھالا دیا تھا ،پچھلے دو ڈھائی سال سے روپے کی قدرمستحکم ہے جو خوش آئند علامت ہے۔ پرانی مہنگائی برقرار ہے لیکن اس کے مزید بڑھنے کی رفتار بہت کم ہوگئی ہے لیکن ابھی تک سرمایہ کاری اور نئی صنعتیں نہ لگنے سے روزگار کے مواقع محدود ہیں، تنخواہ دار طبقے پر زیادہ ٹیکس سے ان کی قوت خرید متاثر ہوئی ہے جس کی وجہ سے ہماری مقامی صنعتیں پوری طرح نہیں چل رہی ۔آج ہم جس مقام پر ہیں وہاں اچھی امید زندہ ہیں، کیوں کہ ہمارا کرنٹ اکاوئنٹ قابو میں ہے اسٹیٹ بینک کے محفوظ ذخائر میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
حکومت اور پالیسی میکرز اس بات پر متفق ہیں کہ بجلی کی اور شرح سود مزید کم ہونا چاہیے، نئے مالی سال میں کوآپریٹیو ٹیکس29 فیصد سے کم کرکے27 فیصد اور سپر ٹیکس کو ختم کیا جائے۔ سیلری کلاس سے ٹیکس کم اور مزید ٹیکسوں میں کمی اور ختم کرنے کی طرف جایا جارہا ہے۔
جب ان تجاویز کا نفاذ ہوگا تو آپ کی انڈسٹری کی کارکردگی میں بھی اضافہ ہوگا پھر روزگار کے مواقع بڑھیں گے ان فوائد کا ثمر عام آدمی کو ملنا شروع ہوجائیں گے۔ اگر ٹیکس میں کمی اور مہنگائی میں اضافہ نہ ہو اور نارمل انکریمنٹ لگتے رہیں تو پھران کی آمدنی بہتر ہوگی اس کا مثبت اثر ہر چیز پر پڑے گا۔
معیشت کی خرابیاں بٹن کے استعمال سے ٹھیک نہیں ہوتی اسے درست کرنے میں وقت لگتا ہے ۔ملٹی نیشنل کمپنیاں معیشت کی سمت دیکھتی ہیں اگر وہ ٹھیک ہیں تو انہیں اطمینان ہوتا ہے۔ ہماری اسٹاک مارکیٹ اچھا کام کررہی ہے اس کے انڈیکس میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، یہ ملکی معیشت پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کی علامت ہے۔ مقامی سرمایہ کاروں کی بھی سکت بڑھی ہے حالیہ دنوں بڑی سرمایہ کاری کی کمٹمنٹ ہوئی ہیں۔
پی آئی اے کی نیلامی میں سرمایہ کاروں کی دلچسپی کی وجہ بھی اسٹاک مارکیٹ کی مثبت کارکردگی اور مستقبل کےلیے حکومتی سمت کا درست ہونا تھا جواس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ لوگ حکومت کے مستقبل کے روٹ میپ سے مطمئین ہیں۔ نج کاری پالیسی سے پاکستان کو فائدہ ہوا ہے۔
نیشنلائزیشن کے زمانے میں حکومت بینکوں میں سالانہ پیسے ڈالتی تھی، لیکن نج کاری ہونے سے ہر بینک سے50 ارب سے زیادہ کا ٹیکس وصول کرتی ہے، اس کے ساتھ بینکوں میں روزگار کے مواقع بڑھے ہیں وہاں تنخواہیں اچھی ہوگئی ہیں، اسی طرح فرٹیلائزر سیمنٹ اور دیگر جن سیکٹرز کی نج کاری ہوئی ان یونٹس کا معیشت میں حصہ ہے، وہ زیادہ پیداوار دیں زیادہ سروسس بڑھائیں ٹیکس دیں لوگوں کو روزگار فراہم کریں معیشت میں یہ ہی تین چیزیں ہوتی ہیں جو یونٹس بھی اس طرح کام کررہے ہیں وہ ہماری معیشت کی معاونت کررہے ہیں۔
انڈسٹری کا کوئی بھی یونٹ روزگار کی سبیل ہے۔ اس وقت معاشی طور پر پاکستان درست سمت میں سفر کررہا ہے امید ہے اگلے دو تین سال میں پاکستان میں بہت اچھے دن دیکھیں گے۔
جنگ: پی آئی اے کے 25 فیصد باقی شیئرز کیا مستقبل ہے ؟
عارف حبیب: پی آئی اے کے75فیصد شیئرز فروخت ہوئے ہیں باقی 25 فیصد کی نیلامی اگلے90 دن میں ہوسکتی ہے ،ہمارے کنسورشیم نے اس نیلامی میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے ۔25 فیصد شیئرز کی قیمت 45 بلین روپے بنتی ہے، اس ٹرانزیکشن کے اسٹرکچر کے مطابق اس کی مکمل ویلیو180 بلین روپے ہے، جس میں سے 125 بلین روپے کمپنی کی ڈیولپمنٹ میں جائے گا جس میں نئے جہاز خریدے جائیں گے، مینٹی نینس اور بیوٹی فیکیشن ہوگی ملازمین کی دیکھ بھال اور کمپنی میں اچھے قابل لوگوں کوملازمت میں رکھنا اس فنڈ کے استعمال میں شامل ہے باقی 55 بلین روپے حکومت کے پاس جائے گا۔
جنگ: کیا آپ کے کنسورشیم نئے شراکت دارشامل ہوسکتے ہیں؟
عارف حبیب: نیلامی کے بعد بھی کنسورشیم میں شراکت دار بڑھانے کی گنجائش تھی ،75 شیئرز کے کنسورشیم میں نئے شراکت دار فوجی فرٹیلائزر بھی شامل ہوگئے ہیں یہ پی آئی اے کے مزید 25 فیصد شیئرز کی نیلامی میں ہمارے ساتھ شامل ہوں گے۔
جنگ: نج کاری کے بعد عوام پی آئی اے میں کیا بنیادی تبدیلیاں دیکھیں گے ؟
عارف حبیب: ہمیں پی آئی اے کے مسائل کو سمجھنا ہوگا جو چار تھے ۔پہلا ،مہنگا ایندھن ہے، پی آئی اے اپنا کرایہ ایندھن کےمارکیٹ قیمت کے مطابق نہیں بڑھاتا تھااس لیے انہیں نقصان اٹھانا پڑتا تھا، بلند شرح سود دوسرامسئلہ ہے، کسی بھی کاروبار میں اگر خسارہ ہوتا ہے تو اس میں اسپانسر مزید پیسے ڈالتے ہیں تاکہ کمپنی اپنی مالی وعدوں کو پورا کرلے ماضی میں پی آئی اے کو جوبھی خسارہ تھا، اس میں حکومت گارنٹی دے کر پی آئی اے پر مزید قرض بڑھا دیتی تھی، بینک سرکاری گارنٹی پر پی آئی اے کو لون دیتا رہا ہے جس کے نتیجے میں قومی ائیرلائن پر700 بلین روپے کا بینک لون تھا۔
جس پر سالانہ شرح سود بھی بڑھ جاتا تھا ۔اسی وجہ سے پی آئی اے کا سالانہ مالی بجٹ 35 سے 40 بلین روپے کے خسارے سے شروع ہوتا تھا، پی آئی اے آپریٹنگ منافع تو کچھ سال میں کمالیتی تھی۔ تیسرا مسئلہ ڈی ویلیویشن کا تھا، ائیرلائن کے معاملات غیر ملکی کرنسی میں ہوتے ہیں ،روپے کی قدر گرنے سے انہیں کافی نقصان ہوتا تھا، انہوں نے ڈالر 100 روپے میں خریدا اور واپس180 روپے کرنا پڑ رہے ہیں تو یہ بڑا خسارہ تھا۔
چوتھا مسئلہ پراپرآنر شپ کا نہ ہونا تھا، سرکاری انتظامیہ نقصان میں لون دے کر مدد فراہم کردیتی تھی لیکن ادارہ چلانے کے لیے سالانہ جس طرح کی سرمایہ کاری کی ضرورت پڑتی ہے مثلاً جہازوں کی مرمت ،صفائی وغیرہ وہاں استعمال کے لیے مالی وسائل نہیں تھے ۔پی آئی اے کا30 جہازوں کا فریٹ ہے جس میں 18 سروس کے قابل ہیں، بقیہ12 گراونڈڈ ہیں۔
پی آئی اے کے پاس ٹریفک کے ساتھ ڈیمانڈ بھی ہے جسے پورا کرنے کے لیے مزید جہازوں اور سروس بہتر کرنے کی ضروت ہے، اسٹاف اس کی ٹریننگ، لباس، کیٹرنگ وغیرہ سب کو بہتر کرنا ان اقدامات سے کمپنی کی کارکردگی میں اضافہ ہوگا اور مسافروں کا اعتماد حاصل ہوسکے گا جس سے ائیرلائن کی ڈیمانڈ مزید بڑھے گی جس سے آمدنی میں اضافہ ہوگا۔
پی آئی اے کو کئی بہتر مواقع حاصل ہیں ،پاکستان250 ملین آبادی کا ملک ہے جسے اچھی ہوائی سروس کی ضرورت ہے ہمارے یہاں مذہبی سفر جیسے حج عمرہ زیارتیں زیادہ ہوتا ہے جو بڑی مارکیٹ ہے۔
دوسرا یہاں سے یورپ اور دیگر ممالک سفر کرنے والی عوام دیگر ائیر لائن میں سفر کرنے پر مجبور ہیں پاکستانی مسافروں کو دبئی یا کسی اور مقام پر رکنا پڑتا ہے جس سے وقت اور خرچ دونوں بڑھتے ہیں۔
پی آئی اے اگران مقامات کی براہ راست پرواز شروع کرتا ہے تو مسافروں کو کرایہ اور وقت دونوں میں فائدہ ہوگا۔ دوہزار 25 میں پی آئی اے نے پی آئی اے نے 2024 میں 26 ارب 20 کروڑ روپے کا مجموعی منافع کمایا تھا۔
جنگ: کہا جارہا ہے آپ نے منافع بخش پی آئی اے خریدی ہے ؟
عارف حبیب: ادارے کا منافع بخش ہونا خوشی کی بات ہے منافع بخش ادارہ ہی اپنے پاوں پر کھڑا ہوگا، پی آئی اے اچھا چلے گی تو اس کے پہلے بینیفشری اس کے مسافر ہوں گے، انہیں بہترین سروس کے ساتھ براہ راست پرواز ملے گی، اگر ایمریٹس جیسی سروس پی آئی اے فراہم کرے گی تو لوگ اس میں سفر کرنا پسند کریں گے۔
دوسرے بینفیشری ملازمین ہوں گے، ہمیں مزید جہاز لینے ہیں لہذا پی آئی اے سے اسٹاف کم نہیں ہوگا ایک زمانے میں 14 ہزار ملازمین تھے اب ساڑھے چھ ہزار ہیں اور ڈھائی ہزار کنٹریکٹ پر کام کررہے ہیں ہمیں امید ہے اگلے تین سال میں ہمارا فریٹ18 سے بڑھ کر38 جہازوں پرمشتمل ہوگا جس کے لیے ہمیں مزید اسٹاف درکار ہوگا۔ ابھی60 کے قریب نئے پائلٹ اور کیبن اسٹاف رکھنے کا پراسیس چل رہا ہے۔ فکر ان لوگوں کو کرنی ہوگی جو کارکردگی نہیں دکھا رہے۔
پی آئی اے کو معیاری لوگوں کی ضرورت ہے اگر اسٹاف ادارے کو اپنا سمجھ کر کام نہیں کرے گا تو وہ کیسے ترقی کرے گا۔ شراکت داروں نے اپنا سرمایہ لگا دیا ہم اسے ڈوبنے نہیں دیں گے۔ اچھی کارکردگی کےلیے معیاری لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے جنہیں اچھی تنخواہ اور مراعات دینی ہوتی ہے۔
تیسرے بینیفیشری حکومت ہوگی جسے ٹیکس کی صورت میں آمدنی ملے گی اور چوتھا پی آئی اے کی ڈیولپمنٹ ہے ۔مسافروں کواچھی سہولت دے کر اسٹاف کو مطمئین کرکے حکومت کو ٹیکس ادا کرنے کے بعد بچنے والے پیسے ائیرلائین کی ڈیولپمنٹ پر لگائے جائیں گے یہ بھی عوام کا فائدہ ہے۔
اگر یہ چاروں کام اسپانسراور شیئرہولڈرز ٹھیک طرح کرنے میں کامیاب ہوگئے توباقی بچنے والے پیسے شیئرہولڈرز میں تقسیم ہوں گے۔ لیکن اگر چار کام ٹھیک نہیں ہوئے تو نئے شیئر ہولڈرز بھی حکومت پاکستان بن جائے گا اور منہ چھپاتا پھرے گا۔
جنگ: رواں سال اپریل کے بعد پی آئی اے مکمل نجی شعبے کے پاس چلی جائے گی تو کرائے میں مقابلے کا امکان ہے ؟
عارف حبیب: جی ہاں یہ نیچرل ہے، اگر پی آئی اے کو بین الاقوامی اور لوکل ائیرلائن سے مقابلہ کرنا ہے اور سروس بھی اچھی دینی ہے تو یہ ہوگا لیکن یہ بیلنس میں ہوگا ۔
جنگ: آپ کے خیال میں پاکستان نے آئی ایم ایف کے پروگرام آخری مرتبہ لیا ہے ؟
عارف حبیب: میں آئی ایم ایف کو پاکستان کے لیے نعمت سمجھتا ہوں ،آئی ایم ایف بیمار معیشت کےلیے ڈاکٹر ہے کوشش کریں ڈاکٹر کے پاس نہ جایا جائے خود صحت مند رہنے کی کوشش کریں۔ پاکستان اگر میرٹ پر فیصلے کرے تو آئی ایم ایف کے پاس جانے کی ضرورت نہیں ہوگی اور اگر ایسا نہیں ہوا تو آئی ایم ایف کے پاس جائے بغیر کوئی چارہ نہیں ہوگا۔
عتیق الرحمٰن: معیشت کی بنیاد درست نہیں، یورپی یونین اور بھارت کے تجارتی معاہدے کو دیکھنا ہوگا، تجارتی خسارہ کم نہیں ہورہا
عارف حبیب: حکومت چلانے کے معاملے میں ہم سرپلس ہیں اگر ہماری آمدنی کم اور اخراجات زیادہ ہیں۔ اس مرتبہ دو اعشاریہ چھ فیصد جی ڈی پی وہ پونے دو ٹریلین روپے بنتا ہے، ہم شرح سود کی وجہ سے دبائو کا شکار ہیں۔ہم اپنی آمدنی سے قرضوں کی سروسس پوری نہیں کرپار ہے۔
پاکستان کا قرضہ جی ڈی پی کا 70 فیصد ہے وہ امریکا کا اور جاپان کا دوسو فیصد ہے لیکن انہیں ایڈوانٹیج یہ ہے کہ جاپان اور امریکا میں شرح سود صفر ہے لیکن پاکستان پر شرح سود بہت بلند ہے اس لئے پاکستان مشکلات کا شکار ہے ۔ شرح سود گرنے کا زیادہ فائدہ قومی خزانے کو ہوتا ہے۔
اس سے نمٹنے کےلیے جیسے جیسے ہماری معاشی سرگرمیاں بڑھیں گی تو وہ آمدنی بڑھائے گی۔ دیگر ممالک کے مقابلے میں ہمارا ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو کم ہے اس میں حکومت کی کوتاہیاں ہیں تاہم امید ہے اس حوالے سے اچھی خبریں ملیں گی جہاں تک تجارتی خسارے کا تعلق ہے بدقسمتی سے پاکستان نے برآمدات میں خراب کارکردگی دکھائی ہے جو ہمارے ایکسپورٹر کےلیے لمحہ فکریہ ہے۔
صنعت کار ایکسپورٹر اکثر یہ کہتے ہیں کہ ایکسپورٹ بڑھانے کے لیے روپے کی قدر کم کریں ،لیکن ہم دیکھتے ہیں آج ڈالر280 روپے کا ہے جب روپے کی قدر60 روپے تھی ہماری ایکسپورٹ تب بھی اسی مقام پر تھی۔
پاکستان میں کچھ لوگ جس میں کاروباری اور سیاست دان سمیت دیگر شعبوں کے لوگ شامل ہیں وہ ڈالر کا کاروبار کرتے ہیں وہ ڈالر جمع کر کے رکھ لیتے ہیں اور پاکستان کی جب بھی خراب پوزیشن دیکھتے ہیں وہ اپنے مفاد میں پاکستان کے مفاد کے خلاف ہوجاتے ہیں، وہ حکومت پر روپے کی قدر کم کرنے اسے اوپن کرنے کی مہم چلا کر دباؤ ڈالتے ہیں ایک موقع پر حکومت گھبراہٹ میں فیصلہ کرلیتی ہے جس سے انہیں فائدہ لیکن حکومت اور عوام دونوں کوبڑا نقصان ہوجاتا ہے جس کے نتائج بھی خراب نکلتے ہیں۔
صنعت کاروں کاروباری برادری اور خاص طور پرنئی نسل کو سوچنا چاہیے کہ وہ ملکی ایکسپورٹ بڑھانے والے کام کریں۔ اس کے لیےحکومت ماحول بنائے۔ اسکول کالج اور یونی ورسٹی میں ایکسپورٹ بڑھانے والی تعلیم دینے کی ضرورت ہے کہ نوجوان ابھی سے ایسے شعبوں کو دیکھیں ویسے ہمارے نوجوان آئی ٹی میں اچھی کارکردگی دکھا رہے ہیں۔
ایاز: پی آئی اے کے خسارے کا بوجھ عوام پر پڑتا تھا نج کاری کے بعد اس کا عوام کو کیا فائدہ ہوگا؟
عارف حبیب: پی آئی اے پر مالی بوجھ اس ادارے کا خسارے کی وجہ سے ہوا۔یہ بوجھ بجٹ پر نہیں گیا،خسارے سے نمٹنے کے لیے لون لیا گیا۔ یہ نقصان حکومت پاکستان نے کیا تھا نیا خریدار تو نقصان نہیں
بھرے گا، نئے خریدار ہولڈنگ کمپنی پر ساڑھے چھ سو بلین روپے کا لون رہ گیا ہے، ساڑھے چھ سو بلین کے سامنے ادارے کے اثاثے ہیں، نیویارک کا ہوٹل، پیرس کا ہوٹل اسلام آباد اور کئی مقامات پر رئیل اسٹیٹ کے اثاثے ہیں جو ہولڈنگ کمپنی اپنے پاس رکھے گی، وہ اسے بیچ کر اس قرض کوکم کریں گے لیکن میرا خیال ہے اس کے بعد بھی حکومت کو کم از کم سو بلین کی ذمہ داری لینی پڑے گی جو حکومت بجٹ میں رکھے جسے ہم نے دیگر ٹیکس ادا کرنے نے ادا کرنا ہوگا ۔
جین کمار: ہم میڈیکل کے شعبے پر کام کرتے ہیں جس میں بیرون ملک لوگوں کو پاکستان علاج کےلیے مارکیٹنگ کرتے ہیں ہم بڑےپیمانے پر یہ کام کیسے کریں ؟
عارف حبیب: آپ کا یہ آئیڈیا بہت اچھا ہے تھوڑی محنت کریں اور سرمایہ کاری کے لیے کسی بینک کو ڈھونڈیں۔ پاکستان میڈیکل کے شعبے میں دیگر ممالک کے مقابلے میں کافی سستا اور بہت اچھا ہے۔پاکستان میں اچھی سے اچھی سرجری کم قیمت پر ہوجاتی ہے۔
زبیر زکی: اڑان پاکستان موجود ہے چارٹر آف اکانومی کیوں نہیں ہورہا۔
عارف حبیب: ہمارا ہرحکومتوں سے رابطہ رہا ہے سب نےعزت دی۔ ہماری سنی بھی اور ہمارے پچاس فیصد مشورے فوری تسلیم بھی کئے اور مزید کے لیے وقت مانگا ،چارٹرآف اکانومی موجود ہے۔ حکومتیں ضرور بدلیں لیکن نارملی ہماری معاشی پالیسی پر کوئی بڑا فرق نہیں آیا، عمل درآمد پر فرق ہوسکتا ہے کچھ لوگ زیادہ بہترکام کرتے ہیں ۔ہمارا بڑا مسئلہ بدانتظامی ہے ،حکومت سیاسی ہو یا غیرسیاسی باتیں سب کی اچھی تھیں، لیکن عمل درآمد کے موقع پر فرق آجاتا ہے۔
ہم نے عموماً ذاتی مفاد کوحاوی دیکھا ہے، جب قومی اورذاتی مفاد کا ٹکراؤ ہوتا ہے اس امتحان میں جس کو موقع ملا اس نے اپنے مفاد کو آگے بڑھایا ہے جس کا نقصان قوم کو اٹھانا پڑا۔ ان خرابیوں کی بنیادی وجہ اصل جمہوریت کا نہ ہونا ہے اگر منتخب افراد کو یہ احساس ہو کہ وہ عوامی ووٹ سے ہی جیتیں گے تو وہ کارکردگی دکھانے پر مجبور ہوں گے۔
جو گھر بیٹھے جیتے وہ قوم کےلیے کام نہیں کرتے ۔پاکستان میں لوگوں نے بہت ترقی کی ہے، ہمارے ایجوکیشنل اداروں کو مضبوط کردار کا بننا بھی سکھانا چاہیے اگر بنیادی ضروریات اچھی طرح پوری ہورہی ہیں تو منفی چیزوں سے گریز کرنا چاہیے اور دوسرے کے حق کو تسلیم کرنا چاہیے۔
پاکستان کو علاقائی تنازعات سے نقصان کا سامنا ہے ،ہم نے ہرحکومت سے بھارت سے تنازعات کے خاتمے کی بات کی ہے دو طرفہ تعلقات کو بات چیت کرکے بہتر کرنا ضروری ہے، ہمارا اپنے ریجن میں ہر ایک سے کوئی نہ کوئی تنازعہ ہے۔ ایسے میں بلوچستان جیسے واقعات کا سامنا رہے گا۔ ہمیں مستقل حل کےلیے کوششیں کرنی چاہیے۔
نوشین وصی: علاقائی تنازعات کے خاتمے کے لیے ہماری حکومتیں کس حد تک سنجیدہ رہی ہیں۔ بے نظیر بھٹو کے دور حکومت میں پی آئی اے کے آٹھ فیصد شیئرز نج کاری کا سنا تھا لیکن اب زیادہ کا سنا ہے اور کیا یواے ای سے بھی کوئی سرمایہ کاری ہوئی ہے ؟
عارف حبیب: سابق آرمی چیف جنرل باجوہ نے مجھ سے کہا تھا کہ ہماری بھارتی وزیراعظم مودی سے اس بات پر اتفاق ہوگیا ہے ہمارا خطہ ترقی کرے کیوں کہ کوئی بھی ملک انفرادی طور پر آگے نہیں بڑھ سکتا پورا خطہ ترقی کرتا ہے اس لیے ہم تمام اختلافات بات چیت سے حل کرلیں گے۔
مشرف حکومت بھی معاملات کے حل کے قریب پہنچ گئی تھی ،عمران خان بھارت میں پاپولر تھے ہم ان سے بھی تعلقات میں بہتری لانے کےلیے کہتے تھے ۔لیکن کیوں کجہ بھارت ہم سے بہت آگے نکل گیا ہے وہ ہمیں لفٹ نہیں کراتا۔
گزشتہ سال ’آپریشن بنیان مرصوص‘ میں کامیابی سے ہمارے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے اور اب امید کی جانی چاہیے ٹرمپ کو درمیان میں رکھ کر کوئی بات بن جائے پاک بھارت تعلقات میں بہتری کےلیے ہمارا دباؤ رہنا چاہیے۔
بے نظیر بھٹو کے دور میں ملازمین کو 8فیصد شیئرز دئے گئے جو ان کی حکومت جانے کے بعد روک دیا گیا تھا۔پی آئی اے پہلے کارپوریشن تھی، نواز حکومت 2016 میں اسے کمپنی بنادیا گیا تھا۔
فیلڈ مارشل آرمی چیف جنرل عاصم منیر کراچی آئے تھے اس موقع پرایک ہال میں تمام کاروباری حضرات موجود تھے، ان کا کہنا تھا پی آئی اے خریدنے کے لیے کئی ممالک کی دلچسپی ہے۔ لیکن ہماری خواہش ہے پی آئی اے ہمارے لوگ چلائیں۔
انہوں نے دوبارہ دس بارہ گروپ کوراولپنڈی بلاکر انہیں پی آئی اے کو لینے کی خواہش ظاہر کی۔ تو ہم نے ان سے کہا تھا آپ ہم سے پی آئی اے میں سرمایہ لگانے کا کہہ رہے ہیں، آپ کا اپنا بہت بڑا ادارہ فوجی فاونڈیشن ہے وہ بھی شیئرز میں حصہ دار بنے تو انہوں نے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ چھ شیئرز آپ لائیں دو ہمارے ہوں گے۔
انہوں نے اسی وقت پی آئی اے کی شراکت داری میں فوجی فاوئنڈیشن شامل کرنے کا کہا تھا پھرپی آئی اے کی نیلامی کے موقع پرہم نے یاد دلایا توان کہنا تھا نیلامی میں جو کامیاب ہوگا ہم اس کے ساتھ شامل ہوجائیں گے اگر لکی گروپ کامیاب ہوجاتا تو فوجی فاؤنڈیشن اس کے ساتھ بھی شامل ہوتی۔
جہاں تک متحدہ عرب امارات کی انویسٹمنٹ کا تعلق ہے ،فوجی فاوئنڈیشن کے زیرنگرانی کئی کاروبار ہیں۔ فوجی فاونڈیشن نے یواے ای سے سرمایہ کاری کا کہا ہے، فوجی فاونڈیشن میں ایک اسپیشل پرپزوئیکل کمپنی بنائی جائے گی جس میں یواے ای ایک بلین ڈالر کے برابرسرمایہ کاری سے اپنی شیئرز ہولڈنگ ڈال دیں گے اس طرح فوجی فاونڈیشن کوایک بلین ڈالر کے انویسٹر فنڈ ملیں گے ۔یواے ای کا ایک بلین ڈالر حکومت پر قرض ہے جو پاکستان میں ڈیپازٹ ہے وہ اس طرح سرمایہ کاری میں بدل جائے گا ۔
مجید عزیز: ہماری نوجوان نسل میں بہت ٹیلنٹ ہے لیکن وسائل نہیں ہیں پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ان کے آئیڈیاز پر کام کے لیے کوئی فنڈ ہونا چاہیے، حکومتیں اسمال انڈسٹریز پر زیادہ کام کیوں نہیں کرتی۔
عارف حبیب: میں نے زندگی بھر ایکسپورٹر کوحکومتوں سے مدد مانگتے ہوئے دیکھا ہے حکومتوں نے اکثران کی مانگ پوری بھی کی ہے لیکن سب کچھ دینے کے بعد بھی نتیجہ پرانا ہی نکلا ہے۔
یہاں صرف پالیسی کا مسئلہ نہیں ہے کارکردگی کا بھی تعلق ہے ۔ہمارے لوگوں کو ٹھیک کام کرنا چاہے یہ لوگ زیادہ پیسے بیرون ملک میں جمع کررہے ہیں۔ میں تو کہتا ہوں جو لوگ پیسے ملک سے باہر رکھتے ہیں انہیں پھانسی دینی چاہیے۔
پاکستان کے وسائل بیرون ملک کیوں ہیں جب کمایا یہاں سے ہے تو رکھو بھی تاکہ پاکستان کے وسائل بڑھیں پیسے اگر رشوت کے بھی ہیں تو ملک میں رکھو آپ کے وسائل ملک میں تو رہیں گے۔
نوجوان اپنے آئیڈیاز لے کر ہماری سیکورٹیز میں آئیں ان کے پاس انویسٹر ہوتے ہیں اگر نوجوانوں کا منصوبہ کسی انویسٹر کو سمجھ میں آئے گا تو وہ یقینا اس میں شراکت داری کرے گا۔پاکستانی نوجوان دنیا میں کسی سے کم نہیں ہیں۔
تطہیرا: کامیاب کاروباری بننے کےلیے نوجوان کیا کریں ؟
عارف حبیب: اچھی تعلیم، معلومات اور محنت کریں۔ کوئی بھی کام کرنے سے پہلے انٹرن شپ کریں اس سے بہت سیکھنے کو ملتا ہے۔
جنگ: پی آئی اے اسپورٹس میں بڑا نام تھا نج کاری کے بعد کیا یہ دوبارہ ہوجائے گا۔
عارف حبیب: ہمارا پہلا ٹارگٹ پی آئی اے کو پیروں پر کھڑا کرنا ہے۔ یہ کام اس کے بعد کریں گے۔
جنگ: آئی ایم ایف پروگرام کی وجہ سے گندم سے سبسڈیز ختم کردی گئی جس کی وجہ زراعت کا شعبہ مرگیا ہے ہمارے کسانوں کو پانچ کھرب روپے کا نقصان ہوا ہے۔ دوسرا رئیل اسٹیٹ یہ شعبہ سب سے زیادہ روزگار فراہم کرتا ہے مکمل بیٹھ گیا ہے اس کی بحالی کے لیے کیا ہونا چاہیے۔
عارف حبیب : پاکستان میں زراعت روزگار کا سب سے بڑا ذریعہ ہے حکومت کے چاہیے وہ زراعت کی بحالی کے طویل المیعاد منصوبے بنائے ،ان کا خاص خیال کریں اس کاروبار میں واپسی بھی جلد ہوتی ہے کوئی فضل چھ ماہ میں اور کوئی سال میں کما کردیتی ہے۔
رئیل اسٹیٹ میں حکومت کے پاس بہت زمینیں ہیں ان کے پاس ساحلی زمین، ریلوے کی پراپرٹی اور دیگر مقامات پر موجود ہیں۔ وہ پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ میں مونیٹائز کرسکتے ہیں۔
اس ماڈل میں ڈالمین لاہور بنا ہے ڈی ایچ اے نے زمین فراہم کی اور ڈالمین نے تعمیر کیا جس کا فائدہ دونوں پارٹیوں کو ہوا اور انڈسٹری بھی چلی۔ یہ شعبہ ایسا ہے کہ اگر آج فیصلہ ہو تو کل سے کام شروع ہوجائے گا لوگوں کو روزگار بھی ملنا شروع ہوجائے گا، حکومت سنجیدگی سے اس بات پر غور کررہی ہے۔