اسلام آباد (طاہر خلیل) سینیٹ کی اطلاعات ونشریات کمیٹی نے براڈکاسٹنگ کارپوریشن ترمیمی بل حکومتی مخالفت کے باوجود منظور کرلیا۔سینیٹر سرمد علی کی زیر صدارت اجلاس میں ترمیمی بل 2025پر تفصیلی غور، اجلاس میں براڈکاسٹنگ کارپوریشن ترمیمی بل 2025پر تفصیلی غور کیا گیا۔ کمیٹی نے حکومت کی مخالفت کے باوجود بل کو کثرت رائے سے منظور کر لیا۔ بل کے محرک سینیٹر عبدالقادر نے کہا کہ کچھ سرکاری ادارے مسلسل نقصان میں چل رہے ہیں اور ان کی کارکردگی اطمینان بخش نہیں۔ انہوں نے ارکان پارلیمنٹ کی اہم اداروں کے بورڈز میں نمائندگی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ سے ایک ایک رکن سرکاری ملکیتی اداروں کے بورڈ میں ہونا چاہیے، جنہیں اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ نامزد کریں۔ انہوں نے بتایا کہ سرکاری ٹی وی اور ریڈیو بھی ایس او ایز کی فہرست میں شامل ہیں۔ سینیٹر عبدالقادر نے کہا کہ پارلیمنٹ اور قائمہ کمیٹیاں غیر موثر فورم بن چکی ہیں، تیس تیس سال کی ناکامیوں کا خاتمہ ضروری ہے۔ پی ایس او چار ہزار ارب روپے کا کاروبار کرتا ہے مگر منافع صرف ایک فیصد ظاہر کرتا ہے۔ بورڈ ممبر بننے سے بہتر نگرانی ممکن ہو گی جبکہ ایم این اے یا سینیٹر کی حیثیت برقرار رہے گی۔ سینیٹر سرمد علی نے کہا کہ تمام ایس او ایز کے لیے ایک ہی بل ہونا چاہیے اور ایس او ایز ایکٹ میں ترمیم کی ضرورت ہے۔ حکومتی سینیٹر پرویز رشید نے بل کی شدید مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ قائمہ کمیٹیاں بورڈز سے اوپر ہیں اور ان کے کام کی نگرانی کرتی ہیں۔ اگر ارکان پارلیمنٹ بورڈ ممبر بن جائیں تو قائمہ کمیٹیوں کا کردار کیا رہ جائے گا؟