کراچی (ٹی وی رپورٹ) اپوزیشن لیڈر سینیٹ سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا ہے کہ مہذب معاشروں میں احتجاج آئینی حق ہے، حکومت خوفزدہ کیوں ہے۔ سینئر صحافی اور تجزیہ کار حامد میر نے کہا کہ علیمہ خان کی گرفتاری سے سیاست کی بیلنس شیٹ خراب، انتقام کے اثرات دہائیوں تک بھگتنا پڑیں گے۔ جیو نیوز کے پروگرام ”نیا پاکستان“ میں میزبان شہزاد اقبال نےاپنے تجزیئے میں کہا کہ 27 ستمبر کے لانگ مارچ سے قبل پی ٹی آئی کے خلاف کارروائیاں تیز ہوگئیں، علیمہ خان کو کوٹ لکھپت منتقل کردیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر سینیٹ سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ مہذب معاشروں میں اپنے حقوق کے لئے آواز اٹھانا ایک آئینی اور قانونی حق سمجھا جاتا ہے۔جماعت اسلامی اور مولانا فضل الرحمن کو ملک بھر میںجلسے کرنے کی اجازت حاصل ہے، اسی طرح پی ٹی آئی کے کارکن بھی پاکستانی شہری ہیں انہیں بھی پُرامن احتجاج کا حق حاصل ہونا چاہئے۔حکومت پُرامن جلسوں اور احتجاج سے خوف زدہ کیوں ہے۔ ہمارے لئے تمام راستے بند کر دیئے گئے ہیں اور سپریم کورٹ کے احکامات کو بھی تسلیم نہیں کیا جاتا۔سینیٹر راجہ ناصر عباس نے کہا کہ علیمہ خان کو یہ کہہ کر حراست میں لیا گیا کہ وہ امنِ عامہ کے لئے خطرہ ہیں۔سڑکوں پر کنٹینر لگا کر راستے بند کرنا کہاں کا انصاف ہے؟۔ پی ٹی آئی پُرامن طور پر اسلام آباد آئے گی اور کسی سے تصادم نہیں چاہتی۔ احتجاج سے قبل پیش گوئیاں کرکے رکاوٹیں کھڑی کر دی جاتی ہیں، تاہم احتجاج پُرامن ہوگا اور اس کا نتیجہ بھی پُرامن طریقے سے سامنے آئے گا۔ سینیٹر راجہ ناصر عباس نے کہا کہ ایسا راستہ اختیار نہیں کرنا چاہتے جس کے نتیجے میں، خدا نخواستہ، دونوں جانب پاکستانی شہریوں کی جانیں ضائع ہوں۔ حکومت کو چاہئے مذاکرات کرے اور پُرامن احتجاج کے لئے مناسب انتظامات کرے۔حکومت احتجاج کرنے والوں سے بات چیت کرے۔