• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مغرب کی بالادستی ختم، طاقت کا توازن مشرق منتقل ہو رہا ہے، مشاہد حسین

کراچی (ٹی وی رپورٹ) چیئرمین پاک چائنا انسٹی ٹیوٹ،مشاہد اللہ سید نے کہا ہے کہ مغرب کی 300 سالہ بالادستی ختم، طاقت کا توازن مشرق کی جانب منتقل ہو رہا ہے، حوثی سعودی کشیدگی ایران امریکہ تنازع کا نتیجہ ہے، مکہ کی جانب ڈرون حملہ اسرائیل کی فالس فلیگ کارروائی ہے، چین سائنس و ٹیکنالوجی میں امریکہ کا متبادل بن گیا۔ وہ جیو نیوز کے پروگرام ’’جرگہ‘‘ میں سلیم صافی سے گفتگو کررہے تھے۔ تفصیلات کے مطابق پروگرام کے آغاز میں میزبان سلیم صافی نے کہا کہ دنیا تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ آج کے پروگرام میں اس بنیادی سوال کا جائزہ لیا جائے گا کہ عالمی سطح پر ہونے والی تبدیلیوں کی نوعیت کیا ہے اور خصوصاً خطے میں رونما ہونے والی تبدیلیاں مستقبل کے حالات پر کس طرح اثرانداز ہو سکتی ہیں۔ امریکا، جو طویل عرصے تک دنیا کی واحد سپر پاور سمجھا جاتا رہا، اب اسے چین کی جانب سے بڑھتے ہوئے چیلنج کا سامنا ہے۔ سوال یہ ہے کہ چین عالمی سطح پر امریکا کا کس حد تک متبادل بن رہا ہے اور عالمی طاقت کا توازن کس سمت میں منتقل ہو رہا ہے۔ چیئرمین پاک چائنا انسٹی ٹیوٹ،مشاہد اللہ سید نے حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ صورتحال ایران اور امریکا کے درمیان جاری تنازع کے اثرات کا نتیجہ ہے۔ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد خطے میں تنازع کے متعدد محاذ کھل گئے ہیں، تاہم انہیں موجودہ صورتحال میں امن کی کچھ امید بھی نظر آرہی ہے۔ مشاہد حسین سید نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حوثیوں کے ساتھ معاہدہ کیا ہے، جبکہ چینی وزیر خارجہ نے بھی واضح موٴقف اختیار کیا ہے کہ پائیدار امن کے لئے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کو محور بنایا جانا چاہئے۔ چین نے ایران اور امریکا پر زور دیا ہے کہ وہ اس مفاہمتی عمل کی جانب واپس آئیں۔ انہوں نے آبنائے ہرمز کی صورتحال کو بھی ایران اور امریکا کے درمیان جاری تنازع کے اثرات سے جوڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ حوثیوں کے حوالے سے یہ توقع رکھنا کہ وہ ایران کے موٴقف یا پالیسی سے مکمل طور پر الگ ہو کر لڑیں گے، درست نہیں، کیونکہ وہ خود ایک مسلح قوت کے طور پر میدان میں موجود ہیں۔ مشاہد حسین سید نے کہا کہ امریکا کی جانب سے سعودی عرب کی حمایت سے انکار کو امریکی پالیسی میں ایک اہم تبدیلی کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، جس کے نتیجے میں سعودی عرب کا پاکستان پر انحصار بڑھ سکتا ہے۔
ملک بھر سے سے مزید