تفہیم المسائل
سوال: میرا ایک دوست شوکت افریقہ میں رہتا تھا، اس نے مجھ سے میری بلڈنگ میں گھر خریدا، اس نے ایک افریقی خاتون سے شادی کی، جس سے اس کی کوئی اولاد نہیں ہے، میرے دوست شوکت کا انتقال ہوچکا ہے، اس افریقی خاتون کے بارے میں بھی کچھ پتا نہیں ہے، زندہ ہے یا فوت ہوچکی ہے۔
شوکت کی تین بہنیں اور چار بھائی تھے، ایک بھائی شوکت کی زندگی میں فوت ہوگیا تھا، اب تین بھائی اور تین بہنیں حیات ہیں، اس صورت میں شوکت کا ترکہ کیسے تقسیم ہوگا؟ اس کی بیوہ کا حصہ ہوگا یا نہیں؟ (محمد زبیر ،کراچی)
جواب: اگرصورتِ مسئلہ وہی ہے، جو آپ نے بیان کی ہے اور ورثاء وہی ہیں، جو سوال میں مذکور ہیں، تو مُتوفّٰی شوکت کا کل ترکہ36حصوں میں تقسیم ہوگا: بیوہ کو 9حصے، تینوں بھائیوں کو18حصے(فی کس6حصے) اور تینوں بہنوں کو9حصے(فی کس3حصے) ملیں گے۔
شوکت کا جو بھائی اس کی زندگی میں فوت ہوگیا تھا، اُسے یا اُس کی اولاد کو ترکے سے کچھ نہیں ملے گا، البتہ تقسیمِ وراثت سے پہلے سب ورثاء اتفاقِ رائے سے فوت شدہ بھائی کی اولاد کو کچھ دینا چاہیں تو دے سکتے ہیں اور تقسیمِ وراثت کے بعد کوئی وارث تبرُّعاً اپنے حصے سے کچھ دینا چاہے تو دے سکتا ہے، قرآن کریم میں بھی اس کی ترغیب دی گئی ہے۔
شوکت کی لاپتا بیوہ کا حصہ محفوظ رکھاجائے گا، اس کے بارے میں علم ہونے پر اس کے حوالے کیا جائے گا یا اُس کی موت کے بارے میں کوئی ثبوت حاصل ہوجائے، تو اس کے جو ورثاء موجود ہوں گے، اُن کے درمیان شریعت کے مطابق تقسیم کردیاجائے گا۔
اگر مفقود (Missing Person) کے کسی مُورِث (یعنی مالِ وراثت چھوڑ کروفات پانے والے) کا انتقال ہوا ہو اور اُس کے وارثوں میں مفقود کے علاوہ دوسرے بھی ہیں، تو جن ورثاء کا حصہ مفقود کی زندگی اور موت سے تبدیل نہیں ہوتا، ان کو پورا حصہ دے دیاجائے گا اور جو وارث مفقود کو زندہ ماننے سے محروم ہوتے ہیں اور مردہ ہونے سے وارث ہوتے ہیں، اُن کا حصہ محفوظ رکھا جائے گا، تاوقتیکہ مفقود واپس آجائے یا اس کی موت کا حکم دے دیا جائے۔
جن وارثوں کا حصہ مفقود کو زندہ ماننے کی صورت میں کم ہوتا ہے اور مردہ ماننے کی صورت میں زیادہ ہوتا ہے، تو ان کو کم والاحصہ دے دیا جائے اور ممکنہ زائد حصے کا بقیہ محفوظ رکھاجائے گا اور مفقود کی حقیقتِ حال معلوم ہونے پر اس کے مطابق تقسیم کردیا جائے گا۔ نوٹ: مُورِث اسے کہتے ہیں، جو مال ِ وراثت چھوڑ کر وفات پاجائے اور کوئی اس کا وارث بنے۔
امام سراج الدین محمد بن عبدالرشید (مُصنفِ سراجی )لکھتے ہیں: ترجمہ: ’’مفقود شخص اپنے مال کے اعتبار سے زندہ ہے، حتّٰی کہ اُس کا کوئی وارث نہیں ہوگا (یعنی اس کا مال بطور وراثت تقسیم نہیں ہوگا) اور دوسرے شخص کی میراث کے بارے میں وہ مردہ شمار کیا جائے گا اور وہ کسی کا وارث نہیں بنے گا، اُس کا مال موقوف رکھاجائے گا، یہاں تک کہ اُس کی موت ثابت ہوجائے یا اس پر(طویل) مدت گزر جائے ۔اور اِس مدت کے بارے میں مختلف روایات ہیں ،(فقہِ حنفی) ظاہر روایت یہ ہے کہ جب اُس کے ہم عصروں میں کوئی زندہ نہ رہے تو اس کی موت کا حکم دے دیا جائے گا۔
حسن بن زیاد نے امام اعظم ؒ سے روایت کیا ہے کہ جس دن مفقود پیدا ہوا، اُس دن سے یہ مدت ایک سو بیس سال شمار ہوگی اور امام محمدؒ نے فرمایا کہ ایک سو دس سال شمار ہوگی اور امام ابو یوسف ؒ نے فرمایا: ایک سو پانچ سال شمار ہوگی اور بعض (دیگر) علماء نے یہ مدت 90سال بیان کی ہے اور اِسی پر فتویٰ ہے ،‘‘ (سراجی ،ص:107)‘‘۔
موجودہ دور میں سوسال تک اس مال کو محفوظ رکھنا مشکل کام ہے، اسے مفقودالخبر شوہر پر قیاس کرتے ہوئے کم ازکم چار سال تک انتظار کیاجائے اور جہاں اس کے ملنے کا امکان ہو، وہاں تمام ممکنہ ذرائع سے تشہیر کی جائے اور آج کل سوشل میڈیا تشہیر کا ایک مؤثر ذریعہ ہے، پس اگر وہ اس عرصے میں نہ ملے تو اُس کی موت کا سرکاری سطح پر حکم لگایا جائے اور پھر اس کے ورثاء مل جائیں تو ان کے حوالے کردیا جائے۔
اسلامی ریاست میں جہاں بیت المال کا نظام قائم ہوتا ہے، وہاں بیت المال میں ایک شعبہ اس طرح کے اموال کی حفاظت کے لیے قائم کرنا چاہیے، جو مفقود کے حصے کواس کی تلاش تک محفوظ رکھے اور اس کی موت ثابت ہونے کے بعد اس کے ورثاء تک پہنچانے کا اہتمام کرے، ایسے ریاستی انتظام کی صورت میں طویل عرصے تک انتظار کیا جاسکتا ہے، کیونکہ بیت المال یاریاستی خزانہ طویل عرصہ تک اس کی حفاظت بھی کرسکتا ہے اور وقت آنے پر ادائیگی کا انتظام بھی کرسکتا ہے۔
علّامہ نظام الدین ؒ لکھتے ہیں: ترجمہ:’’ اور مالِ غیر کے حق میں اس طرح مردہ اعتبار کیاجائے گا گویا وہ اُسی روز فوت ہوگیا تھا ، جس دن مفقود ہوا،’’ذخیرہ‘‘ میں اسی طرح ہے ، کہ اگر اُس کے مفقود ہونے کی حالت میں وہ لوگ فوت ہوئے، جن کا یہ مفقود وارث بنتا ہے تو مفقود کا حصہ محفوظ رکھاجائے گا یہاں تک کہ اس کا حال(زندہ یا مردہ ہونا) واضح ہوجائے، کیونکہ یہ احتمال ہے کہ شاید وہ زندہ ہو، پھر مذکورہ بیان کردہ مدت گزر جائے، تو ہم اُس کی موت کا حکم دیں گے اور اس کا سب مال اس کے موجود ورثاء کے درمیان تقسیم کیاجائے گا اورترکہ غیر سے جو مفقود کا حصہ رکھا گیا ہے، وہ اس غیر کے وارثان کو واپس کیاجائے گا اوراُنہیٍ وارثوں میں تقسیم ہوگا، گویا کہ مفقود کا وجود ہی نہ تھا ،(فتاویٰ عالمگیری ،جلد6،ص:456)‘‘۔
پس اگر اُس افریقی خاتون یا اُس کے ورثاء کے بارے میں کچھ معلوم نہ ہوسکے تو اُس کا حصہ شوکت کے بھائی بہنوں کے درمیان تقسیم کردیا جائے اور تقدیرِ الٰہی سے اگر اس خاتون کا اتا پتا معلوم ہوجائے تو مُتوفّٰی شوکت کے بھائی بہن اُس کا حصہ(یعنی شوکت کے کل ترکے کا چوتھائی) اپنے حصے میں سے دیدیں، کیونکہ بیوہ کے لاپتا ہونے کی وجہ سے اُنہیں زائد حصہ دیا گیا ہے۔
(واللہ اعلم بالصّواب)
اپنے مالی وتجارتی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔
darululoomnaeemia508@gmail.com