اسلام آ باد ( رانا غلام قادر/نیوزرپورٹر) وزیراعظم شہباز شریف کی یواین جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پر ایرانی صدرڈاکٹرمسعودپزشکیان سے ملاقات ‘مکہ دفاعی معاہدے ‘پاک ایران تعلقات اور خطے کی صورتحال سمیت اہم امور پر بات چیت کی گئی۔اس موقع پر اسحاق ڈار‘خواجہ محمد آصف‘ طارق فاطمی اورعباس عراقچی بھی موجودتھے ‘شہباز شریف نے طویل عرصے سے جاری تنازع پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خطے میں دیرپا امن و استحکام کے قیام کے لیے تحمل‘ کشیدگی میں کمی اور مسلسل سفارتی رابطوں کی ضرورت پر زور دیاہے ۔ ملاقات کے بعد شہباز شریف کاکہناتھا کہ ایرانی قیادت سے خطے کی صورتحال پر تفصیلی اور اچھی بات چیت ہوئی‘سول اور عسکری قیادت ملکی معیشت کو مضبوط بنانے اور سفارتی تعلقات بہتر کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں کر رہی ہے‘اللہ پاکستانی قیادت کی باہمی مشاورت اور معیشت کو مضبوط بنانے کی کوششوں میں برکت عطا فرما رہا ہے ۔علاوہ ازیں اقوام متحدہ اجلاس کی سائیڈ لائن پر شہباز شریف کی لبنانی وزیراعظم نواف سلام اوربنگلہ دیشی ہم منصب طارق رحمن سے بھی ملاقات ہوئی۔دریں اثناء شہباز شریف نے کہا ہے کہ معاشی ترقی‘ روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور یورپی یونین کے ساتھ تجارت کے فروغ کے لیے جی ایس پی پلس اہمیت کا حامل ہے‘وزیر اعظم نے یہ بات صدر یورپی کونسل انتونیو کوستا اور صدر یورپی کمیشن ارسلا وان ڈیر لیین سے ملاقات کے دوران کی جبکہ شہبازشریف نے امریکا میں مقیم پاکستانیوں کو ملک میں مصنوعی ذہانت ‘آئی ٹی ‘ توانائی ودیگرشعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت بھی دی ۔شہبازشریف سے امریکا میں مقیم انفارمیشن ٹیکنالوجی‘آئی ‘آٹو موبائل‘ توانائی‘ تعمیرات اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی کاروباری شخصیات اور پروفیشنلز کے وفود نے ملاقاتیں کیں جبکہ وزیراعظم نے کہا ہے کہ بیرون ملک مقیم باصلاحیت پاکستانی نوجوان مجھ سمیت پوری قوم کا فخر ہیں‘پختہ یقین ہے کہ پاکستان کی قسمت صرف نوجوان ہی بدل سکتے ہیں‘حکومت ملک میں سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں میں اضافے کیلئے سازگار ماحول فراہم کر رہی ہے۔