تحریر و تحقیق: شاہ ولی اللہ جنیدی
تاریخ میں بعض شہر صرف اپنے سیاسی یا تجارتی کردار کی وجہ سے یاد نہیں رکھے جاتے، بلکہ اس لیے بھی یاد رہتے ہیں کہ انہوں نے مصیبت کی گھڑی میں انسانیت کا ساتھ دیا تھا۔ کراچی بھی ایسا ہی ایک شہر ہے۔ دوسری جنگِ عظیم کے ہنگامہ خیز دور میں جب یورپ میدانِ جنگ بن چکا تھا اور لاکھوں انسان اپنے گھروں سے بے دخل ہو رہے تھے، کراچی نے دورِ یورپ سے آنے والے ہزاروں پولینڈ مہاجرین کے لیے ایک محفوظ پڑاؤ کا کردار ادا کیا۔
یہ واقعہ کراچی کی تاریخ کا ایک نسبتاً کم معروف مگر نہایت قابلِ ذکر باب ہے، جو اس شہر کی وسیع القلبی، بین الاقوامی مزاج اور انسانی ہمدردی کی روایت کو نمایاں کرتا ہے۔
ستمبر 1939 میں نازی جرمنی نے پولینڈ پر حملہ کیا، جس کے بعد 17 ستمبر کو سوویت افواج بھی مشرقی پولینڈ میں داخل ہوئیں۔ ملک کے وسیع مشرقی علاقوں پر سوویت قبضے کے نتیجے میں بڑی تعداد میں پولینڈ شہریوں کو گرفتار کیا گیا اور خاندانوں سمیت دور دراز سوویت علاقوں، خصوصاً سائبیریا اور وسطی ایشیا کی جانب جلاوطن کر دیا گیا۔
ان جلاوطن خاندانوں کی زندگی انتہائی کٹھن تھی۔ شدید سردی، بھوک، بیماری اور نامساعد حالات نے ہزاروں افراد کو موت کے قریب پہنچا دیا۔ 1941 میں سوویت یونین اور برطانیہ کے درمیان بدلتے ہوئے جنگی حالات اور پولینڈ فوج کی تشکیل کے بعد ان بے گھر افراد کے لیے سوویت علاقوں سے نکلنے کی راہ پیدا ہوئی۔
جنرل ولاڈیسلاو اینڈرس (Władysław Anders) دوسری جنگ عظیم کے دوران پولینڈ کے ایک نامور فوجی کمانڈر، سیاست دان اور مایہ ناز رہنما کی قیادت میں پولینڈ فوج کے ساتھ بڑی تعداد میں شہری بھی سوویت یونین سے نکلے اور ایران پہنچے۔ ان میں عورتیں، بوڑھے اور ایک بڑی تعداد بچوں کی بھی تھی۔ کئی بچے اپنے والدین سے محروم ہوچکے تھے۔ ان کے لیے یہ محض نقل مکانی نہیں بلکہ زندگی اور موت کے درمیان ایک طویل سفر تھا۔
ایران پہنچنے کے بعد بھی مسئلہ ختم نہیں ہوا، وہاں موجود مہاجرین کی بڑی تعداد کے لیے مزید محفوظ مقامات درکار تھے۔ چنانچہ برطانوی ہندوستان کے مختلف علاقوں میں ان کے لیے عارضی اور مستقل مراکز قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ کراچی، جو اس زمانے میں برطانوی ہندوستان کی ایک اہم بندرگاہ اور فوجی و تجارتی مرکز تھا، اس انسانی قافلے کی اگلی منزل بن گیا۔
24 اگست 1942 سے پولینڈ مہاجرین کراچی پہنچنا شروع ہوئے اور اگلے برسوں میں یہ شہر ان کے لیے ایک اہم ٹرانزٹ سینٹر بن گیا۔ تاریخی ریکارڈ کے مطابق اگست 1942 سے دسمبر 1944 کے دوران تقریباً 28 ہزار پولینڈ مہاجرین کراچی کے دو بڑے کیمپوں، کنٹری کلب اور ملیر، سے گزرے۔ بعض تاریخی مطالعات میں اس عرصے کے دوران کراچی سے گزرنے والے افراد کی تعداد اس سے بھی زیادہ بیان ہوئی ہے، اس لیے مختلف ذرائع میں اعداد کا معمولی فرق ملتا ہے۔
اس وقت کراچی آج کے وسیع و عریض شہر کی طرح نہیں تھا۔ یونیورسٹی روڈ کے اطراف اور ملیر کے علاقے شہر کے نسبتاً کھلے اور کم آباد حصے تھے۔ اسی ماحول میں پولینڈ مہاجرین کے لیے عارضی بستیاں قائم کی گئیں۔
سب سے بڑا مرکز دی کنٹری کلب کیمپ" یا "دی کیمپ آف پولینڈ ویکیویٹڈ" کے نام سے 4 ستمبر 1942 کو کھولا گیاجو یونیورسٹی روڈ کے قریب اس علاقے میں قائم کیا گیا جہاں آج گلشنِ اقبال کا علاقہ آباد ہے۔ اس کیمپ سے ہزاروں پولینڈ مہاجرین گزرے۔ ایک تحقیقی مطالعے کے مطابق ستمبر 1942 سے دسمبر 1944 تک بیس ہزار سے زیادہ پولینڈ شہری اس کیمپ سے گزرے۔
بعد ازاں جب مہاجرین کی تعداد بڑھ گئی تو ملیر میں دوسرا کیمپ قائم کیا گیا۔ وہاں تقریباً سات ہزار افراد کے لیے گنجائش پیدا کی گئی۔ ملیر کا یہ کیمپ امریکی فوجی تنصیبات ( موجودہ ملیر چھاونی ) کے قریب تھا اور اس کے لیے فوجی استعمال کی عمارتوں اور سہولتوں سے بھی فائدہ اٹھایا گیا۔
یہ مراکز محض خیموں پر مشتمل پناہ گاہیں نہیں تھے۔ ان کا مقصد مہاجرین کو اس وقت تک محفوظ رکھنا تھا جب تک انہیں ہندوستان یا دنیا کے دوسرے حصوں میں مستقل آبادکاری کے لیے منتقل نہ کیا جاتا۔
کنٹری کلب کیمپ میں ابتدا میں زیادہ تر فوجی خیمے تھے اور کراچی کی گرم و خشک آب و ہوا میں ان میں رہنا آسان نہ تھا،تاہم وقت کے ساتھ یہاں ایک منظم اجتماعی زندگی وجود میں آگئی۔ اسکول، طبی مراکز، کھانے کے مراکز، بیکری، ڈاک خانہ، عبادت گاہیں، ثقافتی سرگرمیوں کے مقامات اور کھیلوں کے انتظامات کیے گئے۔ پولینڈ مہاجرین نے اپنی زبان، موسیقی، تعلیم اور ثقافتی روایات کو بھی زندہ رکھا۔
ملیر کیمپ کے حالات بعض حوالوں سے بہتر تھے،وہاں پکی عمارتیں، پانی، صفائی کی سہولتیں، کھانے کے ہال اور رہائشی بلاکس موجود تھے۔ ہر بلاک میں مہاجر خاندانوں اور بچوں کے لیے رہائش کا انتظام کیا گیا تھا۔
یوں جنگ سے اُجڑے ہوئے لوگوں کے لیے کراچی میں ایک ایسا عارضی معاشرہ تشکیل پاگیا جہاں زندگی کو دوبارہ معمول پر لانے کی کوشش کی جارہی تھی۔ان مہاجرین میں بڑی تعداد بچوں اور نوجوانوں کی تھی۔ ان کے لیے سب سے اہم مسئلہ صرف خوراک اور رہائش نہیں بلکہ تعلیم اور ذہنی سکون کی بحالی بھی تھا۔
پولینڈ منتظمین اور امدادی اداروں نے کیمپوں میں تعلیمی سرگرمیاں شروع کیں،بعض بچوں کو کراچی کے تعلیمی اداروں میں بھی جگہ دی گئی۔ سینٹ جوزف کانونٹ میں پولینڈ لڑکیوں کی تعلیم کا انتظام کیا گیا۔ بعض طالبات کو 1943 کے آغاز میں وہاں بھیجا گیا، بعد میں مزید لڑکیاں بھی ان کے ساتھ شامل ہوئیں۔
یہ منظر اپنے اندر ایک گہری انسانی معنویت رکھتا تھا۔ ایک طرف دنیا جنگ میں جل رہی تھی، دوسری طرف کراچی میں ایسے بچے اپنی کتابیں کھولے بیٹھے تھے جن کے گھر، شہر اور وطن جنگ کی نذر ہوچکے تھے۔
کھیل، موسیقی، تھیٹر اور ثقافتی پروگرام بھی ان کیمپوں کی زندگی کا حصہ بن گئے۔ امریکی فوجی اہلکاروں نے بھی بعض مواقع پر کرسمس اور دیگر تقریبات کے انعقاد میں تعاون کیا۔
پولینڈ مہاجرین کی کہانی صرف حکومتوں اور کیمپوں کی انتظامی تاریخ نہیں۔ اس کا ایک انسانی پہلو کراچی کے شہریوں سے بھی جڑا ہوا ہے۔
کراچی اس زمانے میں مختلف قوموں، مذاہب اور زبانوں کے لوگوں کا شہر تھا۔ بندرگاہ کی وجہ سے یہاں دنیا کے مختلف خطوں سے آنے والے افراد پہلے ہی آتے جاتے تھے۔ ایسے ماحول میں جنگ کے ستائے ہوئے غیر ملکیوں کی موجودگی کراچی کے لیے بالکل اجنبی تجربہ نہیں تھی۔
مقامی سطح پر لوگوں کی ہمدردی، مدد اور مہمان نوازی نے ان بے گھر خاندانوں کے لیے ایک اضافی سہارا فراہم کیا۔ شہر کے مذہبی اداروں، تعلیمی حلقوں اور مختلف سماجی طبقات نے بھی انسانی بنیادوں پر تعاون کیا۔ یہی وہ کراچی تھا جس کی شہری ثقافت میں محلے داری، مسافر نوازی اور ضرورت مند کی مدد ایک دیرینہ روایت سمجھی جاتی تھی۔
یہ کہنا شاید مبالغہ نہ ہوگا کہ سرکاری کیمپ نے پولینڈ مہاجرین کو چھت دی، مگر کراچی کے سماجی ماحول نے انہیں اجنبیت سے نکلنے کا احساس دیا۔
کراچی ان مہاجرین کی آخری منزل نہیں تھا۔ یہ ایک عارضی پڑاؤ تھا جہاں سے انہیں مختلف ممالک اور مستقل مراکز کی طرف روانہ کیا جاتا تھا۔
ہندوستان میں بالآخر پولینڈ مہاجرین کے لیے مستقل آبادیاں بھی قائم ہوئیں، جن میں والی وادے اور بالاچڑی ( والی واڈے (Valivade) اور بالا چڑی (Balachadi)) نمایاں تھیں، کچھ مہاجرین افریقہ، نیوزی لینڈ، میکسیکو اور دیگر علاقوں کی طرف بھی منتقل کیے گئے۔ کراچی کے کیمپ اس وسیع بین الاقوامی امدادی نظام کا ایک اہم حصہ تھے۔
ملیر میں قائم مرکز بھی مستقل قیام کی منزل نہیں تھا، وہاں رہنے والے بہت سے پولینڈ خاندان بعد میں ہندوستان کے دوسرے مراکز، خصوصاً والی وادے، منتقل ہوگئے۔
اس طرح کراچی نے ایک قوم کے بے گھر افراد کو صرف چند دن یا چند ماہ کی پناہ نہیں دی بلکہ انہیں اگلی منزل تک پہنچانے کے عالمی انسانی سفر میں ایک اہم کڑی کا کردار ادا کیا۔
ہر ہجرت کی ایک قیمت ہوتی ہے، اور پولینڈ مہاجرین بھی اس انسانی المیے سے مکمل طور پر محفوظ نہ رہ سکے۔
کراچی میں قیام کے دوران بیماری اور دیگر وجوہات سے انتقال کرنے والے 58 پولینڈ شہریوں کو کراچی کے گورا قبرستان میں دفن کیا گیا۔ ان قبروں نے اس دور کی یاد کو شہر کی مٹی میں محفوظ کردیا۔
آج بھی یہ قبریں اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ دوسری جنگِ عظیم کی تباہ کاری صرف یورپ کے میدانوں تک محدود نہیں تھی، اس کے اثرات کراچی کی سرزمین تک بھی پہنچے تھے۔
پولینڈ نے بعد میں ان 58 افراد کی یاد میں یہاں یادگار قائم کی، جس پر ان کے نام محفوظ کیے گئے،یوں گورا قبرستان کراچی اور پولینڈ کے درمیان ایک خاموش تاریخی رشتہ بن گیا۔
پولینڈ مہاجرین کی کراچی میں موجودگی چند سال سے زیادہ نہ رہی، مگر اس کا تاریخی مفہوم بہت گہرا ہے۔ ایک طرف یورپ میں جنگ، قبضے، جلاوطنی اور نسلوں کی تباہی جاری تھی؛ دوسری طرف برطانوی ہندوستان کے اس ساحلی شہر نے ہزاروں بے گھر انسانوں کو عارضی پناہ دی۔
یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ ان کیمپوں کا انتظام صرف ایک حکومت کے ہاتھ میں نہیں تھا۔ برطانوی حکام اور جلاوطن پولینڈ حکومت کے نمائندے مل کر مہاجرین کی دیکھ بھال اور منتقلی کے انتظامات کرتے تھے۔ بمبئی میں قائم پولینڈ وزارتِ محنت و سماجی بہبود کے وفد نے بھی کراچی، ملیر اور ہندوستان کے دوسرے مراکز میں مہاجرین کی دیکھ بھال کے لیے اہم کردار ادا کیا۔
یوں کراچی کا یہ باب دراصل بین الاقوامی تعاون، انسانی ہمدردی اور شہری میزبانی کی مشترکہ داستان ہے۔
آج جب کراچی کے شہری یونیورسٹی روڈ، گلشنِ اقبال اور ملیر کی جدید آبادیوں سے گزرتے ہیں تو شاید بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ انہی علاقوں میں کبھی ہزاروں یورپی مہاجرین نے جنگ کے دن گزارے تھے۔
وہ لوگ یہاں اپنے وطن سے ہزاروں میل دور تھے۔ ان کے پیچھے تباہ شدہ شہر، بچھڑے ہوئے خاندان اور ایک جنگ زدہ وطن تھا، جبکہ سامنے ایک غیر یقینی مستقبل۔ کراچی ان کے لیے منزل نہیں تھا، مگر اس نے انہیں منزل تک پہنچنے کے لیے مہلت دی۔
یہی کسی شہر کی اصل عظمت ہوتی ہے کہ وہ صرف اپنے باسیوں کے لیے نہیں بلکہ مصیبت میں گھرے اجنبیوں کے لیے بھی جگہ پیدا کرے۔
پولینڈ کے ان مہاجرین کی داستان کراچی کی تاریخ میں ایک ایسا انسانی باب ہے جسے مزید تحقیق، دستاویزات اور یادداشتوں کے ذریعے سامنے لانے کی ضرورت ہے۔ کنٹری کلب اور ملیر کے وہ کیمپ آج موجود نہیں، خیمے اُکھڑ گئے، مہاجرین دنیا کے مختلف ملکوں میں بکھر گئے، مگر گورا قبرستان میں موجود 58 قبریں آج بھی خاموشی سے بتاتی ہیں کہ ایک زمانے میں کراچی نے جنگ کے ستائے ہوئے انسانوں کو اپنے دامن میں جگہ دی تھی۔
یہ صرف پولینڈ مہاجرین کی کہانی نہیں، یہ اس کراچی کی کہانی بھی ہے جس کی شناخت کبھی اس کے بازاروں، بندرگاہ اور عمارتوں سے زیادہ اس کی انسان دوستی، کشادہ دلی اور مہمان نوازی سے ہوتی تھی۔