تحریر و تحقیق: شاہ ولی اللہ جنیدی
کراچی کی تاریخ محض بلند و بالا عمارتوں، مصروف شاہراہوں، قدیم بازاروں اور سمندر سے وابستہ داستانوں کا نام نہیں؛ اس شہر کی مٹی میں برصغیر کی سیاسی جدوجہد، مذہبی بیداری، قومی شعور اور اجتماعی یادداشت کے بے شمار نقوش بھی محفوظ ہیں۔ انہی تاریخی مقامات میں ایم اے جناح روڈ پر جامعہ کلاتھ مارکیٹ کے سامنے واقع عیدگاہ میدان ایک ایسا مقام ہے جس نے مختلف ادوار میں عبادت، مذہبی اجتماعات، سیاسی تحریکوں اور قومی تاریخ کے کئی اہم ابواب اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں۔
آج روزمرہ کی مصروفیات میں اس میدان سے گزرنے والا شاید یہ تصور بھی نہ کرسکے کہ اسی جگہ کبھی برصغیر کے سیاسی اُفق پر ایک ایسی آواز بلند ہوئی تھی جس کی گونج ہندوستان کے طول و عرض تک سنائی دی۔ یہی وہ میدان ہے جہاں تحریکِ خلافت کے عہد میں مسلمانانِ برصغیر نے برطانوی استعمار کے خلاف اپنے اجتماعی احساسات کا اظہار کیا، اور یہی مقام قیامِ پاکستان کے فوراً بعد اس نئی مملکت کی پہلی عید کی نماز کے تاریخی اجتماع کا بھی گواہ بنا۔
عیدگاہ میدان کی تاریخ میں 8 جولائی 1921ء ایک غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ اس روز یہاں آل انڈیا خلافت کانفرنس کا انعقاد ہوا،جس کی صدارت تحریکِ خلافت کے ممتاز رہنما مولانا محمد علی جوہر نے کی۔
یہ محض معمول کا سیاسی اجتماع نہیں تھا۔ اس زمانے میں تحریکِ خلافت برصغیر کے مسلمانوں کے سیاسی اور مذہبی جذبات کی ترجمانی کررہی تھی۔ خلافتِ عثمانیہ کے مستقبل، جنگِ عظیم اول کے بعد کی عالمی سیاست اور ہندوستان میں برطانوی اقتدار کے خلاف بڑھتی ہوئی بے چینی نے مسلمانوں کو ایک بڑے اجتماعی ردِعمل پر آمادہ کردیا تھا۔
کراچی، جو اس وقت بھی برصغیر کی اہم بندرگاہ اور تجارتی مرکز تھا، اس تحریک کا ایک اہم مرکز بن چکا تھا۔ کانفرنس نے کراچی کو تحریکِ خلافت کی قومی سیاست کے نقشے پر نمایاں مقام عطا کیا۔
اس تاریخی اجتماع میں برصغیر کے مختلف علاقوں سے تحریکِ خلافت کے ممتاز رہنما شریک ہوئے، ان میں مولانا شوکت علی، مولانا حسین احمد مدنی، ڈاکٹر سیف الدین کچلو، مولانا نثار احمد کانپوری، سوامی شنکر اچاریہ اور پیر غلام مجدد سرہندی جیسے نام قابل ذکر ہیں۔ ان شخصیات کی موجودگی اس امر کی علامت تھی کہ عیدگاہ میدان میں منعقد ہونے والی یہ مجلس محض کراچی کا مقامی اجتماع نہیں بلکہ ایک ہمہ ہندوستان سیاسی و مذہبی اجتماع کی حیثیت رکھتی تھی۔
کانفرنس کا ایک اہم پہلو یہ بھی تھا کہ اس میں صرف مسلمان ہی شریک نہیں ہوئے بلکہ کراچی اور اندرونِ سندھ سے ہندو برادری نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تحریکِ خلافت کے ابتدائی دور میں ہندو مسلم سیاسی تعاون کی جو فضا پیدا ہوئی تھی، کراچی میں ہونے والے اجتماعات اس کی نمایاں مثال تھے۔
افتتاحی اجلاس میں کراچی کی استقبالیہ کمیٹی کے صدر مولانا محمد صادق نے خطبۂ استقبالیہ پیش کیا، جس میں اُس وقت کے بین الاقوامی حالات، خلافتِ عثمانیہ کے مسئلے، ہندوستان کی سیاسی صورتِ حال اور برطانوی اقتدار کے خلاف عوامی جذبات کا احاطہ کیا گیا۔
یہ وہ زمانہ تھا جب سیاسی تقریر محض الفاظ کا مجموعہ نہیں ہوتی تھی بلکہ عوام کے احساسات کو منظم کرنے اور اجتماعی فیصلوں کو جنم دینے کا ذریعہ بنتی تھی۔ عیدگاہ میدان بھی اسی سیاسی بیداری کا ایک اہم مرکز بن گیا۔
کانفرنس کا سب سے اہم اور دور رس اثر رکھنے والا پہلو وہ قرارداد تھی جس میں موجودہ حالات کے تناظر میں برطانوی فوج میں ملازمت اختیار کرنے کے مسئلے پر سخت مذہبی موقف اختیار کیا گیا۔
اجلاس میں اسلامی کتب و دلائل کی روشنی میں برطانوی فوج میں ملازمت کو اس وقت کے حالات کے تحت ناجائز قرار دینے کی تجویز پیش کی گئی۔ قرارداد پر حاضرین نے غیر معمولی جوش و خروش کا اظہار کیا اور مجمع نے اسے بھرپور انداز میں منظور کیا۔
یہ فیصلہ اس دور کے سیاسی مزاج کو سمجھنے کے لیے نہایت اہم ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ تحریکِ خلافت صرف جلسوں اور تقریروں تک محدود نہیں تھی بلکہ برطانوی اقتدار کے اداروں سے عدم تعاون کو بھی ایک عملی سیاسی حکمتِ عملی کے طور پر دیکھا جارہا تھا۔ یوں عیدگاہ میدان ایک ایسے تاریخی فیصلے کا گواہ بنا جس میں مذہبی احساس، سیاسی مزاحمت اور قومی آزادی کی خواہش ایک دوسرے سے جڑ گئی تھی۔
کراچی کی نوآبادیاتی تاریخ بھی عیدگاہ میدان کے پس منظر کو سمجھنے میں اہم ہے۔1839ء میں برطانوی فوج نے سندھ پر قبضہ کیا اور کراچی بھی براہِ راست برطانوی اقتدار کے زیرِ نگیں آگیا۔ برطانوی افواج کراچی میں داخل ہوئی اور یہاں ایک عارضی رہائشی کیمپ قائم کیا۔
برطانوی دور میں بندر روڈ، جو بعد میں ایم اے جناح روڈ کہلایا، کراچی کی اہم شاہراہوں میں شمار ہونے لگا۔ یہ وہ علاقہ تھا جہاں تجارت، عوامی اجتماع اور سیاسی سرگرمیاں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی تھیں۔
عیدگاہ میدان کی تاریخ کا سب سے جذباتی اور یادگار باب 18 اگست 1947ء سے وابستہ ہے۔ پاکستان کے قیام کے صرف تین دن بعد، نئی مملکت میں پہلی عیدالفطر منائی گئی۔ عیدگاہ میدان میں عید کی نماز کا تاریخی اجتماع ہوا۔ ایک تاریخی روایت کے مطابق قائداعظم محمد علی جناح بھی اس موقع پر عیدگاہ تشریف لائے تھے۔
قائداعظم کی شخصیت کا یہ پہلو خاص طور پر قابلِ ذکر ہے کہ نئی مملکت کے پہلے گورنر جنرل کی حیثیت سے وہ عید کی نماز کے لیے عوام کے درمیان موجود تھے، یہ منظر ایک ایسے رہنما کی تصویر پیش کرتا ہے جو اقتدار کے منصب پر فائز ہونے کے باوجود قومی اور مذہبی اجتماعی زندگی سے اپنا تعلق برقرار رکھے ہوئے تھا۔
یوں جس میدان نے 1921ء میں برطانوی اقتدار کے خلاف سیاسی بیداری کی آواز سنی تھی، اسی نے 1947ء میں آزاد پاکستان کے پہلے عید اجتماع کی روحانی خوشی بھی دیکھی۔
عیدگاہ میدان کی اہمیت صرف سیاسی اور قومی تاریخ تک محدود نہیں۔ اس کے ساتھ واقع برصغیر کی معروف بزرگ حضرت قطب عالم سید عالم شاہ بخاریؒ کا مزار بھی اس پورے علاقے کو ایک گہری روحانی نسبت عطا کرتا ہے۔جن کاشمار کراچی کے قدیم اولیائے کرام میں کیا جاتا ہے، انہیں قطبِ کراچی بھی کہا گیا ہے۔ تاریخی حوالوں میں ان کے مزار کو موجودہ عیدگاہ کے علاقے سے منسلک کیا گیا ہے۔ یہ مقام طویل عرصے تک روحانی تعلیم و تربیت کا مرکز رہا۔
دنیا کے بہت سے تاریخی مقامات کسی ایک واقعے سے وابستہ ہوکر معروف ہوجاتے ہیں، لیکن عیدگاہ میدان کی خصوصیت یہ ہے کہ اس کی شناخت کئی تاریخی دھاروں کے ملاپ سے تشکیل پاتی ہے۔یہاں عبادت بھی ہوئی، روحانی اجتماعات بھی ، تحریکِ خلافت کی آواز بھی بلند ہوئی،برطانوی استعمار کے خلاف سیاسی شعور بھی بیدار ہوا، اور قیامِ پاکستان کے بعد نئی مملکت کی پہلی عید بھی منائی گئی۔
1921ء کا عیدگاہ میدان ہمیں اس کراچی کی یاد دلاتا ہے ، جہاں مذہبی قیادت قومی سیاست پر اثرانداز ہوتی تھی، جہاں ہندو اور مسلمان ایک ہی اجتماع میں اپنے سیاسی جذبات کا اظہار کرسکتے تھے۔
1947ء کا یہی میدان ہمیں ایک بالکل مختلف مگر تاریخی طور پر مربوط منظر دکھاتا ہے. برصغیر کی غلامی ختم ہوچکی تھی، پاکستان وجود میں آچکا تھا اور لوگ پہلی مرتبہ ایک آزاد وطن میں عید کی نماز ادا کررہے تھے۔
وقت کے ساتھ کراچی بدلتا گیا۔ بندر روڈ، ایم اے جناح روڈ بن گئی۔ آس پاس کے قدیم بازاروں کی نوعیت تبدیل ہوئی، تجارت پھیلی، آبادی بڑھی اور شہر نے ایک عظیم صنعتی و تجارتی مرکز کی صورت اختیار کرلی۔ لیکن عیدگاہ میدان اپنی تاریخی شناخت کے ساتھ آج بھی کراچی کے اجتماعی حافظے میں موجود ہے۔
آج جب شہر کی نئی نسل اس علاقے سے گزرتی ہے تو شاید اسے اندازہ نہیں ہوتا کہ اس کے قدموں کے نیچے وہ زمین ہے جس نے برصغیر کی آزادی کی تحریک کے بڑے کرداروں کی آوازیں سنی ہیں۔ وہی زمین جس پر کبھی مولانا محمد علی جوہرنے خطاب کیا، جہاں تحریکِ خلافت کے کارکن جمع ہوئے، جہاں ہندو مسلم سیاسی تعاون کی ایک جھلک دکھائی دی اور جہاں بعد ازاں قائداعظم نے پاکستان کے پہلے عید اجتماع میں شرکت کی۔
یہی وجہ ہے کہ عیدگاہ میدان کی حفاظت صرف ایک زمین یا ایک عمارت کی حفاظت نہیں؛ یہ کراچی کی تاریخی یادداشت کی حفاظت ہے۔
عیدگاہ میدان جیسے مقامات کے بارے میں ضرورت ہے کہ ان کی تاریخ مستند حوالوں سے مرتب کی جائے، تاریخی واقعات کی درست تاریخوں اور شخصیات کی تحقیق کی جائے، مقام پر معلوماتی کتبے نصب کیے جائیں اور نئی نسل کو بتایا جائے کہ یہ محض ایک میدان نہیں بلکہ کراچی اور برصغیر کی تاریخ کا ایک زندہ باب ہے۔ جس قوم کو اپنے تاریخی مقامات کی قدر ہوتی ہے، وہ اپنے مستقبل کی تعمیر زیادہ شعور کے ساتھ کرتی ہے۔