تحریر و تحقیق: شاہ ولی اللہ جنیدی
کراچی محض ایک شہر نہیں، ایک مسلسل بدلتی ہوئی تہذیبی داستان ہے۔ اس شہر کی گلیوں، بازاروں، محلوں، چوراہوں اور بستیوں میں مختلف ادوار کی سماجی زندگی کے نقوش آج بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ کبھی کراچی کی پہچان اس کے کشادہ گھروں، کھلے صحنوں، مشترکہ خاندانوں اور محلے داری کے مضبوط رشتوں سے ہوتی تھی؛ پھر آبادی بڑھی، زمین مہنگی ہوئی، روزگار کے مراکز پھیلے، ہجرتوں نے شہر کا نقشہ بدلا اور رفتہ رفتہ مکان کی جگہ فلیٹ نے لے لی۔
یہ تبدیلی بظاہر رہائش کی تبدیلی تھی، مگر حقیقت میں اس نے کراچی کے شہری مزاج، خاندانی تعلقات، ہمسائیگی، سماجی میل جول، بچوں کے کھیل، بزرگوں کی تنہائی اور حتیٰ کہ انسان کے نجی تصورِ زندگی کو بھی متاثر کیا۔ مکان سے فلیٹ تک کا سفر دراصل ایک سماجی اور نفسیاتی سفر بھی ہے۔
کراچی کے پرانے محلوں کی زندگی میں گھر کی چار دیواری کے باہر بھی ایک وسیع سماجی دنیا آباد ہوتی تھی۔ محلہ صرف رہائشی یونٹوں کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک غیر رسمی سماجی ادارہ تھا۔ لوگ ایک دوسرے کے گھروں سے واقف تھے، خاندانوں کے حالات جانتے تھے، خوشی اور غمی میں شریک ہوتے تھے اور ایک دوسرے کے بچوں کو بھی اپنے بچوں کی طرح سمجھتے تھے۔
گلی میں کسی گھر کے دروازے پر مہمانوں کی آمد ہو تو پڑوسیوں کو خبر ہوجاتی۔ کسی گھر میں شادی ہو تو پورا محلہ شریک ہوتا، کسی کے ہاں بیماری آتی تو عیادت کے لیے لوگ پہنچتے، کسی کے انتقال پر تعزیت کے لیے دروازے کھل جاتے۔ عید، بقرعید، رمضان، محرم، میلاد، شادی بیاہ اور دیگر مواقع محض مذہبی یا خاندانی تقریبات نہیں رہتے تھے بلکہ اجتماعی زندگی کے مظاہر بن جاتے تھے۔
پرانے کراچی کی محلے داری میں ایک غیر رسمی سماجی نگرانی بھی موجود تھی۔ بچے گلی میں کھیلتے تو کئی گھروں کی نظریں ان پر ہوتیں۔ نوجوانوں کے رویے سے لے کر خاندان کی ضروریات تک، سب کچھ ایک حد تک اجتماعی شعور کا حصہ تھا۔ اس نظام میں خامیاں بھی تھیں، نجی زندگی کی حدود بھی کم تھیں، مگر اس کے نتیجے میں انسان کو یہ احساس ضرور رہتا تھا کہ وہ اکیلا نہیں۔
فلیٹ کلچر نے سب سے بڑی تبدیلی شاید رہائش کی ساخت میں پیدا کی۔ مکان میں زندگی افقی انداز میں پھیلتی تھی؛ فلیٹ میں وہ عمودی ہوگئی۔ پہلے گھر کے سامنے گلی، صحن، برآمدہ اور بیٹھک تھی؛ اب دروازے کے باہر راہداری، لفٹ، سیڑھیاں اور مشترکہ پارکنگ ہے۔ مکان میں پڑوسی کی آواز کبھی دیوار کے پار سے آتی تھی، فلیٹ میں پڑوسی کا وجود اکثر صرف دروازے کے نمبر تک محدود ہوجاتا ہے۔
ایک ہی عمارت میں درجنوں خاندان رہتے ہیں، مگر ضروری نہیں کہ وہ ایک دوسرے کو جانتے بھی ہوں۔ لفٹ میں روزانہ ملاقات ہوتی ہے، سلام دعا بھی ہوجاتی ہے، لیکن تعلق اکثر فلیٹ نمبر سے آگے نہیں بڑھتا۔ یہی جدید شہری زندگی کا ایک اہم تضاد ہے، قربت بڑھ گئی، مگر تعلق کم ہوگیا۔ لوگ ایک دوسرے کے قریب رہنے لگے لیکن ایک دوسرے کی زندگی سے دور ہوتے گئے۔
کراچی جیسے وسیع اور گنجان شہر میں فلیٹ کلچر محض فیشن نہیں بلکہ ایک معاشی اور شہری ضرورت بھی ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی، زمین کی محدود دستیابی، جائیداد کی قیمتوں میں اضافہ، ملازمت اور کاروباری مراکز کے قریب رہنے کی خواہش اور محفوظ رہائش کی ضرورت نے کثیر المنزلہ عمارتوں کو ناگزیر بنا دیا۔لیکن ہر ضرورت اپنے ساتھ ایک نفسیاتی اثر بھی لاتی ہے۔
چھوٹا فلیٹ انسان کو جگہ کی قدر سکھاتا ہے، مگر بعض اوقات جگہ کی کمی ذہنی دباؤ کا سبب بھی بنتی ہے۔ مشترکہ خاندان جب ایک بڑے مکان سے محدود رقبے کے فلیٹ میں منتقل ہوتا ہے تو صرف سامان کم نہیں ہوتا، زندگی کے کئی معمولات بھی بدل جاتے ہیں۔ بچوں کے کھیل کی جگہ محدود ہوجاتی ہے، بزرگوں کے لیے بیٹھنے کی الگ جگہ نہیں رہتی، مہمان داری مشکل محسوس ہوتی ہے اور گھر کے ہر فرد کی نجی زندگی دوسرے افراد سے زیادہ قریب ہوجاتی ہے۔
فلیٹ کلچر نے مشترکہ خاندان کے بجائے چھوٹے خاندانی یونٹ کو فروغ دیا۔ والدین، اولاد اور دیگر رشتہ دار الگ الگ فلیٹوں یا مختلف علاقوں میں آباد ہوگئے۔ اس کے نتیجے میں خاندانی قربت کم ہوئی اور بزرگوں کا روزمرہ زندگی میں کردار بھی محدود ہوگیا۔ پہلے دادا دادی یا نانا نانی بچوں کی زندگی کا مستقل حصہ ہوتے تھے، اب ان سے ملاقات اکثر ہفتہ وار یا موقع کی مناسبت سے ہوتی ہے۔
فون اور ویڈیو کال نے فاصلے ضرور کم کیے ہیں، مگر براہِ راست میل جول کا نعم البدل نہیں بن سکے۔ بچوں کا بدلتا ہوا بچپن پرانے محلوں کی گلیوں میں کھیلنے والے بچے مختلف عمر کے لوگوں کے ساتھ گھل مل کر زندگی کے کئی سماجی ہنر غیر محسوس طور پر سیکھتے تھے۔ آج فلیٹ میں جگہ محدود ہے اور بچوں کا بڑا حصہ موبائل، ٹیبلٹ، کمپیوٹر یا منظم تفریحی سرگرمیوں میں گزرتا ہے۔
اس تبدیلی نے بچپن کو زیادہ محفوظ ضرور بنایا ہے، مگر اس کی بے ساختگی اور اجتماعی تجربہ کم کیا ہے۔ کھیل کے میدان کی جگہ اسکرین نے لے لی ہے اور گلی کے دوستوں کی جگہ اکثر آن لائن رابطوں نے۔ فلیٹوں میں پڑوسیوں کے درمیان تعلق مکمل طور پر ختم نہیں ہوا بلکہ اس کی نوعیت بدل گئی ہے۔
واٹس ایپ گروپس، رہائشی کمیٹیاں، اجتماعی افطار، عید ملن اور دیگر سرگرمیاں نئی قسم کی محلے داری پیدا کررہی ہیں۔ اب پانی، بجلی، سیکیورٹی، پارکنگ یا عمارت کی دیکھ بھال کا مسئلہ چند لمحوں میں پورے اپارٹمنٹ تک پہنچ جاتا ہے۔
یوں گلی کا محلہ ایک حد تک ڈیجیٹل محلے میں تبدیل ہوگیا ہے۔ تاہم یہ رابطہ اکثر ضرورت کے وقت فعال ہوتا ہے، جبکہ پرانے محلے میں تعلق روزمرہ زندگی کا مستقل حصہ تھا۔ شہری خاندان اپنی زندگی میں زیادہ خودمختاری محسوس کرتے ہیں اور غیر ضروری سماجی مداخلت سے محفوظ رہتے ہیں۔ لیکن یہی پرائیویسی بعض اوقات تنہائی میں بھی بدل جاتی ہے۔ فلیٹ کلچر کے ساتھ کراچی میں خاندانی ساخت میں بھی نمایاں تبدیلی آئی ہے۔
ایک وقت تھا جب ایک ہی مکان میں والدین، بیٹے، بہوئیں، پوتے، پوتیاں، بھائی اور دیگر رشتہ دار اکٹھے رہتے تھے۔ بڑے مکان میں اختلاف کی گنجائش بھی تھی اور مصالحت کی جگہ بھی۔ میاں، بیوی اور بچے ایک الگ یونٹ بن گئے۔ والدین دوسرے فلیٹ میں، بھائی کسی دوسری عمارت میں اور رشتہ دار شہر کے مختلف حصوں میں منتقل ہوگئے۔ نتیجتاً خاندان باقی تو رہا، مگر جغرافیائی قربت کم ہوگئی۔
اب دادا دادی اور نانا نانی سے روزانہ ملاقات کے بجائے فون کال، ویڈیو کال یا ہفتہ وار ملاقات معمول بنتی جارہی ہے۔ بچوں کی تربیت میں خاندان کے بزرگوں کا براہِ راست کردار کم ہوا ہے، جبکہ والدین پر بچوں کی تعلیم، تربیت اور جذباتی نگہداشت کی ذمہ داری زیادہ ہوگئی ہے۔
یہ جدید شہری زندگی کا اہم تضاد ہے کہ انسان دوسروں کی مداخلت سے آزاد ہوکر کبھی کبھی دوسروں کی رفاقت سے بھی محروم ہوجاتا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ کراچی جیسے بڑھتی ہوئی آبادی والے شہر میں فلیٹ کلچر ایک مجبوری اور شہری ضرورت بن چکا ہے۔
زمین کی قیمتیں، آمدورفت، روزگار کے مراکز اور محدود جگہ نے کثیر المنزلہ رہائش کو ناگزیر کردیا ہے۔اس لیے مسئلہ فلیٹ نہیں بلکہ فلیٹ میں رہنے کا سماجی انداز ہے۔ اگر ایک عمارت میں رہنے والے لوگ ایک دوسرے کو محض پڑوسی نہیں بلکہ شہری برادری کا حصہ سمجھیں تو جدید رہائش بھی انسانی تعلقات کو مضبوط کرسکتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اپارٹمنٹ کی عمارتوں میں بچوں کے لیے محفوظ کھیل کی جگہیں، بزرگوں کے لیے نشست گاہیں اور اجتماعی سرگرمیوں کے مواقع پیدا کیے جائیں۔
عید، رمضان اور دیگر مواقع پر اجتماعی پروگرام رہائشیوں کے درمیان تعلق بڑھا سکتے ہیں۔ کراچی کا سفر مکان سے فلیٹ تک صرف تعمیراتی تبدیلی کی کہانی نہیں بلکہ ایک پورے معاشرتی رویے کی تبدیلی ہے۔ پرانے محلے کی گہری محلے داری کم ہوئی ہے، مشترکہ خاندان محدود ہوئے ہیں اور نجی زندگی کا دائرہ وسیع ہوا ہے۔
اس کے ساتھ تنہائی، سماجی فاصلے اور بچوں کے بدلتے ہوئے بچپن جیسے نئے مسائل بھی سامنے آئے ہیں۔ لیکن ماضی کی ہر چیز کو واپس لانا ممکن بھی نہیں اور ضروری بھی نہیں۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ جدید شہری سہولتوں کے ساتھ پرانی محلے داری کی انسانی روح کو زندہ رکھا جائے۔ فلیٹ چھوٹا یا بڑا ہونا اہم نہیں؛ اہم یہ ہے کہ اس کے دروازے کے باہر رہنے والا انسان ہمارے لیے اجنبی نہ ہو۔ کیونکہ شہر بلند عمارتوں سے نہیں، زندہ تعلقات سے آباد ہوتے ہیں۔