• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اردو یونیورسٹی میں پروفیسر کی تقرری، مبینہ جعلی دستخط کا معاملہ سامنے آگیا

کراچی(اسٹاف رپورٹر) وفاقی اردو یونیورسٹی میں شعبۂ حیوانیات کے پروفیسر کی تقرری کے حوالے سے سلیکشن بورڈ کے اجلاس کی کارروائی پر مبینہ طور پر جعلی دستخط کئے جانے کا معاملہ سامنے آگیا۔ سابق ڈینِ سائنس پروفیسر ڈاکٹر عارف زبیر نے رجسٹرار وفاقی اردو یونیورسٹی کو درخواست دے کر معاملے کی آزادانہ اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔درخواست کے مطابق، 30 دسمبر 2013ء کو منعقدہ سلیکشن بورڈ کے مبینہ اجلاس کی کارروائی میں پروفیسر ڈاکٹر محمد زاہد کی تقرری کے حوالے سے ڈاکٹر عارف زبیر کے دستخط ظاہر کیے گئے، تاہم انہوں نے ان دستخطوں کی واضح طور پر تردید کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ نہ تو اس اجلاس میں مدعو کئے گئے اور نہ ہی اس میں شریک ہوئے تھے۔ ان کے مطابق، انہوں نے متعلقہ عہدے کے لئے امیدوار کا انٹرویو بھی نہیں لیا اور بعد ازاں ریکارڈ کا جائزہ لینے پر مذکورہ دستخط اپنے دستخطوں سے مختلف پائے۔ ڈاکٹر عارف زبیر نے درخواست میں یہ نکتہ بھی اٹھایا کہ متعلقہ پروفیسر کی تنخواہ جولائی 2013ء سے مقرر کئے جانے کی اطلاعات ہیں، جو مبینہ سلیکشن بورڈ اجلاس کی تاریخ سے تقریباً چھ ماہ قبل بنتی ہے۔ انہوں نے تقرری کے حکم نامے، مؤثر تاریخِ تقرری، تنخواہ کے تعین کے حکم اور سابقہ مالی فوائد کی منظوری سے متعلق اصل ریکارڈ کی جانچ پڑتال کا مطالبہ کیا ہے۔ درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ امیدوار سے متعلق ریفریز کی رپورٹس دسمبر 2012ء میں موصول ہونے اور 2012ء کے سلیکشن بورڈ کے عمل کے بعد تقرری نہ ہونے سے متعلق ریکارڈ بھی دوبارہ جانچنے کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر عارف زبیر کے مطابق، متعلقہ تقرری کو یونیورسٹی سینیٹ کی منظوری کے لئے پیش کئے جانے کے معاملے کی بھی تصدیق کی جانی چاہئے تاکہ معلوم ہو سکے کہ مقررہ منظوری کے تمام مراحل مکمل کئے گئے تھے یا نہیں۔انہوں نے بتایا کہ وہ ان مبینہ بے ضابطگیوں کے حوالے سے ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کی اس کمیٹی کو بھی تحریری مؤقف پیش کر چکے ہیں، جس کے کنوینر ڈاکٹر نذیر حسین تھے اور جس نے 28 جولائی 2026ء کو یونیورسٹی کا دورہ کیا تھا۔ُڈاکٹر عارف زبیر نے واضح کیا کہ ان کا معاملہ کسی ذاتی مخالفت پر مبنی نہیں بلکہ ان کے نام اور دستخط کے مبینہ غیر مجاز استعمال سے متعلق ہے، جس سے ان کی پیشہ ورانہ ساکھ متاثر ہوتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ایچ ای سی کے نمائندوں، ماہرینِ تعلیم اور مستند فرانزک دستاویزاتی ماہرین پر مشتمل آزاد تحقیقاتی کمیٹی قائم کی جائے۔ کمیٹی اصل سلیکشن بورڈ منٹس، اجلاس میں شرکت کے ریکارڈ، ریفریز کی رپورٹس، تقرری اور تنخواہ کے تعین کے احکامات اور متعلقہ منظوریوں کا جائزہ لے۔ اس کے علاوہ، متعلقہ پروفیسر کی تعلیمی اسناد، تحقیقی کام اور ملازمت کی مکمل تاریخ، بشمول ابتدائی تقرری بطور لیبارٹری اٹینڈنٹ اور بعد ازاں پروفیسر آف زوالوجی تک ترقی، کی بھی تصدیق کی جائے۔ درخواست میں اصل سرکاری ریکارڈ محفوظ رکھنے، منصفانہ اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کے ذریعے ذمہ داری کا تعین کرنے اور تحقیقات کے نتائج کی روشنی میں مناسب کارروائی کرنے پر زور دیا گیا ہے۔
اہم خبریں سے مزید