• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ان دِنوں ملک کے ذرائع ابلاغ میں کراچی کے نوجوان تاجر، میر رضا علی کے افسوس ناک قتل کی خبریں نمایاں انداز میں سامنے آرہی ہیں۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر بھی اس معاملے کا بہت چرچا ہے۔

اس معاملے میں لوگوں کی توجّہ اس لیے زیادہ ہے کہ وہ زندگی سے بھرپور اور ہمارے معاشرے کا ایک کام یاب نوجوان تھا۔ اُس نے شہر میں ایک نئی طرز کا کاروبار شروع کیا تھا، اعلی تعلیم یافتہ، اپنے والدین کا فخر تھا اور جلد ہی اس کا نکاح ہونے والا تھا۔

جب سے یہ افسوس ناک واقعہ ہوا ہے، روزانہ اس بارے میں نئی خبریں سامنے آرہی ہیں۔ لوگوں کو ہر نئی خبر کے ساتھ اس جرم کی گُتھی سلجھنے کے بجائے الجھتی ہوئی محسوس ہورہی ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ متعلقہ حکّام کے بعض اقدامات نے اس معاملے کو بہت الجھا دیا ہے۔ ایسے میں پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ کی جانب سے ایس ایس پی ڈسٹرکٹ ایسٹ کو لکھے گئے خط نے بعض نئے سوالات کو جنم دیا ہے۔

دوسری جانب قبر کشائی کے لیے بنائے گئے طبّی بورڈ میں مبیّنہ تبدیلی نے ایک نیا تنازع کھڑا کردیا ہے۔ ڈاکٹر سمعیہ نے ڈاکٹر اسامہ شیخ کی تیّار کردہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں چودہ سنگین خامیوں کی نشان دہی کی ہے۔ پولیس سرجن، کراچی نے ایس ایس پی ایسٹ کو ارسال کیے گئے مراسلے میں پوسٹ مارٹم رپورٹ پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ رپورٹ میں کئی اہم فورینسک تقاضے پورے نہیں کیے گئے جن سے تفتیش متاثر ہو سکتی ہے۔ ان کے بہ قول:

1۔ لاش کے ایکسرے نہیں کیے گئے۔2۔ گن شاٹ کے ذرّات یا باقیات کے لیے ہاتھوں کے سواب حاصل نہیں کیے گئے۔3۔ گولی کے داخل ہونے والے زخم پر موجود بلیکنگ کا کیمیکل تجزیے کے لیے نمونہ نہیں لیا گیا۔4۔ سر کے مکمل معائنے کے لیے جلد نہیں ہٹائی گئی۔ 5۔ کھوپڑی کھول کراندرونی معائنہ نہیں کیا گیا۔6۔ گردن کا اندرونی معائنہ بھی نہیں کیا گیا۔7۔ زخموں کی پیمائش کے لیے اسکیل استعمال نہیں کیا گیا۔8۔ کرائم سین پر لاش کی مناسب تصاویر نہیں لی گئیں۔9۔ گولی کے داخل اور خارج ہونے والے زخموں کی درست پوزیشن واضح نہیں کی گئی۔10۔ رپورٹ میں داخل ہونے والے زخم کا سائز خارج ہونے والے زخم سے بڑا درج کیا گیا۔ 11۔ کپڑوں پر موجود نشانات اور ریشوں کی سمت کا ذکر نہیں کیا گیا۔12۔ جسم کے اندر گولی کے راستے اور ٹریجیکٹری کی وضاحت موجود نہیں۔13۔ جسم کے گلنے سڑنے کے مراحل کی مکمل تفصیل شامل نہیں کی گئی۔14۔ چہرہ ناقابل شناخت ہونے کے باوجود ڈی این اے سیمپل حاصل نہیں کیا گیا۔

پولیس سرجن کے مطابق پوسٹ مارٹم رپورٹ جوابات سے زیادہ سوالات پیدا کرتی ہے۔’’جیو نیوز‘‘ کے پروگرام ’’آج شاہ زیب خان زادہ کے ساتھ‘ ‘میں میزبان شاہ زیب خان زادہ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر سمعیہ کا کہنا تھا کہ بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ بلٹ انٹری کا زخم ایگزٹ سے بڑا ہو۔ ڈاکٹر نے جو رپورٹ دی ہے میرا اس سے اختلاف ہے، نتائج سے اتفاق نہیں کرتی، جو نتائج ڈاکٹر نے نکالے ہیں وہ تصویر سے میچ نہیں کرتے، میرے بھی یہی سوالات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تصاویر اور ڈاکٹر کی رپورٹ دیکھی ہے، وہ میچ نہیں کرتی۔ زیادہ تر کیسز میں گولی کے اخراج کے زخم کاسائز بڑا ہوتا ہے۔

نہ ہم نے اور نہ ہی کرائم سین یونٹ نے رضا علی کے ہاتھ پر گن پاوڈر چیک کیا۔ڈاکٹر سمعیہ سید کا کہنا تھا کہ رضا علی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ نے جوابات دینے کے بجائے مزید سوالات پیدا کردیے ہیں۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ نے کیس کو مزیدپے چیدہ بنادیا ہے۔

رضا علی کے جسم کا اوپر والا حصہ زیادہ ڈی کمپوز دِکھ رہا ہے اور نچلا حصہ کم ڈی کمپوز ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی کی لاش آدھی جھاڑیوں میں اور آدھی باہر ہو تو باڈی کی ڈی کمپوزیشن میں فرق ملتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر نے جو رپورٹ دی ہے میرا اس سے اختلاف ہے، نتائج سے اتفاق نہیں کرتی۔ جس بارے میں بتایا گیا کہ بلٹ کا انٹری سائز ہے، کیا وہ لاش کی ڈی کمپوزیشن کی وجہ سے بڑا ہوگیا ہے؟

ڈاکٹر سمعیہ سید کا کہنا تھاکہ جس جگہ رضا کی لاش ملی ہے، وہاں پر خون نہ ہونے کے برابر ملا ہے۔ ایسے کیسز میں جب خون نہیں ملتا ہے اور زمین جذب کرلیتی ہے تو اس جگہ پر کھدائی بھی کرتے ہیں، سائنسی طریقے موجود ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ زمین پر کتنا خون گرا اور جذب ہوگیا۔

کچھ سیمپل لیے گئے اور قمیص فورینسک تجزیے کے لیے بھیجی گئی ہے، ڈی آئی جی سےقمیص کے گن شاٹ کی باقیات کے لیے بھی درخواست کی ہے، پتا چل سکتا ہے کہ لاش پر نشانات تشدّد کے ہیں یا لاش کے ڈی کمپوز ہونے کی وجہ سے ہیں۔

مجرم کی تلاش اور جدید سائنس

پولیس سرجن، ڈاکٹر سمعیہ نے جو سوالات اٹھائے ہیں وہ جدید طریقوں سےجرم کی تفتیش اور تحقیق کے اصولوں کے عین مطابق ہیں۔

پرانی کہاوت ہے کہ سانپ تو نکل گیا اب لکیر کو کیا پیٹنا۔یہ آج بھی اس وقت استعمال کی جاتی ہے جب کوئی واقعہ رونما ہوچکا ہو اور اس کے نتیجے میں کوئی جانی یا مالی نقصان ہوچکا ہو اور اس کا ازالہ ممکن نہ ہویاکوئی واردات کی جاچکی ہو، اسے کرنے والے وہاں سے جاچکے ہوں اور اس سے متعلق شواہد کا ملناناممکن تصوّر کیاجارہا ہو۔ لیکن یہ پرانےزمانے کی بات ہے۔ آج سائنس کی ترقی نے ماضی کی بہت سی ناممکن باتوں اور کام کو ممکن بنادیا ہے۔

چناں چہ بہت سے فطری یا غیر فطری واقعات کے اسباب و علل کا کھوج لگانا اب ممکن ہوگیا ہے۔ اسی طرح بہت سی وارداتوں کےپس پردہ دماغوں اوران کے بنائے منصوبوں پر عمل کرنے والوں، بہ ظاہر بے داغ انداز میں کوئی جرم کرنے والوں اور انتہائی ماہر انہ انداز میں کوئی جرم کرکے چھلاوے کی طرح غائب ہوجانے والوں کا سراغ لگانا بھی ممکن ہوچکا ہے۔

فرانس سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر ایڈمنڈلو کارڈ نے کہا تھا: ’’ہر رابطہ یا تعلق کوئی نہ کوئی سراغ یا نشان ضرور چھوڑتا ہے۔ 1877ء میں پیدا ہونے والے لوکارڈ کے اس قول نے لوکارڈ ایکس چینچ پرنسپل کے نام سے عِلم جرمیات میں عالمی شہرت پائی، لہٰذا بعد میں اسے فرانس کے شرلاک ہومز کے نام سے یاد کیا جانے لگا تھا۔ اس کا یہی اصول فورینسک سائنس کا بنیادی اصول مانا جاتا ہے۔

جدید دنیا میں جرمیات کے شعبے میں فورینسک سائنس کا استعمال تقریباً ایک صدی قبل شروع ہوگیا تھا، جب ایڈمنڈلوکارڈ نے دنیا میں پہلی کرائم لیب 1910ء میں ایک پولیس اسٹیشن کی بالائی منزل پر قائم کیا تھا۔آج دنیا اس شعبے میں بہت آگے بڑھ چکی ہے۔ یہ ایسی سائنس ہے، جس کے ذریعے ماضی اور مستقبل میں بھی جھانکا جاسکتاہے۔ ماضی میں ہونے والے جرم کا پوری صحت سے سراغ لگایا جاسکتا ہے اور مستقبل میں ہونے والے جرم کو بڑی حد تک روکا جاسکتا ہے۔

جرم اور مجرم کے درمیان تعلق ثابت کرنا

جرم کی تحقیق اور تفتیش اور عدالت میں جرم اور مجرم کے درمیان تعلق ثابت کرنے کا عمل کئی مراحل پر مشتمل ہوتا ہے۔ وقت کے ساتھ جرائم کی نوعیت پے چیدہ ہوتی جارہی ہے، لہٰذا ان کی تفتیش اب آسان نہیں رہی۔ ترقی یافتہ ممالک جرم کی تفتیش سے متعلق نت نئی مہارتوں اور ٹیکنالوجی کے ضمن میں بہت آگے ہیں۔

یہ درست ہے کہ مغربی دنیا کے تفتیش کار بعض اوقات جرم ہونے سے پہلے مجرموں کا کھوج لگا لیتے ہیں اور وہاں اکثر کام یابی سے جرائم کی تفتیش ہوجاتی ہے، لیکن ایسا کیوں کر ہوپاتا ہے؟ جدید دور میں اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ وہاں جرم کی تفتیش کے دوران جدید ترین سائنسی نظریات اور ٹیکنالوجی سے بھرپور مدد لی جاتی ہے اور اس ضمن میں فورینسک سائنس (Forensic Science) کا کردار سب سے اہم گردانا جان جاتا ہے۔ اسے مختصراً فورینسکس (Forensics) لکھا اور پڑھا جاتا ہے۔

بندوق کی نال سے نکلنے والے راستے

جرم کی جس واردات میں آتشیں اسلحہ استعمال ہوتا ہے، بعض اوقات اس کی تفتیش کافی آسان ثابت ہوتی ہے، کیوں کہ ایسے ہر اسلحے کا ایک شناختی نشان ہوتا ہےجس کا پتا تفتیش کارگولی کے خول کے ذریعےلگالیتے ہیں۔ اسی طرح بہت سے دیگر اہم سراغ بھی مل جاتے ہیں۔ اسی طرح موت سے پہلے لگنے والی چوٹیں عام طور پر موت سے پہلے ہونے والے واقعات کا پس منظر پیش کر سکتی ہیں۔

فورینسک لیباریٹری میں فائر آرمز اینڈ بیلسٹک کے شعبے میں آتشیں اسلحے، کارتوس، گولیوں، ان کے استعمال شدہ خول اور کسی آلے کے استعمال کے نشانات کا تجزیہ کیا جاتا ہے، جس کی مدد سے جرم ہونے کے مراحل کا اندازہ لگانے میں مدد ملتی ہے۔

گولی اور بارود کی رفتار ر کا تعین کئی وجوہات کی بنا پر اہم ہوتاہے۔کسی واردات میں استعمال ہونے والے آتشیں اسلحے کی جانچ پڑتال کے دوران نشانے کی درستی،بیرل کےکٹاؤ اور بیرل کی زندگی، ہتھیارکے استحکام، ٹریگرپُل، کِک بیک، شاک ٹرانسمیٹینس کا جائزہ لیا جاتا ہے۔

اس مقصد کے لیےترقی یافتہ ممالک میں فیرو لیزر اسکینرز ،ڈوپلر ریڈار سسٹم (گولی کی رفتارکی پیمائش کے لیے) ،تیز رفتار وڈیو کیمرے (رنگ دار اور مونوکروم)، رفتار کےٹو اور تھری ڈی تجزیے کے آلات، انتہائی درست رفتارمعلوم کرنے کے لیے آپٹیکل اسکرینزبھی استعمال کی جاتی ہیں۔

آتشیں اسلحہ استعمال ہونے پر ٹریس ثبوت Trace evidence ،یا باقیات ضرور چھوڑتا ہے۔ سادہ لفظوں میں اسے یوں بیان کیا جاسکتا ہے کہ جب دو چیزیں ایک دوسرے کے ساتھ رابطہ کریں تو ٹریس ثبوت تیار ہوجاتا ہے۔ ٹریس شواہد کی مثالوں میں گن شاٹ کی باقیات، بال، ریشے، مٹی ، لکڑی وغیرہ شامل ہیں۔ اس طرح کے ثبوت تفتیش کاروں کو مدعا علیہ اور / یا شکار کو باہمی مقام سے جوڑنے میں مدد کرسکتے ہیں۔

کرائم/ ڈیتھ سین انویسٹی گیشن

اس شعبے کے ماہرین جائے وقوعہ پر باریک بینی سے تحقیق کرتے ہیں۔ جائے وقوعہ پر پہنچنے والی ٹیم کی یہ ذمے داری ہوتی ہے کہ وہ وہاں سے ملنے والے ثبوتوں کی شناخت، ان کی حفاظت، انہیں جمع اور محفوظ طریقے سے مقررہ مقام پر منتقلی کو یقینی بنائے، دستاویزات تیارکرے، جائے وقوعہ سےملنے والے ثبوتوں کا تقابلی جائزہ لے، ڈیجیٹل فوٹو گرافی کرے، خاکہ اور نقشہ بنائے اور اپنی تحقیق کے نتیجے میں ملزم یا ملزمان کی گرفتاری کی یقینی راہ دکھائے۔

ترقی یافتہ ممالک میں جائے وقوعہ پر صرف تحقیق نہیں کی جاتی، بلکہ کرائم سین ری کنسٹرکشن اور وہیکولر ایکسی ڈینٹ ری کنسٹرکشن کا کام بھی کیا جاتا ہے، یعنی اس مقام پر یا لیباریٹری میں تحقیق اور تفتیش کاروں سے حاصل شدہ معلومات کی بنیاد پر وقوعہ یا حادثے کے وقت پر جائے وقوعہ کا ممکن منظر بھی تشکیل دیا جاتا ہے اور پھر مختلف زاویوں اور نظریوں کی بنیاد پر ان کا جائزہ لے کر مجرم کا پتا لگانے یا حادثے کی وجوہات جاننے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے۔

اس مقصد کے لیے تھری ڈی ٹیکنالوجی اور کمپیوٹر وغیرہ کی بھی مدد لی جاتی ہے اور کمپیوٹر پر جائے وقوعہ کا تھری ڈی ماڈل بنا کر بھی یہ کام کیا جاتا ہے۔ فورینسک سے متعلق اہل کار جائے وقوعہ پر پہنچنے کے بعد سب سے پہلے اپنے پہنچنے کا وقت اور قابلِ ذکر مشاہدات نوٹ کرتے ہیں۔ اس دوران وہ کسی چیز کو ہاتھ نہیں لگاتے۔ پھر وہ حادثے یا وقوعے کی شدت کا اندازہ لگاتے ہیں، یعنی جائے وقوعہ کا رقبہ کیا ہے اور وہاں کس قدر جانی اور مالی نقصان ہوا ہے۔

اسی دوران متعلقہ عملہ جائے وقوعہ کو غیر ضروری افراد کے لیے ناقابلِ رسائی علاقہ قرار دے کر اس کے گرد انتباہی نشانات یا پٹیاں وغیرہ لگادیتا ہے۔ وہاں آنے اور جانے والے تمام متعلقہ افراد کی آمدورفت کا وقت اور وہاں سے ہٹائی جانے والی اشیاء کی تفصیلات درج کی جاتی ہیں، ممکن اور مسلمہ مشاہدین کو باقی افراد اورایک دوسرے سے بھی علیحدہ کیا جاتا ہے، تاکہ وہ آزادانہ طور پر اور ایک دوسرے کے اثرات قبول کیے بغیر گواہی دے سکیں۔

اب یہ اہل کار جرم کی چوری، قتل یا آتش زنی کی اقسام میں درجہ بندی کرتے ہیں۔ ضرورت پڑنے پر مزید ڈی ٹیکٹیو بھی طلب کیے جاتے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک اپنے شعبے کا ماہر ہوتا ہے اور وہ اپنے شعبے کے حوالے سے جائے وقوعہ کا جائزہ لیتا ہے۔

ایک بال بھی مجرم کا سراغ دے سکتا ہے

جدید دنیا میں حشرات الارض یامحض لعابِ دہن،بال،لباس کے بٹن، سگریٹ کے ٹوٹے کے ذریعے مجرم کو کیفرِ کردار تک پہنچانا ممکن ہوگیا ہے۔ ایسا فورینسک سائنس ہی نے ممکن بنایا ہے۔ جرم کی تحقیق اور تفتیش کرنے والے ماہرین کے بہ قول ہر لمس یا رابطہ (Contact)، کوئی نہ کوئی نشان ضرور چھوڑتا ہے۔ اس اصول پر عمل کرتے ہوئے فورینسک سائنس کے ماہرین جائے وقوعہ پر جامع تحقیق پر بہت زور دیتے ہیں۔

ان کے بہ قول بعض اوقات جائے وقوعہ کا نہایت باریک بینی سے جائزہ لینے ہی سے مجرم کا سراغ مل جاتا ہے، مگر ایسا کیسے ممکن ہوتا ہے؟ اس کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ جائے وقوعہ سے ملنے والے مرئی اور غیر مرئی شواہد اور اشارے مجرم کا بھانڈا پھوڑ دیتے ہیں۔ مثلاً مجرم کا ایک بال یا اس کے کپڑے کا ایک رواں (Fiber) یہ ثابت کردیتا ہے کہ وہ وقوعے کے وقت جائے وقوعہ پر موجود تھا، لیکن انہیں جائے وقوعہ سے اٹھانا بھی ایک فن ہے، جس کے لیے جرائم کی تحقیقات کرنے والوں کو باقاعدہ تربیت دی جاتی ہے۔

واضح رہے کہ ہر جان دار کا بال اور ہر کپڑے کا رواں اپنی Morphology کے لحاظ سے دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔ یہ اختلاف جاننے کے لیے بال یا رواں طاقت ور خردبین کے نیچے رکھ کر اس کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ جدید دور میں اس قسم کے تجزیوں کے لیے بہت عمدہ اور حقیقت سے قریب ترین نتائج دینے والی مشینیں اور آلات دست یاب ہیں۔

انگلیوں کے نشانات بھی جرم کی تحقیقات میں بہت معاون ثابت ہوتے ہیں۔ یہ نشانات حاصل کرنے کے لیے تحقیق کار جائے وقوعہ پر بہت نرم ریشوں والے برش کے ذریعے گرد جھاڑنے کا کام کرتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے پہلے کاربن پاؤڈر استعمال کیا جاتا ہے اور پھر مطلوبہ مقام پر ایک خاص قسم کا ٹیپ لگایا جاتا ہے، جسے ہٹانے پر وہاں موجود ہر قسم کے نشانات چمکنے لگتے ہیں۔ پھر یہ ٹیپ ایک بلاک یا سفید کارڈ پر رکھ دیا جاتا ہے۔

نشانات حاصل کرنے کے کئی دیگر طریقے بھی استعمال کیے جاتے ہیں، اس کا فیصلہ نشانات پر گزرنے والے وقت اور جس جگہ وہ موجود ہوں، اسے ملحوظ رکھ کر کیا جاتا ہے۔ اگلے مرحلے میں ان نشانات کو ریکارڈ میں محفوظ جرائم پیشہ یا مشکوک افراد کی انگلیوں کے نشانات سے ملایا جاتا ہے۔

ترقی یافتہ ممالک میں اب تمام شہریوں کی انگلیوں کے نشانات سرکاری اداروں کے ریکارڈ میں محفوظ ہوتے ہیں اور کمپیوٹر کا ایک بٹن دبا کر کسی بھی شخص کی انگلیوں کے نشانات کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔ کمپیوٹر نے ان نشانات کے درمیان مطابقت یا عدم مطابقت معلوم کرنے کا کام بہت آسان کردیا ہے۔

اسپیشل ایڈیشن سے مزید