واشنگٹن (اے ایف پی /نیوزڈیسک ) سعودی عرب نے دعویٰ کیا کہ حوثی جنگجوؤں کی جانب سے ریاض اور خمیس مشیط کی جانب داغے گئے ڈرونز اور میزائلوں کو فضا ہی میں تباہ کر دیا گیا ہے‘ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 7روز میں آبنائے ہرمز کھولنے اورمشرق وسطیٰ میں جنگ بند کرنے کی ایرانی تجویز مسترد کرتے ہوئے کہاہے کہ تہران مشکل صورتحال میں پھنس گیاہے ‘اب ان کے پاس پیسہ نہیں ہے جبکہ امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ تہران کے ساتھ مذاکرات میں تمام پتے ٹرمپ کے ہاتھ میں ہیں ‘ دوسری جانب ایران کی اعلیٰ فوجی کمان خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹر نے خبردار کیا ہے کہ اگر واشنگٹن نے کوئی غلطی کی تو خطے میں موجود تمام امریکی فوجی تنصیبات اور مفادات کو نشانہ بنایا جائیگاجبکہ پاسداران انقلاب نے خبردارکیاہے کہ ایران کی7 شرائط پوری ہونے تک امریکا کو سزا دینے کا سلسلہ جاری رہے گا‘سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا ہے کہ ریاض مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان اور قطر کی ثالثی کوششوں کی حمایت کرتا ہے‘دنیا خلیجی سمندری راستوں کے تحفظ میں ناکام ہو رہی ہے‘ ہرمز کی صورتحال 28فروری سے پہلے کی حالت میں واپس آنی چاہیےجبکہ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے پیشکش کی کہ ماسکو آبنائے ہرمز اور خلیج کے وسیع تر خطے کی صورتِ حال کو مستحکم کرنے میں مدد کے لیے تیار ہے۔عراق کا کہنا ہے کہ وہ ایرانی ایئر لائنز پر عائد پابندیوں سے استثنیٰ حاصل کرنے کے لیے امریکا کے ساتھ بات چیت کر رہاہے‘ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کاکہنا ہے کہ وہ اب تک سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے دو بار ملاقات کر چکے ہیں‘رہبر اعلیٰ مکمل صحتمند ہیں‘ انہوں نے سعودیہ اور حوثیوں کے درمیان تنازع کے حل کیلئے مدد کی پیشکش کرتے ہوئے کہاکہ اگر امریکا ہماری تجاویز قبول کرتاہے توتہران جوہری معائنہ کاروں کو ملک میں داخل ہونے کی اجازت دیگا‘مذاکرات کیلئے تیار ہیں مگر دھونس اور دھمکیوں میں نہیں آئیں گے جبکہ ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے بھی واضح کیاہے کہ تہران مذاکرات کے لیے تیار ہے لیکن سرینڈرنہیں کریگا ۔