پشاور، اسلام آباد (نمائندہ جنگ، ایجنسیاں) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کیلئے وزارت اعلیٰ کی کرسی سےگیا بھی تو فرق نہیں پڑیگا، مجھے مجھے ہٹایا تو میرا متبادل عمران خان طےکرینگے، حکمران ہماری اور اسٹیبلشمنٹ کی بات بننے نہیں دیتے، نااہلی کی صورت میں مزید خطرناک ہو جاؤنگا، حکومت برقرار نہیں رہ سکے گی، لوگ سڑکوں پر نکل آئیں گےمطالبات تسلیم کریں لانگ مارچ نہیں کرینگے، جبکہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہےکہ پی ٹی آئی کا 27 ستمبر کے لانگ مارچ کا اعلان ʼکھودا پہاڑ نکلا چوہا ثابت ہوا، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی اپنی پارٹی پر رٹ ختم ہوچکی، سہیل آفریدی انتظامی سطح پر فارغ تھے اب سیاسی طور پر بھی فارغ ہیں، جبکہ وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ KPرکن اسمبلی گرفتاری پر اسپیکر کی اجازت لازمی قرار دینا کیا یہی ریاستِ مدینہ ہے؟ اگر کوئی رکنِ کسی کو قتل کر دے تو کیا پولیس اسے گرفتار کرنے کیلئے پہلے اسپیکر کی اجازت کا انتظار کریگی۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے خیبرپختونخوا اسمبلی کے اسپیکر بابر سلیم سواتی نے کہا ہے کہ کسی رکن اسمبلی کو فوجداری الزام میں گرفتار کرنے سے قبل اسپیکر کی پیشگی اجازت، خیبر پختونخوا کی کوئی نئی ایجاد نہیں بلکہ یہ استحقاق مقننہ کی آزادی کے تحفظ، ایگزیکٹو کو پولیس کے ذریعے منتخب نمائندوں کو دھمکانے یا خاموش کرنے سے روکنے، اور اسمبلی کو بغیر خوف و خطر کام کرنے کیلئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے حکومت کو ایک مرتبہ پھر مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت ہمارے مطالبات تسلیم کرے ،لانگ مارچ نہیں کریں گے ،ہمارے مطالبات واضح ہیں ، عمران خان کے علاج اور ان سے ملاقات کے حوالے سے عدالتی احکامات پر عمل درامد کیا جائے اور ان کے کیسز کو میرٹ پر سنا جائے، 4 اکتوبر کے لانگ مارچ کیلئے ہماری تیاریاں مکمل ہیں ،اگر اس سے قبل کسی قسم کا مس ایڈونچر کیا گیا تو 24 گھنٹوں کے اندر موبلائز ہوسکتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ ہاوس پشاور میں سینئر صحافیوں سے غیر رسمی ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ لانگ مارچ کے حوالے سے پارٹی قیادت ایک پیج پر ہے، اس امر میں کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے۔ ہم بھرپور طور پر تیار ہیں، چار اکتوبر کو روانہ ہوں گے اور مقصد حاصل کیے بغیر واپس نہیں لوٹیں گے۔