کوئٹہ(اسٹاف رپورٹر) دالبندین کے رہائشی اللہ داد نے وزیراعلیٰ بلوچستان اور اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ ان کی 7 سالہ بیٹی کے ساتھ زیادتی اور قتل میں ملوث گرفتار 3 ملزمان کا کیس ایس سی آئی ڈبلیو کوئٹہ منتقل کیاجائے ملزمان کو قرار واقعی سزا دی جائے اور ہمیں انصاف فراہم کیا جائےیہ بات انہوں نےاپنی اہلیہ کے ہمراہ منگل کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہیانہوں نے کہا کہ ہم ایک ماہ قبل اپنے ایک عزیز کے انتقال پر فاتحہ کیلئے دالبندین سے نوشکی آئے تھے کہ ہمارے ایک رشتہ دار نے ہماری 7 سالہ بیٹی صبیحہ کو 3 ہزار روپے میں فروخت کردیا اور چند گھنٹوں بعد بیٹی کے ساتھ زیادتی اور قتل کرنے کے بعد اس کی لاش جھاڑیوں میں پھینک دی گئی تھی پولیس نے واقعہ میں ملوث تینوں ملزمان کو گرفتار کرلیا اور بچی کی پوسٹ مارٹم اور ملزمان کی ڈی این اے رپورٹ آنے کے باوجود ملزمان کا کوئی ریمانڈ نہیں لیا گیا اور نہ ہی کوئی تحقیقات کی گئی ہے ملزمان کے خلاف ایک ماہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے اور نہ ہی ان سے کوئی تفتیش ہوئی ہے انہوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان اور دیگرا علیٰ حکام سے اپیل کی کیس ایس سی آئی ڈبلیو کوئٹہ کے حوالے کیاجائے اور ملزمان کو قرار واقعی سزا دی جائے اور ہمیں انصاف فراہم کیا جائے ۔