• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شریانوں کی بیماریاں دنیا میں موت کی سب سے بڑی وجہ ہیں، پروفیسر جلال الدین اچکزئی

کوئٹہ(اسٹاف رپورٹر)ممتاز ماہر امراض قلب ، صدر پاکستان کارڈیک سوسائٹی و سابق صدر پاکستان ہائپر ٹینشن لیگ پروفیسر ڈاکٹر جلال الدین اچکزئی نے کہا ہے کہ ہر سال 29 ستمبر کو دنیا عالمی یوم قلب مناتی ہے ۔ دل اور خون کی شریانوں کی بیماریاں آج بھی دنیا میں موت کی سب سے بڑی وجہ ہیں ۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق 2022 میں تقریباً ایک کروڑ 98 لاکھ افراد امراض قلب کے باعث اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔ جو دنیا بھر میں ہونے والی تمام اموات کا تقریباً 32 فیصد بنتا ہے۔پاکستان میں ہر سال تین لاکھ سے زیادہ اموات امراض قلب سے ہوسکتی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہارٹ اٹیک کو اچانک پیش آنے والا واقعہ سمجھا جاتا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس کی بنیاد اکثر کئی سال پہلے پڑچکی ہوتی ہے ، بلڈ پریشر، شوگر ، کولیسٹرول شریانوں کی دیواروں میں جمع ہوتا رہتا ہے ، سگریٹ اور تمباکو اپنا اثر ڈالتے رہتے ہیں ، وزن بڑھتا ہے اور جسمانی سرگرمی کم ہوتی جاتی ہے جس کا نتیجہ ہارٹ اٹیک یا فالج کی صورت میں نظر آتا ہے ۔تمباکو ایک ایسا خطرہ جسے ہم خود ختم کر سکتے ہیں۔دل کی حفاظت کے لیے تیز قدموں سے باقاعدہ چلنا بھی بہترین آغاز ہے۔پیدل چلنا اور روزانہ واک کو معمول بنانا بڑا فرق پیدا کرتے ہیں۔کھانوں میں سبزیاں، پھل، دالیں اور مناسب مقدار میں پروٹین بڑھائی ، گھی، بہت زیادہ چینی، میٹھے مشروبات اور نمک کا استعمال کم کیا جائے مسلسل ذہنی دباؤ، ناکافی یا بے ترتیب نیند اور غیر متوازن روزمرہ معمول بھی بالواسطہ طور پر دل کے خطرات کو بڑھا سکتے ہیں۔
کوئٹہ سے مزید