• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عارضی مصلّے میں نمازِ جمعہ کے قیام کا شرعی حکم

فائل فوٹو
فائل فوٹو

تفہیم المسائل

سوال: ایک شارع عام پر بنے ہوئے پل کے نیچے فٹ پاتھ پر جائے نماز بنائی گئی ہے، جس میں نمازِ عصر، مغرب اور عشاء اداکی جاتی ہے، کیا وہاں جمعہ قائم کیا جاسکتا ہے؟( علی زیب ، کراچی)

جواب: عوامی مفاد یا گزرگاہ کے لیے جو زمینیں خالی چھوڑی گئی ہیں، اُن پر کسی بھی مقصد کے لیے قبضہ کرنا شرعاً درست نہیں ہے، اگر سرکاری حکام کی غفلت و لاپروائی کا فائدہ اٹھاکر کوئی شخص اس پر قبضہ کرلے تو شرعاً وہ اس کا مالک ہوگا اور نہ اُسے اس زمین پر کوئی مالکانہ حق حاصل ہوگا۔

نیز فٹ پاتھ یعنی پیدل چلنے کا راستہ یا پگڈنڈی عام گزرگاہ ہوتی ہے اور اُس پر آنے جانے والوں کا حق ہوتا ہے، اسے فقہ میں ’’ حَقُّ الْمُرُور ‘‘ کہتے ہیں۔ اُس جگہ پر نماز قطعاً ممنوع ہے، کارپوریشن اور میونسپل کمیٹی کے ذمے داران کو فٹ پاتھ پر کسی بھی طرح کی غیر قانونی تجاوزات کا فوری نوٹس لینا چاہیے، اس سے آنے جانے والوں کا حق ’’حَقُّ الْمُرُور‘‘متاثر ہوتا ہے۔

غرض عام گزرگاہ پر سب کا حق برابر ہوتا ہے، اس لیے حدیث پاک میں شارع عام پر نماز پڑھنے سے منع فرمایا گیا ہے: ترجمہ:’’حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے سات مقامات پر نماز پڑھنے سے منع فرمایا: کوڑے خانہ، ذبح خانہ، قبرستان، عام گزرگاہ (شارع عام)، حمام، مویشی خانہ اور بیت اللہ کی چھت، (سُنَن ترمذی:346)‘‘۔

بیت اللہ کی چھت پر نماز پڑھنے کی ممانعت کا سبب بیت اللہ کا ادب واحترام ہے، شارع عام پر نماز پڑھنے کی ممانعت کا سبب عام لوگوں کے لیے دشواری کا سبب بننا اور لوگوں کے آنے جانے کے حق (حقِّ مُرُور) میں رکاوٹ بننا ہے، قبرستان میں اگر قبر کی جانب رخ کرکے نماز پڑھی جائے (یعنی مقامِ سجدہ کے آگے قبر ہو ) تو بت پرستی سے مشابہت کی بنا پر حرام ہے اور باقی مقامات پر ناپاکی کا احتمال ہے اور وہاں پر نماز پڑھنا نماز کی تقدیس کے منافی ہے، نمازِ جنازہ کے بارے میں علّامہ نظام الدینؒ لکھتے ہیں: ترجمہ:’’سڑک پر اور لوگوں کی زمین پر (بلااجازت ومنظوری)نماز جنازہ پڑھنا مکرو ہ ہے، (فتاویٰ عالمگیری، جلد:1،ص:165)‘‘۔

حالانکہ سب کو معلوم ہے کہ نمازِ جنازہ نادر طور پر یعنی کبھی کبھی اور کم وقت میں اداکی جاتی ہے، جبکہ پنجوقتہ نماز تو روزمرہ کا معمول ہے۔ پس لازم ہے کہ فٹ پاتھ/گرین بیلٹ کو عام گزرگاہ کے لیے خالی کردیں اور نماز کا کسی مُتبادل جگہ معقول انتظام کریں۔

جائے نماز یا مُصَلّٰی عارضی ہواکرتے ہیں، اُن کی حیثیت مسجد کی نہیں ہوتی، لیکن باجماعت نمازوں کا ثواب ملے گا، نمازِ جمعہ کا اہتمام ایسے مصلّوں میں نہیں کیا جانا چاہیے، کیونکہ جمعہ شوکتِ اسلام کا مظہر ہے، کسی جامع مسجد میں نمازِ جمعہ کا اہتمام کریں۔

ہمارے مفتی صاحب نے خود مذکورہ جگہ کا معائنہ کیا ہے، گندے نالے کے دونوں اطراف فٹ پاتھ ہے اور اس فٹ پاتھ پر قبلہ رخ کھڑے ہوں تو نالہ منہ کے سامنے ہوگا، نمازِ جمعہ تو درکنار اس گندگی کے قریب آپ جو تین نمازیں باجماعت ادا کرارہے ہیں ،وہ بھی درست نہیں ہے، جیسا کہ ’’سُنن ترمذی‘‘ کی درج بالا حدیثِ پاک میں واضح ہے۔

مشاہدہ یہ ہے کہ ایسے مقامات پر پہلے تین نمازیں ، پھر جمعہ اور اس کے بعد باضابطہ طور پر قبضہ کرکے لوگ مستقل مسجد بنالیتے ہیں، یہ شِعار مناسب نہیں ہے، دین دار لوگوں کے اس عمل سے لوگ مذہب سے مُتنفّر ہوتے ہیں۔ خدارا دین پر رحم فرمائیں، فٹ پاتھ پر قائم کیے جانے والے اس عارضی مُصلّے کو فوری طورپر ختم کریں اور کوئی معقول جگہ خرید کر باقاعدہ مسجد بنائیں تاکہ نماز کی تقدیس بھی قائم رہے اور لوگوں کے لیے حرج کا باعث بھی نہ ہو۔

بعض پل ایسے ہیں، جن کے نیچے فٹ پاتھ نہیں ہے، نہ گزرگاہ ہے، بعض گول ہیں، بعض لمبے ہیں اور نیچے کئی ہزار گز زمین خالی پڑی ہے، کسی کی گزرگاہ ہے نہ کسی کے مصرف میں ہے، وہ جگہ اس حکم سے مُستثنیٰ ہوسکتی ہے، اگر وہاں گاڑیوں کی پارکنگ اور ٹریفک کے مسائل پیدا نہ ہوتے ہوں، تو وہاں ضرورت کے وقت نماز ادا کی جاسکتی ہے، یہ عارضی مُصلّیٰ کہلائے گا اور کسی طرح کی پختہ تعمیر یا عمارت وہاں نہ بنائی جائے، تاہم درج بالا مسئلے میں حکم یہی ہے کہ اس عارضی مصلّے کو ختم کریں، نمازِ جمعہ قائم کرنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

اپنے مالی وتجارتی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔

darululoomnaeemia508@gmail.com

اقراء سے مزید