• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تفہیم المسائل

سوال: میں پیشے کے اعتبار سے وکیل ہوں، میرے پاس ایک جوڑا آیا، انہوں نے بتایا کہ اُن کے درمیان 15سال قبل تین طلاقیں ہوگئی تھیں، ایک ہفتے بعد دونوں نے صلح کرلی، اس کے بعد ان کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا، اس بچے کے بارے میں شرعی حکم کیا ہے، کیا وہ بچہ ناجائز ہے؟ ( صاعقہ انصاری ایڈووکیٹ ، حیدر آباد)

جواب: تین طلاقوں کے بعد دونوں کا ازدواجی رشتے کو جاری رکھنا یقیناً حرام تھا، لیکن بہرحال بچہ ثابت النسب ہو گا اور اپنے باپ کا وارث بنے گا۔

علامہ نظام الدین ؒ لکھتے ہیں :’’اگر (شوہر نے) اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں، پھر تحلیل شرعی کے بغیر اس سے عقدِ ثانی کرلیا اور اس کے نتیجے میں اس خاتون کے ہاں بچہ بھی پیدا ہوگیا، حالانکہ دونوں کو فسادِ نکاح کا علم نہیں تھا، تو اُس بچے کا نسب ثابت ہے اور اگر انہوں نے فسادِ نکاح کا علم ہونے کے باوجود (یعنی طلاقِ مغلظہ کے بعد تحلیل شرعی کے بغیر) عقدِثانی کیا ہو، تو امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک بچے کا نسب پھر بھی ثابت ہوجائے گا،’’فتاویٰ تاتارخانیہ ‘‘میں’’ تجنیسِ ناصری‘‘ سے ایسے ہی نقل کیا ہے‘‘،(فتاویٰ عالمگیری،جلد1،ص:540)۔

بچہ اپنے والد کا وارث بھی بنے گا، علّامہ ابن عابدین شامی لکھتے ہیں: ’’ کیونکہ نسب کی بنیاد پر وراثت کا حق حاصل ہوتا ہے، چاہے اس کا سبب ممنوع ہی کیوں نہ ہو جیسے کہ نکاحِ فاسد اور وطی بالشبہہ کی صورت میں ہوتا ہے، (ردّالمحتار علیٰ الدرالمختار ،جلد 6،ص:799)‘‘۔دونوں ایک دوسرے پر بحرمتِ مُغلظہ حرام ہوچکے ہیں ،پس ان دونوں کو چاہیے کہ فوری علیحدگی اختیار کریں اور اللہ تعالیٰ سے توبہ واستغفار کریں، البتہ بچہ ثابت النسب ہوگا۔(واللہ اعلم بالصّواب )

اپنے مالی وتجارتی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔

darululoomnaeemia508@gmail.com

اقراء سے مزید