• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کیڑوں کے تدارک کی بجائے پیشگی نگرانی وقت کی اہم ضرورت ہے‘ ڈاکٹر آصف علی

ملتان (سٹاف رپورٹر)محمد نواز شریف زرعی یونیورسٹی میں پھل کی مکھی اور گلابی سنڈی سمیت اہم زرعی کیڑوں کی بروقت شناخت، مؤثر نگرانی اور فصلوں کو ممکنہ نقصان سے محفوظ رکھنے کیلئے مصنوعی ذہانت پر مبنی سمارٹ ٹریپ اور قبل از وقت وارننگ سسٹم کے قیام کے حوالے سے مشاورتی اجلاس منعقد ہوا،اجلاس میں ماہرین، متعلقہ اداروں اور اسٹیک ہولڈرز نے کیڑوں کی نگرانی کے جدید نظام، بروقت ڈیٹا کے حصول اور فیلڈ سطح پر اس معلومات کو مؤثر زرعی فیصلوں میں تبدیل کرنے کے امکانات پر تفصیلی غور کیا،اس موقع پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر آصف علی نے کہا کہ جدید زراعت میں کیڑوں کے حملے کے بعد ان کا تدارک کرنے کے بجائے پیشگی نگرانی اور بروقت فیصلہ سازی وقت کی اہم ضرورت ہے، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو زرعی تحقیق اور فیلڈ مانیٹرنگ سے منسلک کر کے کیڑوں کی سرگرمی کا بروقت اندازہ لگایا جا سکتا ہے، جس سے فصلوں کے تحفظ اور مؤثر پیسٹ مینجمنٹ میں مدد ملے گی۔انہوں نے مذید کہا کہ یونیورسٹی، تحقیقاتی اداروں، محکمہ زراعت اور نجی شعبے کے باہمی تعاون سے ایسے جدید نظام کو عملی شکل دی جا سکتی ہے، جو کاشتکاروں کو بروقت اور قابلِ عمل معلومات فراہم کرے۔اجلاس میں پروفیسر ڈاکٹر عائشہ حکیم نے اے آئی پر مبنی سمارٹ ٹریپ کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے کیڑوں کی موجودگی اور سرگرمی کو مسلسل مانیٹر کیا جا سکتا ہے۔ اس ڈیٹا کی مدد سے کیڑوں کی آبادی میں اضافے، ممکنہ ہاٹ اسپاٹس اور بروقت کنٹرول اقدامات کی نشاندہی ممکن ہو سکے گی، ڈاکٹر نعیم اقبال نے کہا کہ زرعی یونیورسٹی ملتان مصنوعی ذہانت، جدید تحقیق اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو زرعی مسائل کے عملی حل سے جوڑنے کے لیے اپنا تحقیقی اور توسیعی کردار مزید مؤثر بنانے کے لیے کوشاں ہے۔اس موقع پر ڈی جی پیسٹ وارننگ پنجاب غلام رسول نے کہا کہ مصنوعی زانت اور سمارٹ ٹریپ ٹیکنالوجی کی مدد سے زرعی کیڑوں کی بروقت نگرانی اور ان کی آبادی میں اضافے کی پیشگی نشاندہی ممکن ہو سکتی ہے۔
ملتان سے مزید