انصار عباسی
اسلام آباد … وفاقی حکومت خیبر پختونخوا میں بڑھتی ہوئی سیاسی اور سکیورٹی صورتحال سے نمٹنے کیلئے مختلف آئینی آپشنز پر غور کر رہی ہے، جبکہ ایک باخبر ذریعے نے اشارہ دیا ہے کہ مرکز بالآخر صرف ایمرجنسی یا گورنر راج میں سے کسی ایک پر انحصار کرنے کے بجائے ’’آئینی اقدامات کے امتزاج‘‘ کا راستہ اختیار کر سکتا ہے۔ جب ذریعے سے پوچھا گیا کہ آیا حکومت خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج نافذ کرنے کی جانب بڑھ رہی ہے تو ذریعے کا کہنا تھا کہ میری رائے میں دونوں کیلئے ضروری حالات موجود ہیں۔ آئین میں فراہم کردہ اقدامات کا ایک امتزاج اختیار کیا جا سکتا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں خاص اہمیت رکھتا ہے جب پی ٹی آئی کی زیر قیادت خیبر پختونخوا حکومت اور وفاقی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان تعلقات میں بالخصوص صوبے کی سکیورٹی صورتحال اور پی ٹی آئی کی جانب سے 4؍ اکتوبر کو اسلام آباد کی طرف مارچ جاری رکھنے کے فیصلے کے معاملے پر مسلسل کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ وفاقی حکومت پہلے ہی اعلانیہ طور پر عندیہ دے چکی ہے کہ آئین کے آرٹیکل 232؍ کے تحت ایمرجنسی اور آرٹیکل 234؍ کے تحت گورنر راج ان آئینی آپشنز میں شامل ہیں جن کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ پارلیمانی امور کے وزیر طارق فضل چوہدری نے حال ہی میں کہا تھا کہ حکومت خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ پر ’’سنجیدگی سے غور‘‘ کر رہی ہے اور اس کی وجہ صوبائی حکومت کی جانب سے مبینہ طور پر دہشت گردی پر قابو پانے میں ناکامی کو قرار دیا تھا۔ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بھی کہا تھا کہ اگر ایسے حالات موجود ہوں یا پیدا ہو جائیں جن میں آئین گورنر راج یا ایمرجنسی کا تقاضا کرے تو ’’ایسا ضرور ہو سکتا ہے اور ہوگا‘‘۔ تاہم، بعد ازاں حکومت نے فی الحال فوری طور پر دونوں میں سے کوئی اقدام نافذ نہ کرنے کا فیصلہ کیا اور اس کے بجائے پی ٹی آئی کو ایک اور موقع دینے کا فیصلہ کیا کہ وہ اپنے مجوزہ مارچ پر نظرثانی کرے اور اپنی محاذ آرائی پر مبنی سیاسی حکمتِ عملی تبدیل کرے۔ مذکورہ ذریعے کی جانب سے ممکنہ ’’آئینی اقدامات کے امتزاج‘‘ کا حوالہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ زیر غور آپشنز ایمرجنسی اور گورنر راج میں سے کسی ایک کے سادہ انتخاب تک محدود نہیں ہو سکتے۔ تاہم، آئینی اقدامات کے اس ممکنہ امتزاج کی درست نوعیت ابھی واضح نہیں۔ آرٹیکل 232؍ کے تحت ایسے حالات میں ایمرجنسی نافذ کی جا سکتی ہے جب سنگین ہنگامی صورتحال موجود ہو اور جنگ، بیرونی جارحیت یا ایسے داخلی خلفشار کے باعث پاکستان یا اس کے کسی حصے کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو جس پر قابو پانا صوبائی حکومت کے اختیار سے باہر ہو۔ دوسری جانب آرٹیکل 234؍ ایسے حالات سے متعلق ہے جس میں کسی صوبے میں آئینی نظام کے ناکام ہونے کا معاملہ درپیش ہو۔ دونوں میں یہ فرق خاص اہمیت رکھتا ہے۔ آرٹیکل 232؍ کے تحت ایمرجنسی اور آرٹیکل 234؍ میں مختلف آئینی نتائج اور طریقۂ کار موجود ہے۔ آرٹیکل 234؍ کے تحت صوبائی اسمبلی کے اختیارات اور فرائض بھی معطل کیے جا سکتے ہیں، جبکہ آرٹیکل 232؍ بذاتِ خود صوبائی اسمبلی کو معطل نہیں کرتا۔