تفہیم المسائل
سوال: میں محکمۂ پولیس میں بطور سپاہی ڈیوٹی انجام دیتا ہوں، فی الحال آفس میں موجود رہنا میری ڈیوٹی ہے، تین شفٹیں ہوتی ہیں: شفٹ :Aصبح آٹھ بجے تا شام پانچ بجے، شفٹ:Bشام پانچ تا رات بارہ بجے اورشفٹ:Cرات بارہ بجے تا صبح آٹھ بجے۔
میری ڈیوٹی صبح آٹھ تا شام پانچ بجے ہے، ہم اپنی مرضی سے ڈیوٹی تبدیل کرواسکتے ہیں، درمیان میں ایک گھنٹے کا وقفہ بھی ہوتا ہے، اسی طرح کبھی سرکاری طور پر دوسری جگہ تبادلہ ہوجاتا ہے یا خود بھی تبادلہ کرواسکتے ہیں۔
آفس کے ساتھ ہی ایک مسجد ہے، مسجد کا انتظام عطیات کے ذریعے انتظامیہ انجام دیتی ہے۔ مسجد انتظامیہ سے میرا زبانی معاہدہ نماز کے اوقات کی پابندی کرنے کا ہوا ہے، نماز کے علاوہ اوقات سے انتظامیہ کا کوئی تعلق نہیں ہے، سپاہی کی ڈیوٹی کی تنخواہ مجھے محکمۂ پولیس سے ملتی ہے، کیا مسجد انتظامیہ سے تنخواہ لے سکتا ہوں؟ (محمد شاہ بران ، کراچی)
جواب: آپ چونکہ پولیس کے محکمہ میں باقاعدہ تنخواہ یافتہ ملازم ہیں، محکمے کی طرف سے اپنی ڈیوٹی پوری انجام دینا آپ کے فرائض میں شامل ہے، فقہی اصطلاح میں ایسے اجیر کو ’’اجیرِ خاص کہا جاتا ہے اور اجیرِ خاص اُن اوقات میں کوئی دوسرا کام نہیں کرسکتا، جس کی فقہی دلیل یہ ہے : تنویرالابصار مع الدرالمختار میں ہے : ’’ اجیرِ خاص : ایسا شخص جو مخصوص وقت کے لیے کسی شخص کا پابند ہو ،(ردّالمحتار علیٰ الدرالمختار ،جلد6 ، ص:69)‘‘۔
علّامہ ابن عابدین شامیؒ لکھتے ہیں: ’’ اجیرِ خاص کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی دوسرے کے لیے کام کرے، بلکہ نفل نماز بھی نہ پڑھے، ’’فتاویٰ تاتارخانیہ‘‘ میں ہے: اور فتاویٰ الفضلی میں ہے: اگر کسی نے ایک شخص کو ایک دن کے لیے کسی کام پر اجرت پر رکھا تو اس پر لازم ہے کہ وہ پوری مدت تک وہی کام کرے اور فرض نماز کے علاوہ کسی اور چیز میں مشغول نہ ہواور فتاویٰ سمرقند میں ہے:ہمارے بعض مشایخ نے کہا ہے : اُس کے لیے سنت ادا کرنا بھی جائز ہے۔
فقہاء کا اس پر اتفاق ہے کہ اجیرِ خاص (ڈیوٹی کے اوقات میں)نفل نماز نہیں پڑھے گا اور اسی پر فتویٰ ہے‘‘۔ مزید لکھتے ہیں: ترجمہ:’’ اور اگر(ڈیوٹی کے اوقات میں) اس نے (وقتی نماز کے علاوہ کوئی اور)کام کر لیا تو اس کی اجرت میں سے کمی کر دی جائے گی،’’تتارخانیہ ‘‘میں ہے: ایک بڑھئی کو رات تک کے لیے اجرت پر رکھا گیا تو اس نے کسی دوسرے کے لیے ایک دوات ایک درہم میں بنا دی اور اسے معلوم تھا تو وہ گناہگار ہے اور اگر اُسے(یہ مسئلہ) معلوم نہ تھا تو اس پر کچھ گناہ نہیں اور بڑھئی کی اجرت میں سے اتنی کمی کر دی جائے گی جتنا اس نے دوات بنانے میں کام کیا،(ردّالمحتار علیٰ الدرالمختار ،جلد6،ص:70)‘‘۔
ہماری معلومات کے مطابق پاکستان میں بیک وقت ایسی دو ملازمتیں یا دو عہدے رکھنا عام طور پر قانوناً جائز نہیں ہے، جن کی تنخواہ وفاقی حکومت یاصوبائی حکومت یا مقامی حکومت کے خزانے سے دی جارہی ہو، اسے سرکاری ملازمت کے قواعد وضوابط کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔
اس کی بابت سابق چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ کا 2019کا ایک فیصلہ موجود ہے، اسی طرح پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ بھی ہے ، بلوچستان گورنمنٹ کے محکمہ خزانہ کا نوٹیفکیشن بھی موجود ہے۔ بعض صورتوں میں حکومتیں دوہری تنخواہ کو واپس بھی وصول کرتی ہیں یا ملازم کو ایک عہدے سے دستبردار ہونے کا کہتی ہیں۔ ہاں!البتہ اگر حکومت اپنے کسی منصِب پر فائز کسی شخص کو کسی دوسرے منصِب کی اضافی ذمے داری سونپے اور اس کے عوض کوئی الائونس وغیرہ دے دے، تو یہ جائز ہے۔
جو سرکاری ملازم اپنے فرائضِ منصبی اور اوقاتِ کار کی پابندی کرتا ہے، مگر اپنے فاضل وقت میں کوئی دوسرا کام کرتا ہے، تو یہ خلافِ قانون نہیں ہے، جیسے سرکاری اسکولوں اور کالجوں کے اساتذہ اپنے فارغ اوقات میں گھروں پرٹیوشن پڑھاتے ہیں یا کسی کوچنگ سینٹر میں پڑھاتے ہیں یا بعض ملازمین اپنی معاشی مجبوریوں کے تحت فاضل وقت میں کوئی جُز وقتی کام کرتے ہیں تو اس کی کوئی ممانعت نہیں ہے، بشرطیکہ اس سے اُن کا سرکاری کام متاثر نہ ہوتا ہو۔
بادی النظر میں سرکاری دفاتر کے معمول کے اوقاتِ کار میں عام طور پر صرف ظہر کی نماز کا وقت آتا ہے، جیسا کہ آپ نے شفٹ A کے اوقات بیان کیے ہیں یا بعض اوقات سردیوں کے موسم میں عصر کا وقت آسکتا ہے، مغرب، عشاء اور فجر کی نمازوں کے اوقات کا دفتری اوقات سے کوئی ٹکراؤ نہیں ہوتا، ماسوائے اس صورت کے کہ کسی کی شفٹ ڈیوٹی ہو اور اس کا ان نمازوں کے اوقات سے ٹکراؤ ہو،جیساکہ شفٹ B میں نماز عصر، مغرب اور عشاء متاثر ہوتی ہیں ،شفٹCمیں نمازِ فجر کا وقت آتا ہے۔
مسجد سے ملحق سرکاری دفتر میں آپ کی مستقل ڈیوٹی ہے اور ڈیوٹی کے دوران نماز کے وقفے میں آپ نماز پڑھا دیتے ہیں، تو یہ جائز ہے ، لیکن اصل ڈیوٹی چھوڑ کر آپ مسجد انتظامیہ سے امامت کا اجارہ طے کریں، یہ ناجائز ہوگا۔ چونکہ نماز تو بہرحال ہر ایک مسلمان کو پڑھنی ہوتی ہے، اگر آپ کی جائے امامت اور پولیس ڈیوٹی کے مقام ساتھ ساتھ ہیں، تینوں شفٹوں میں سے کسی بھی شفٹ میں اگر آپ پولیس ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے اپنی مقررہ ڈیوٹی یا اُس کے اوقاتِ کار میں کسی کوتاہی کے بغیر امامت کرسکتے ہیں اور آپ کے افسران کو اس پر کوئی اعتراض بھی نہیں ہے، تو ہماری نظر میں اس کی گنجائش موجود ہے، کیونکہ نماز کی امامت سے استعدادِ کار میں کوئی فرق واقع نہیں ہوتا۔
نیز اگر کسی کی گیٹ کیپر یا چوکیدار کی ڈیوٹی ہے، تب بھی فرض نماز کی ادائیگی کے لیے اس کا کوئی نہ کوئی متبادل یقیناً ہوگا، نیز بعض اداروں میں دوپہر کوکھانے اور نمازِ ظہر کے لیے وقفہ دیاجاتا ہے، اس میں بعض ملازم نماز پڑھتے ہیں اور بعض تارکِ صلوٰۃ نہیں پڑھتے، مگر جب ادارے نے چھٹی دے دی تو اب یہ اس ملازم کا استحقاق ہے، اس میں کہیں نماز پڑھاسکتا ہو تو یہ جائز ہونا چاہیے، البتہ کھانا اور نماز دونوں کام اسی دورانیے میں انجام دینا ہوگا۔
البتہ مستقبل میں اگر آپ کا تبادلہ کسی دوسری جگہ جائے امامت سے دور ہوجاتا ہے، جس کے سبب آپ کو نمازوں کے اوقات میں پولیس ڈیوٹی سے غیر حاضر رہنا پڑے، تو پھر افسرانِ اعلیٰ کی اجازت کے بغیر آپ کا امامت کو جاری رکھنا درست نہیں ہوگا۔(واللہ اعلم بالصّواب)