ڈاکٹر نعمان نعیم
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: اور اگر آپ کا رب چاہتا تو تمام انسانوں کو ایک ہی امّت بنا دیتا، اور وہ ہمیشہ اختلاف کرتے رہیں گے۔ (سورۂ ہود)اسلام نے اختلاف کو کبھی جرم یا تفریق کا سبب نہیں بنایا، بلکہ اسے امّت کے لیے وسعت اور سہولت کا ذریعہ قرار دیا ہے۔
تاہم، اختلافِ رائے اسی وقت تعمیری اور بابرکت ثابت ہو سکتا ہے، جب اسے شرعی ضوابط، شائستگی، حلم اور وسعتِ ظرف کے دائرے میں رکھا جائے۔ اس کے برعکس، جب تنقید کا معیار علمی اور شرعی بنیادوں سے ہٹ کر شخصیت پرستی، شدت پسندی، تحقیر اور فتویٰ بازی کی شکل اختیار کر لے، تو علمی و دینی ماحول بگاڑ اور انتشار کا شکار ہو جاتا ہے۔
بے شمار احادیث ایسی ہیں جو ہمیں اپنے ان رویوں اور سختیوں پر توجہ دینے کی تلقین کرتی ہیں۔ حضور اکرمﷺ نے فرمایا "جب کوئی فیصلہ کرنے والا اجتہاد کرے اور درست فیصلے تک پہنچ جائے تو اس کے لیے دوہرا اجر ہے، اگر وہ اجتہاد کرے اور اس سے خطا ہو جائے تو اس کے لیے ایک اجر ہے"۔(صحیح بخاری)
آپ ﷺ کا فرمان ہے "بے شک اللہ تعالیٰ نرمی کرنے والا ہے اور نرمی کو پسند فرماتا ہے، اور وہ نرمی پر وہ کچھ عطا فرماتا ہے جو سختی پر عطا نہیں فرماتا۔" (صحیح مسلم) حدیث میں یہ بھی ہے "کسی شخص کے برے ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے۔"(صحیح مسلم)"مسلمان کو گالی دینا (یا اس کی تذلیل و شخصیت کشی کرنا) فسق ہے اور اس سے جنگ کرنا کفر ہے۔( صحیح بخاری)"جب کوئی شخص اپنے کسی (مسلمان) بھائی کو ’’اے کافر‘‘ کہتا ہے، تو ان دونوں میں سے ایک پر یہ بات لوٹ آتی ہے۔"(بخاری ومسلم)"
آسانی پیدا کرو اور دشواری نہ بناؤ، لوگوں کو خوشخبری دو (اور قریب کرو) اور انہیں (سختیوں اور نفرتوں سے) دور نہ کرو۔"(بخاری ومسلم )ارشادِ نبویؐ ہے: ’’میں اس شخص کے لیے جنّت کے اطراف میں ایک گھر کی ضمانت دیتا ہوں جو حق پر ہونے کے باوجود بحث و تکرار (اور کٹ حجتی) کو چھوڑ دے‘‘۔( سنن ابو داؤد)
اگر ہم قرآن و حدیث ،سیرتِ رسولﷺ اور اپنے اسلاف، ائمۂ اربعہ اور تاریخِ فقہ کا بھی مطالعہ کریں تو ہمیں ادبِ اختلاف اور وسعتِ ظرف کے ایسے بے مثال شواہد ملتے ہیں جو مشعلِ راہ ہیں۔ ائمہ اور جلیل القدر علماء کے درمیان گہرے فکری و شرعی اختلافات موجود تھے، لیکن ان کے تعلقات باہمی احترام، محبت اور تقویٰ پر مبنی تھے۔
امامِ اعظم ابو حنیفہؒ اور ان کے جلیل القدر شاگردوں (امام ابو یوسفؒ اور امام محمدؒ) کے درمیان متعدد فقہی مسائل میں شدید اختلاف موجود ہے، لیکن امام ابو حنیفہؒ اپنے شاگردوں کی آزادانہ فکر کی قدر کرتے اور یوں فقہ حنفی کی تدوین میں تنوع اور پختگی آئی۔ اسی طرح، امام مالکؒ اور امام شافعیؒ کے درمیان استاذ اور شاگرد کا رشتہ تھا،امام شافعیؒ فرماتے ہیں، "جب علماء کا ذکر آئے تو امام مالکؒ ستارے کی مانند ہیں"۔ اس کے باوجود دونوں کے فقہی مناہج میں واضح فرق ہے، مگر باہمی محبت و احترام میں کبھی فرق نہ آیا۔
اسی طرح، خلیفہ ابو جعفر المنصور اور ہارون الرشید نے جب امام مالکؒ سے یہ خواہش ظاہر کی کہ ان کی کتاب "المؤطأ" کو سرکاری طور پر نافذ کر دیا جائے اور تمام شہروں کے لوگوں کو اسی پر عمل کرنے کا پابند بنایا جائے، تو امام مالکؒ نے اس کی سختی سے مخالفت کی۔ فرمایا: "ایسا نہ کیجیے! کیونکہ صحابۂ کرامؓ مختلف شہروں میں منتشر ہو گئے تھے اور ہر جگہ لوگوں کے پاس رسول اللہﷺ کی احادیث اور فتاویٰ پہنچ چکے ہیں، لوگ اپنے اپنے علاقوں کی روایات پر عمل پیرا ہیں، لہٰذا انہیں ان کی حالت پر چھوڑ دیجیے" یہ موقف شرعی اور فقیہانہ تنوع کو قبول کرنے کی اعلیٰ ترین مثال ہے۔
سیرتِ طیبہ سے رہنمائی ائمہ کے اقوال اور ان کا طرزِ عمل اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ اختلاف کو کبھی بغض اورعداوت کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔ امام شافعیؒ کا مشہور قول اس فقیہانہ شائستگی کا مظہر ہے، میری رائے درست ہے، لیکن اس میں خطا کا احتمال ہے اور دوسرے کی رائے غلط ہے، مگر اس میں درستی کا امکان بھی موجود ہے۔
امام شافعیؒ کا یونس بن عبد الاعلیٰ کے ساتھ ایک مسئلے میں شدید علمی اختلاف ہوا،جس پر یونس ناراض ہو کر چلے گئے۔ امام شافعیؒ خود ان کے گھر تشریف لے گئے، ان کا ہاتھ تھاما اور فرمایا: "اے ابو موسیٰ! کیا یہ ممکن نہیں کہ ہم ایک مسئلے میں متفق نہ ہو سکیں، مگر پھر بھی بھائی بھائی رہیں؟
افسوسناک امر یہ ہے کہ ہمارے موجودہ معاشرتی اور علمی و مذہبی حلقوں میں صورتِ حال اس شاندار اسلامی روایت کے بالکل برعکس نظر آرہی ہے۔ اگر علم و تحقیق اور شریعت سے وابستہ کوئی فرد اپنی حدود کے اندر رہتے ہوئے کسی معاملے پر مختلف یا تفردانہ رائےکا اظہارکرے تو اس کا جواب دلیل اور اصولِ فقہ و قواعدِ شریعت سے دینے کے بجائے شدید ترین غصے اور شدت سے دیا جاتا ہے۔
علمی تنقید کو فوری طور پر کردار کشی اور بائیکاٹ میں بدل دیا جاتا ہے اور عاق کرنے نیز فتویٰ سازی کی مہمات چلا دی جاتی ہیں۔ یہ سوال اٹھانا ازحد ضروری ہے کہ کیا کسی مفکر، عالم یا فقیہ کی رائے سے اختلاف کا لازمی نتیجہ نفرت کرنا،اس کی تکفیر و تفسیق کرنا اور اسے علمی و دینی برادری سے خارج کرنا ہی رہ گیا ہے؟
یہ عدم برداشت اور شرعی و اخلاقی حدود سے تجاوز پر مبنی رویہ ہماری آنے والی نسلوں کے لیے ایک انتہائی تباہ کن پیغام ہے۔ جب نئی نسل اور علم کے شائقین یہ دیکھتے ہیں کہ سوچنے، سمجھنے، دینی علوم میں تدبر کرنے اور اجتہادی رائے قائم کرنے کی پاداش میں انسان کو نفرت اور سخت فتاویٰ کے بوجھ تلے دبا دیا جاتا ہے، تو ان کے اندر سے تحقیق، تفتیش اور آزادانہ علمی فکر کا جذبہ ختم ہونے لگتا ہے۔
اس شدت کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نوجوان یا تو ہر قسم کی علمی و دینی سرگرمی سے خوفزدہ ہو کر بے حس ہوجاتے ہیں یا پھر دینی و علمی حلقوں کی شدت سے بدظن ہو کر دین اور سلف کی روش سے ہی دور نکل کر نظریاتی انحراف تک پہنچ جاتے ہیں۔
ہمیں اپنے علمی، شرعی اور معاشرتی رویوں میں قرآن و سنّت کی روشنی میں نرمی، شائستگی اور وسعتِ ظرف کو بیدار کرنا ہوگا، تاکہ آنے والی نسلیں باہمی احترام، شرعی حدود کی پاس داری اور تعمير و ترقی کے ساتھ اپنا علمی و دینی سفر جاری رکھ سکیں۔