• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حصولِ علم کی ضرورت و اہمیت اور اُس کے اصول و آداب

علّامہ ڈاکٹر ہشام الٰہی ظہیر

اسلام نے علم کو انسان کی زندگی کی بنیادی ضرورت قرار دیا ہے۔ انسان کو صحیح اور غلط، حلال اور حرام، حق اور باطل، نفع اور نقصان کی پہچان علم ہی کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔ اسی لیے قرآن و سنّت میں علم اور اہلِ علم کی فضیلت کو بڑی اہمیت دی گئی ہے۔

پہلی وحی:۔اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ پر نازل ہونے والی پہلی وحی ہی میں علم کی طرف رہنمائی فرمائی: (ترجمہ) پڑھو اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔ اس نے انسان کو جمے ہوئے خون سے پیدا کیا۔ پڑھو اور تمہارا رب سب سے زیادہ کریم ہے، جس نے قلم کے ذریعے تعلیم دی، انسان کو وہ کچھ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا۔(سورۃ العلق: ۱ تا ۵)

غور کیجیے کہ اسلام کی دعوت کا آغاز ہی پڑھنے، سیکھنے اور علم حاصل کرنے سے ہوا۔

علم انسان کو اللہ کی معرفت عطا کرتا ہے:۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: پس جان لو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔(سورۂ محمد: ۱۹)سب سے پہلے فرمایا: "جان لو"، پھر اس علم کے مطابق عمل کا راستہ کھولا۔ اس سے معلوم ہوا کہ صحیح عمل کے لیے صحیح علم ضروری ہے۔

علم اور جہالت برابر نہیں:۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ترجمہ: کہہ دیجیے: کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر ہو سکتے ہیں؟ (سورۃ الزمر: ۹)یقیناً علم انسان کے مقام کو بلند کرتا ہے، لیکن وہ علم جو انسان کو اللہ کے قریب کرے اور عمل کی طرف لے جائے۔

اہلِ علم کے درجات:۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ترجمہ: اللہ تم میں سے ایمان والوں اور جنہیں علم عطا کیا گیا ہے، ان کے درجات بلند فرمائے گا۔(سورۃ المجادلہ: ۱۱)یہ علم کی عظمت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایمان کے ساتھ علم کو بھی درجات کی بلندی کا ذریعہ قرار دیا۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص علم حاصل کرنے کے لیے کسی راستے پر چلتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس کے ذریعے جنت کا راستہ آسان فرما دیتا ہے۔ذرا غور کریں، علم حاصل کرنے کے لیے اٹھایا جانے والا قدم صرف دنیاوی کامیابی کا ذریعہ نہیں بلکہ جنّت کے راستے کو آسان کرنے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

علم کس لیے حاصل کیا جائے؟:۔ اسلام میں علم کا مقصد محض معلومات جمع کرنا نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی معرفت، صحیح عقیدہ، درست عبادت اور صالح کردار پیدا کرنا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: علم سیکھنے ہی سے حاصل ہوتا ہے۔صحیح مفہوم کی رو سے انسان کو علم کے لیے محنت، سوال، مطالعہ اور اہلِ علم کی صحبت اختیار کرنی چاہیے۔

دین میں سمجھ حاصل کرنا بہت بڑی نعمت ہے:۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جس شخص کے ساتھ خیر کا ارادہ فرماتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے‘‘۔ دین کی سمجھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت بڑی خیر ہے۔ اس لیے ہر مسلمان کو اپنی استطاعت کے مطابق دین کا ضروری علم حاصل کرنا چاہیے۔

علم کے بغیر عبادت بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے:۔انسان اخلاص کے ساتھ عبادت کرنا چاہتا ہے، لیکن اگر اسے صحیح طریقہ معلوم نہ ہو تو وہ نادانستہ طور پر غلطی کر سکتا ہے۔ نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج، معاملات، نکاح، تجارت، والدین کے حقوق اور اولاد کی تربیت، ہر معاملے میں صحیح علم ضروری ہے۔

اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اگر تم نہیں جانتے تو اہلِ علم سے پوچھ لو۔(سورۃ النحل: ۴۳)یہ آیت ہمیں ایک عظیم اصول دیتی ہے کہ جس مسئلے کا علم نہ ہو، اپنی طرف سے فیصلہ کرنے کے بجائے اہلِ علم سے پوچھنا چاہیے۔

علم کے ساتھ عمل ضروری ہے:۔صرف علم حاصل کر لینا کافی نہیں۔ علم کا اصل فائدہ اس وقت ظاہر ہوتا ہے جب وہ انسان کے عمل اور اخلاق میں نظر آئے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے ایمان والو! تم وہ بات کیوں کہتے ہو جو خود نہیں کرتے؟ اللہ کے نزدیک یہ بات بہت سخت ناپسندیدہ ہے کہ تم وہ کہو جو خود نہ کرو۔(سورۃ الصف: ۲، ۳)اس لیے طالب علم کو چاہیے کہ جو سیکھے، پہلے اپنی زندگی میں نافذ کرنے کی کوشش کرے۔

علم کی نیت:۔علم حاصل کرتے وقت نیت درست ہونا ضروری ہے۔ علم شہرت، بحث، فخر یا لوگوں پر برتری حاصل کرنے کے لیے نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا، اپنی اصلاح اور دوسروں کی رہنمائی کے لیے حاصل کیا جائے۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔(صحیح بخاری، صحیح مسلم) لہٰذا طالب علم اپنے دل میں یہ نیت رکھے کہ میں اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے، اپنے دین کو سمجھنے اور اس علم پر عمل کرنے کے لیے سیکھ رہا ہوں۔

طالب علم کے لیے چند اہم باتیں:۔ طالب علم کو چاہیے کہ وہ اپنے وقت کی قدر کرے، اساتذہ کا ادب کرے، سوال کرنے میں جھجھک محسوس نہ کرے، علم کو لکھے، دہرائے، اس پر عمل کرے اور اپنے علم کو دوسروں تک پہنچائے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ترجمہ: میری طرف سے پہنچاؤ خواہ ایک آیت ہی ہو۔ (صحیح بخاری) لیکن جو بات انسان دوسروں تک پہنچائے، اس کے صحیح ہونے کا اطمینان بھی ضروری ہے۔ دین کے نام پر غیر ثابت اور من گھڑت باتیں بیان کرنا درست نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں نافع علم، صالح عمل اور اخلاص نصیب فرمائے۔(آمین)

اقراء سے مزید