نوبیل امن انعام یافتہ نوی پلّے نے امریکا پر زور دیا ہے کہ وہ انسانی حقوق کے علم بردار اور دنیا بھر میں آزادی کے حامی ملک کے طور پر اپنا روایتی کردار دوبارہ ادا کرے۔
85 سالہ نوی پلے کا یہ بیان عالمی فوجداری عدالت کو کمزور کرنے کی امریکی کوششوں کے تناظر میں سامنے آیا ہے، نوی پلّے اس وقت اقوامِ متحدہ کے اعلیٰ ترین عدالتی ادارے میں جج کے فرائض انجام دے رہی ہیں۔
انہوں نے کہا ہے کہ امریکا کو عالمی قیادت اور دنیا بھر میں آزادی کے فروغ کے لیے اپنا سنجیدہ کردار بحال کرنا چاہیے۔
واضح رہے کہ نوی پلّے کو امن کے نوبیل انعام کا فاتح قرار دیے جانے کے چند گھنٹے بعد امریکا نے عالمی فوجداری عدالت کو نشانہ بنانے کے لیے وسیع پابندیوں کا اعلان کیا تھا۔
نوی پلّے نے ان پابندیوں کے وقت کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ بین الاقوامی معاہدے کے تحت قائم ہونے والے ادارے پر ایک ایسا حملہ ہے جس کی مثال نہیں ملتی۔
دوسری جانب امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کا عالمی فوجداری عدالت کو ایک باغی عدالت قرار دیتے ہوئے کہنا ہے کہ فوجداری عدالت کو امریکی شہریوں کے خلاف مقدمات قائم کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
واضح رہے کہ امریکا طویل عرصے سے عالمی فوجداری عدالت کی مخالفت کرتا رہا ہے، اس اختلاف کی ایک اہم وجہ عدالت کا وہ قانونی اختیار ہے جس کے تحت عدالت رکن ممالک کے شہریوں کے علاوہ ان افراد کے خلاف بھی کارروائی کر سکتی ہے جن پر رکن ممالک کی سر زمین پر بین الاقوامی جرائم کے ارتکاب کا الزام ہو۔