تفہیم المسائل
سوال: میری ذاتی زمین سے ملحق پانچ مرلہ زمین میں خاندانی قبرستان ہے، اپنی زمین سے مزید پانچ مرلہ قبرستان کے لیے وقف کرنا چاہتا ہوں، کیا یہ وقف کرنا صدقۂ جاریہ ہوگا؟ (حکیم سید صابر علی، گجرات)
جواب: ہر ایسا عمل جس کا نفع لوگوں کو دائمی اور ہمیشگی کے ساتھ پہنچتا رہے، صدقۂ جاریہ شمار ہوتا ہے، جبکہ مُردوں کو دفنانے کی خاطر زمین وقف کرنے کی صورت میں بھی چونکہ لوگ اس زمین سے ہمیشہ کے لیے مستفید ہوتے ہیں، اس لیے قبرستان کی وقف کردہ زمین بھی صدقۂ جاریہ کے زمرے میں آتی ہے اور صدقۂ جاریہ کے مختلف فضائل بہت سی احادیث میں وارد ہوئے ہیں:
(۱)ترجمہ: ’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:مومن کو موت کے بعد جن اعمال کا ثواب پہنچتا ہے، ان میں سے کچھ یہ ہیں: جو علم سکھایا اور پھیلایا، اپنے پیچھے نیک اولاد چھوڑی ، قرآن کریم کا نسخہ جو اس نے ترکہ میں چھوڑا یا اس نے کوئی نہربنائی یا اپنی صحت اور زندگی میں اپنے مال سے صدقہ نکالا، ان سب اعمال (کا اجر)مومن کی موت کے بعد اسے پہنچتا رہتا ہے ،(سُنن ابن ماجہ:242)‘‘ ۔
(۲)ترجمہ:’’ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:جب انسان وفات پاجاتاہے تواس کے اعمالِ خیر کاسلسلہ منقطع ہوجاتا ہے، سوائے تین صورتوں کے (جن کااجر وفیضان وفات کے بعد بھی جاری رہتاہے)، یعنی صدقۂ جاریہ اور علم نافع (جس کافیضان ان کے تلامذہ کے ذریعے بدستور جاری ہے) اور نیک اولاد جو اس کے لیے دعاکرتی رہے،(سنن ترمذی :1376)‘‘۔
(۳)ترجمہ:’’حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا: سات اعمال ایسے ہیں، جن کا اجر و ثواب بندے کو مرنے کے بعد بھی ملتا رہتا ہے، حالانکہ وہ قبر میں ہوتا ہے: جس نے علم سکھایا یا نہر کھدوائی، کنواں کھودا یا کوئی درخت لگایا یا کوئی مسجد تعمیر کی یا قرآن کریم ترکہ میں چھوڑا یا ایسی اولاد چھوڑ کر دنیا سے گیا جو مرنے کے بعد اس کے لیے دعائے مغفرت کرے،(مجمع الزوائد:769)‘‘۔
علّامہ نظام الدینؒ لکھتے ہیں: ترجمہ:’’ اور جب(کوئی شخص ) کہے:یہ میری زمین جہاد، ناداروں اور مُردوں کی کفن یا قبروں کی کھدائی یا اس سے ملتے جلتے دیگر امور کے لیے وقف ہے، تو یہ جائز ہے، جیسا کہ ذخیرہ میں ذکر کیا گیا ہے،(فتاویٰ عالمگیری ،جلد2، ص:370)‘‘۔
خلاصۂ کلام یہ کہ آپ قبرستان کے لیے جو زمین وقف کریں گے، وہ یقیناً آپ کے لیے صدقۂ جاریہ ہوگی اور اگر اسے عامّۃ المسلمین کے لیے وقف کرلیں تو زیادہ اجر کاباعث بنے گا ،کیونکہ فی زماننا ہرجگہ قبرستانوں کی تنگی اورقلّت کا مسئلہ درپیش ہے ۔(واللہ اعلم بالصّواب )