تفہیم المسائل
سوال: میری بیٹی وانیہ اکثر بیمار رہتی ہے، کمزور ہے، ہمارا خیال یہ ہے کہ ’’وانیہ‘‘ نام رکھنے کے سبب ایسا ہے، ہم نام تبدیل کرنا چاہتے ہیں، شرعی رہنمائی فرمائیں ، ( محمد یامین ،کراچی)
جواب: وانیہ عربی زبان کالفظ ہے، جس کا مادہ ’’وَنٰی ‘‘ہے، جس کے تین معانی ہیں: (۱)سُست (۲) لاغر جسم (۳)ہلکی خوش گوار خوشبو، (المنجد ، ص:1108، القاموس الوحید، ص:1902)‘‘۔تیسرے معنیٰ کے اعتبار سے بچی کا نام وانیہ رکھنے میں حرج نہیں، تاہم دیگر معانی مناسب نہیں ہیں، لہٰذا معنی کے لحاظ سے یہ نام اچھا نہیں ہے، اس لیے اس کے بجائے کوئی اچھا بامعنیٰ نام یا کسی صحابیہ رضی اللہ عنہا کے نام پر نام رکھ لیں۔
رسول اللہ ﷺ ناپسندیدہ ناموں کو تبدیل فرما دیا کرتے تھے : ترجمہ:’’حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: رسول اللہ ﷺ برے نام کو (اچھے نام سے) تبدیل کر دیا کرتے تھے، (سنن ترمذی:2839)‘‘۔
ابتداء ً نام رکھتے وقت اہلِ علم سے مشورہ کرلینا چاہیے، محض جدید نام رکھنے کی خواہش میں کسی بھی لفظ کے معانی جانے بغیر اسے بطور نام استعمال کرلینا درست نہیں، بعض لوگ انٹرنیٹ سے ناموں کے معانی دیکھ کر نام رکھ لیتے ہیں، جس میں اکثر مواد غیر مُصدّقہ اور غلط ہوتا ہے۔
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ آپ نام تبدیل کرسکتے ہیں، چونکہ الفاظ ’’وانیہ‘‘ کے اکثر معانی معیوب ہیں، اس لیے نام بدل دیا جائے تو بہتر ہے، شرعاً یہ ایک طے شدہ اصول تونہیں ہے کہ اسماء کا لازماً مُسمّٰی کی شخصیت، اس کے مزاج یا احوال پر اثر مرتب ہوتا ہے۔