آپ کے مسائل اور اُن کا حل
سوال: عبداللہ نے اپنے انتقال کے وقت دو کروڑ روپے کی رقم وارثین کے لیے چھوڑی، عبداللہ کے انتقال سے پہلے اس کی بیوی اور ایک بیٹی کا انتقال ہو چکا تھا، عبداللہ کے اب دو بیٹے اور تین بیٹیاں حیات ہیں، جب کہ مرحومہ بیٹی کے بھی ایک بیٹا اور دو بیٹیاں ہیں، اب ترکے کی تقسیم کیسے ہوگی؟
جواب: مرحوم عبداللہ کے ترکے کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے کُل ترکے سے مرحوم کے حقوقِ متقدمہ ادا کیے جائیں گے، یعنی تجہیز وتکفین کے اخراجات نکالنے کے بعد، اگر مرحوم کے ذمے کوئی قرض ہو تو کل ترکہ سے ادا کرنے کے بعد، اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیّت کی ہو تو اسے بقیہ ترکہ کی ایک تہائی سے نافذ کریں گے۔
اس کے بعد بقیہ کُل ترکہ منقولہ وغیر منقولہ کو 7 حصوں میں تقسیم کرکے ہر ایک بیٹے کو دو حصے اور ہر ایک زندہ بیٹی کو ایک ایک حصہ ملے گا۔اگر مرحوم کی تجہیز و تکفین کا انتظام کسی وارث وغیرہ نے اپنی طرف سے کردیا ہو، مرحوم پر کوئی قرض بھی نہ ہو اور انھوں نے کوئی وصیت بھی نہیں کی ہو، اور کُل ترکہ دو کروڑ روپے ہو، تو اس میں سے مرحوم کے ہر ایک بیٹے کو 5714285.714 روپے، اور تین حیات بیٹیوں میں سے ہر ایک کو 2857142.857 روپے ملیں گے۔
مرحوم عبداللہ کی حقیقی اولاد کے ہوتے ہوئے مرحوم کی میراث میں ان کے نواسے اور نواسیوں کا شرعاً کوئی حصہ نہیں ہے، لیکن اگر تمام ورثاء عاقل اور بالغ ہیں اور وہ اپنی خوشی سے انہیں بھی کچھ دے دیں، تو یہ باعثِ اجر وثواب ہوگا۔