• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آپ کے مسائل اور اُن کا حل

سوال: اگر ماں اپنی اولاد کو بد دعائیں دینے کی عادی ہو تو کیا بد دعائیں قبول ہوتی ہیں؟ اور اگر اولاد کی اولاد کو بھی بد دعائیں دے، تو کیا وہ قبول ہوں گی؟ جب کہ ان کی اولاد بھی غیر شادی شدہ ہے۔

جواب: دعا اور بد دعا دونوں کی ہی قبولیت کے لیے کچھ شرائط و آداب ہیں، جس دعا میں شرائط مکمل نہ ہوں اس کے قبول نہ ہونے کا ذکر احادیثِ مبارکہ میں موجود ہے۔

اسی طرح ہر بد دعا بھی قبول نہیں ہوتی، مظلوم و مقہور کی بد دعا کے علاوہ عام بد دعاؤں میں اصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انھیں قبول نہیں فرماتا، سورۂ یونس کی آیت نمبر 11 میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’اور اگر جلدی پہنچادے اللہ لوگوں کو برائی جیسے کہ جلدی مانگتے ہیں وہ بھلائی تو ختم کردی جائے ان کی عمر۔‘‘ (ترجمۂ شیخ الہند)

لہٰذا اگر کوئی شخص کسی کو بے جا و ناحق بد دعا دے تو اس کا اعتبار نہیں ہے، تاہم اگر کوئی مظلوم یا ستایا ہوا شخص ظلم و زیادتی کرنے والے کو بددعا دے تو اس کی بد دعا ضرور قبول ہوتی ہے، نبی اکرم ﷺ کا ارشاد ہے: "مظلوم کی بد دعا سے بچو، اس لیے کہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی حجاب نہیں ہے۔" (صحیح البخاری، کتاب الزکاۃ، ج:2، ص:544، ط:دار ابن کثیر)

اب مسئولہ صورت میں سائل خود جائزہ لے کہ اگر والدہ اپنی اولاد کو ان کی نافرمانی، ظلم و زیادتی یا تنگ کرنے کی وجہ سے دل سے بد دعا دیتی ہیں تو ان کی بد دعا لگنے کا قوی اندیشہ ہے، اس صورت میں اولاد کو ڈرنا بھی چاہیے اور والدہ سے معافی مانگ کر اور ان کی خدمت کرکے انھیں راضی کرنا چاہیے، اور ایسے کاموں سے بچنا چاہیے جن سے والدین کا دل دکھتا ہو اور وہ بد دعا دینے پر مجبور ہوں۔

تاہم اگر والدہ بغیر کسی وجہ کے بچوں کو بد دعائیں دیتی ہیں اور یہ ان کی عادت بن گئی ہے تو ان کی بد دعا کا اعتبار نہیں ہے، لیکن مؤمن کی یہ شان نہیں کہ وہ بد دعائیں دے یا لعنت و ملامت کرے، حدیث شریف میں ہے کہ مؤمن لعن طعن کرنے والا اور فحش گو و بے حیا نہیں ہوتا۔ (جامع الترمذی)

اس صورت میں والدہ کو اپنی عادت کی اصلاح کرنی چاہیے، خدا نخواستہ کبھی ان کے منہ سے ایسے وقت میں بد دعا نہ نکل جائے جو قبولیت کی گھڑی ہو اور بعد میں ان کو پچھتاوا ہوتا رہے۔

(صحيح الإمام مسلم، و سنن أبي داؤد، مشكاة المصابیح، كتاب الدعوات، ج:2، ص:692، ط:المکتب الاسلامی)

اقراء سے مزید