• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسلام میں وراثت کی منصفانہ تقسیم اور اس کے تقاضے

علّامہ ڈاکٹر ہشام الٰہی ظہیر

اسلام نے مال اور وراثت کے معاملے میں واضح احکام دیے ہیں۔ قرآن مجید نے مردوں اور عورتوں دونوں کے لیے وراثت میں حق مقرر فرمایا اور اسے اللہ تعالیٰ کا مقرر کردہ حصہ قرار دیا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:"مردوں کے لیے اس مال میں حصہ ہے جو والدین اور قریبی رشتہ دار چھوڑ جائیں، اور عورتوں کے لیے بھی اس مال میں حصہ ہے جو والدین اور قریبی رشتہ دار چھوڑ جائیں، خواہ مال کم ہو یا زیادہ، یہ مقرر کیا ہوا حصہ ہے۔"(سورۃ النساء: 7)

بیٹی کا حصہ:۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:"اللہ تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں حکم دیتا ہے کہ ایک مرد کا حصہ دو عورتوں کے حصے کے برابر ہے۔"(سورۃ النساء: 11)اور فرمایا:"اگر صرف لڑکیاں ہوں اور دو سے زیادہ ہوں تو ان کے لیے ترکے کا دو تہائی ہے، اور اگر ایک ہی لڑکی ہو تو اس کے لیے نصف ہے۔"(سورۃ النساء: 11)لہٰذا بیٹی کو وراثت سے محروم کرنا قرآن کے مقرر کردہ حق کو روکنا ہے۔

بہن کا حصہ:۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:"لوگ آپ سے فتویٰ پوچھتے ہیں، کہہ دیجیے کہ اللہ تمہیں کلالہ کے بارے میں حکم دیتا ہے۔"پھر فرمایا: "اگر کوئی شخص فوت ہوجائے اور اس کی کوئی اولاد نہ ہو اور اس کی ایک بہن ہو تو اس کے لیے اس کے چھوڑے ہوئے مال کا نصف ہے۔"(سورۃ النساء: 176)اس سے معلوم ہوا کہ بعض صورتوں میں بہن بھی اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ وارث ہے۔

زندگی میں مال دینا اور وفات کے بعد وراثت:۔یہ فرق قرآن و حدیث کی روشنی میں سمجھنا ضروری ہے۔ زندگی میں انسان اپنے مال میں تصرف کرتا ہے، جبکہ وراثت اس مال کا نام ہے جو انسان اپنی وفات کے بعد چھوڑ جائے۔

رسول اللہ ﷺ نے حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کو وصیت کے بارے میں فرمایا:"ایک تہائی، اور ایک تہائی بھی بہت ہے۔ تم اپنے وارثوں کو مالدار چھوڑو، یہ اس سے بہتر ہے کہ انہیں محتاج چھوڑو کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں۔"(صحیح البخاری، صحیح مسلم ) اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان اپنی زندگی میں بھی اپنے مال کے بارے میں ایسا طرز اختیار کرے جس سے اس کے بعد اس کے وارثوں کے حقوق اور ان کی ضروریات متاثر نہ ہوں۔

وارث کے لیے وصیت نہیں:۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"بے شک اللہ نے ہر حق دار کو اس کا حق دے دیا ہے، لہٰذا کسی وارث کے لیے وصیت نہیں۔"(سنن أبو داؤد: سنن ترمذی، سنن ابن ماجہ) یعنی وفات کے بعد اللہ تعالیٰ نے جن لوگوں کے حصے مقرر کردیئے ہیں، کسی وارث کو محروم کرنے کے لیے وصیت نہیں کی جاسکتی۔

وارثوں کو ان کے حصے دو:۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"مقررہ حصے ان کے حقداروں کو دے دو، پھر جو باقی بچے وہ سب سے قریبی مرد رشتہ دار کا ہے۔"(صحیح بخاری، صحیح مسلم: 1615)یہ حدیث وراثت کے معاملے میں بنیادی اصول بیان کرتی ہے کہ پہلے مقررہ حصے ان کے حقداروں تک پہنچائے جائیں۔

اولاد میں عدل:۔ زندگی میں اولاد کو مال دینے کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"اللہ سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان انصاف کرو۔"(صحیح البخاری، صحیح مسلم)حضرت نعمان بن بشیر ؓبیان کرتے ہیں کہ ان کے والد انہیں کوئی عطیہ دینا چاہتے تھے، تو ان کی والدہ نے رسول اللہ ﷺ کو گواہ بنانے کا مطالبہ کیا۔

آپ ﷺ نے فرمایا:"کیا تم نے اپنی تمام اولاد کو اسی طرح عطیہ دیا ہے؟"انہوں نے عرض کیا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا:"اللہ سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان انصاف کرو۔"(صحیح البخاری: ، صحیح مسلم)لہٰذا زندگی میں اولاد کو مال دینے کے معاملے میں نبی کریم ﷺ نے عدل کا حکم دیا ہے۔

وراثت اللہ کی حدود ہیں:۔اللہ تعالیٰ نے وراثت کے احکام بیان کرنے کے بعد فرمایا:"یہ اللہ کی مقرر کردہ حدود ہیں۔"پھر فرمایا:"اور جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا، اللہ اسے ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔"(سورۃ النساء: 13)اور اس کے مقابل فرمایا:"اور جو اللہ اور اس کے رسولﷺ کی نافرمانی کرے اور اس کی حدود سے تجاوز کرے، اللہ اسے آگ میں داخل کرے گا اور اس کے لیے رسوا کن عذاب ہے۔"(سورۃ النساء: 14)لہٰذا بیٹی، بہن یا کسی بھی شرعی وارث کا حق روکنا معمولی خاندانی معاملہ نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود سے متعلق معاملہ ہے۔

زندگی میں اولاد کے ساتھ عدل کا حکم ہے:۔وفات کے بعد ترکہ میں اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حصے نافذ ہوں گے۔ بیٹی کا حصہ اللہ نے مقرر کیا ہے۔بہن کا حصہ اللہ نے مقرر کیا ہے۔بیٹے کا حصہ اللہ نے مقرر کیا ہے۔والدین کے حصے اللہ نے مقرر کیے ہیں۔ لہٰذا جس مال کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حکم دے دیا، وہاں ہماری پسند، رسم و رواج اور خاندانی دباؤ فیصلہ نہیں کرسکتے۔

وراثت کسی کا احسان نہیں، اللہ تعالیٰ کا مقرر کردہ حق ہےاور جو شخص اپنے وارثوں کو ان کا حق دے کر دنیا سے جاتا ہے، اس نے مال نہیں گنوایا، بلکہ اللہ کے حکم کی اطاعت کی۔

اقراء سے مزید