لاہور ایک ایسا شہر ہے جہاں پر یادگار تاریخی عمارات تو ہیں، اس کے ساتھ ساتھ اس شہر میں ماضی کے بڑے دلچسپ کردار کے لوگ بھی گزرے ہیں۔ ایسے لوگ صرف لاہور نہیں کراچی، غرض ہر بڑے اور چھوٹے شہر میں ضرور رہے ہیں۔
اس مرتبہ ہم اندرون شہر میں گھومتے گھومتے ایک ایسی عمارت پر جا پہنچے جس پر بلاقی بنک لکھا ہوا تھا جومکمل پڑھانہیں جاتا۔ بڑی حیرانگی ہوئی کہ پانی والا تالاب کے پاس یہ بنک ایک چار منزلہ خوبصورت حویلی میں ہے اگرچہ اس حویلی کے اب نقش و نگار ختم ہوتے جارہے ہیں مگر اس کے فرش اور یہاں پر ساگوان کی لکڑی کے دروازے اور فرنیچر آج بھی دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ 1929ء میں بننے والی اس حویلی کا فرنیچر آج بھی اس کے مسلمان مکین استعمال کررہے ہیں مگر بے چارے خود جس حال میں ہیں وہ قابل رحم ہے۔ یہ خوبصورت حویلی بھی روایتی خاندانی جھگڑوں کی زد میں ہے،کہیں پر کسی نےدوچار کمروں پر قبضہ کرکے اس کو بند کردیا،کہیں پر کسی نے۔ ہم بڑی دیر اس حویل میں گھومتےرہے۔ اس حویلی میں ایک اسٹرانگ روم بھی ہے جہاں پر بلاقی شاہ پیسے اور سونا رکھا کرتا تھا ، بلاقی شاہ ایک ہندو ساہو کا ر تھا۔ لاہور کے پرانے رہائشی جن کی عمریں 80/90 سال ہیں ،وہ اس ساہو کار سے بخوبی واقف ہیں۔ افسوس اور دکھ کی بات یہ ہے کہ ہم نے ان معمر بزرگوں سے کچھ حاصل نہیں کیا۔ یہ بزرگ ایک زندہ تاریخ اور ماضی کی روایات کے ادارے تھے۔آج ہمارے معاشرے میں جو نفسا نفسی اور مارومار ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ بزرگ جو اچھی روایات کے امین تھے ہم نے ان کو نظر انداز کردیا۔ یہ انسٹی ٹیوشن اب تباہ ہوچکا ہے ویسے بھی اب اس شہر میں کتنے ایسے بزرگ لوگ رہ گئے ہیں۔ پاکستان ٹائمز کے سابق ایڈیٹر حمیدشیخ(جو کسی زمانے میں میرے ہمسائے تھے اور ان کی بیوی جرمن اور پی پی ایل کی سوشل ویلفیئر آفیسر بھی تھیں) ،کے بیٹے مجید شیخ نے اپنی کتاب میں ایک جگہ یہ تحریر کیا کہ بلاقی شاہ کا پوتا لاٹو شاہ اور مظہر علی خاں(معروف صحافی)جب گورنمنٹ کالج لاہور میں زیر تعلیم تھے تو یہ دونوں اپنی کار میں آتے تھے۔ لاٹو شاہ ریشم کے کپڑے پہن کر آتے تھے اور مظہر علی خاں کھدر کے کپڑے پہنا کرتے تھے۔
کہا جاتا ہے کہ بلاقی شاہ لاہور کا امیر ترین شخص تھا جو لوگوں کو سود پر قرضے دیا کرتا تھا اور سود ادا نہ کرنے پر ان کی جائیداد، مکان اور گھر پر قبضہ کرلیا کرتا تھا۔یہ بھی کہاجاتا ہے کہ لاہو ر میں سوائے چند لوگوں کے ہر شخص اس کا مقروض تھا۔ یہاں تک مشہور تھا کہ اس وقت پنجاب کے وزیر اعظم سر خضر حیات ٹوانہ نے بھی ایک کثیر رقم بلاقی شاہ سے ادھار لے رکھی تھی۔ بلاقی شاہ نے لوگوں کو قرضے اور سود کے لین دین کے لئے بلاقی بنک قائم کرلیا تھا۔ شہر میں ہر وہ شخص جس نے بلاقی شاہ سے قرضہ لیا ہوتا تھا وہ اس کے ہاتھوں بڑا پریشان رہتا تھا، کہنے والے کہتے ہیں کہ سوائے لاہور میں میاں امیر الدین(یوسف صلاح الدین کے دادا) کے ہر شخص ہی بلاقی شاہ کامقروض تھا۔ یقینی بات ہے کہ جس نے قرضہ لیا ہوتا ہے وہ تو اس شخص کے مرنے کی دعائیں مانگتا ہے جس نے قرضہ دیا ہوتا ہے کہ ہماری جان چھوٹ جائے۔ ہمارا خیال ہے کہ مقروض لوگوں کی دعائیں کام کرگئیں ۔پاکستان بن گیا اور بلاقی شاہ دہلی چلا گیا۔ وہ مقروض جو پائی پائی کے محتاج تھے بلاقی شاہ کے جاتے ہی جعلی پی ٹی او پر امیر ترین بن گئے۔ اس ملک میں جتنا نقصان سیٹلمنٹ کے ڈیپارٹمنٹ نے پہنچایا ہے کسی اور نہیں۔ جعلی کلیم داخل کرکے ایک ایسی کرپشن کا سلسلہ شروع ہوگیا جو تاحال جاری ہے ۔بلاقی شاہ تو چلا گیا لیکن اپنے پیچھے یہاں ہزاروں بلاقی شاہ پیدا کرگیا۔آج پاکستان میں ہر جگہ ایک بلاقی شاہ بیٹھا ہے۔سب سے زیادہ لاہور، کراچی اور دیگر شہروں میں سود کا کاروبار ایک مخصوص لوگ کررہے ہیں اگر ہم نے ان کا ذکر کیا تو عمران خاں ناراض ہوجائے گا۔ یہ حقیقت ہے کہ سود خوری کا کام ہمارے ملک سے ختم نہیں ہوا بلکہ نجی طور پر قائم ان بلاقی بنکوں سے لوگ قرضے کے عوض اپنے گھروں اور گاڑیوں سے محروم ہوچکے ہیں۔ بلاقی شاہ نے جو حویلی الاٹ کرائی تھی وہ بھی صرف ڈیڑھ سو روپے سود ادا نہ کرنے پر اس کے مالک سے حاصل کرلی تھی یا ہتھیا لی تھی۔ یہ تو تاریخ ہی بتاسکتی ہے، اگر ہم یہ کہیں کہ بلاقی شاہ پرانےوقتوں کا آئی ایم ایف یا ورلڈ بنک تھا تو غلط نہ ہوگا ، جولوگوں کو اپنی کڑی شرائط پر قرضہ دے کر ان کی وقتی ضروریات تو پوری کردیتا تھا،دوسری طرف نیک نامی کماتا کہ اس نے کسی ضرورت مند کی وقت پر مدد لیکن اس کے عوض وہ سینکڑوں اور ہزاروں روپے کے مکانوں، حویلیوں پر قبضہ کرلیتا یا سود کی صورت میںجو اصل رقم سے کئی گنامہنگی ہوتیں ہیں۔ آج ہمارے ساتھ انٹرنیشنل بلاقی شاہ بھی یہی کچھ کررہا ہے ۔یہ بلاقی شاہ کہتا ہے کہ بجلی اور پٹرول کے نرخ بڑھادو، ہم نرخ بڑھا دیتے ہیں، حکمران بظاہر غریب پاکستانیوں کے لئے اس بلاقی شاہ سے قرضہ لیتے ہیں مگر اصل میں وہ بھی بلاقی شاہ کے پارٹنر ہیں جو اپنے ہی ملک کو گروی رکھ کرقرضے لیتے ہیں او ر پھر قرضوں کا غلط استعمال کرکے خود تو امیر سے امیر تر ہوتے جارہے ہیں اور عوام قرضے کے بوجھ تلے دبے غریب سے غریب تر۔
بلاقی شاہ بھی کسی کو قرضہ دینے کے بعد اسے اتنا مجبور کردیتا تھا کہ وہ اپنا مکان یا حویلی اس کے سپرد کردیتے ،یہ مکان اور حویلیاں ہزاروں کی مالیت کی ہوتی جن کا وہ مالک بن بیٹھتا تھا۔ آج بھی اس شہر لاہور میں کچھ لوگ موجود ہیں جن کے بڑے بوڑھوں نے بلاقی شاہ سے قرضہ لیا تھا۔ ایک زمانے میں لاہور میں ساہوکار بنک ریلوے سٹیشن کے پاس بھی ہوتا تھا۔
آئیے اب کچھ ذکر بلاقی شاہ کی خوبصورت حویلی کا کرلیں۔ یہ حویلی اگر مکینوں کے جھگڑوں سے آزاد ہوجائے تو اس کے نقش و نگار بحال کرکے انتہائی خوبصورت ریسٹورنٹ میں تبدیل کرکے لاکھوں روپے سالانہ کمائے جاسکتے ہیں مگر اس کے مکین لڑتے لڑتے مرچکے ہیں ایک نسل سے دوسری نسل میں جھگڑے چلتے آرہے ہیں مگر ملا کسی کو کچھ نہیں۔قیام پاکستان کے بعد شیخ عطا محمد (مرحوم) اس خوبصورت حویلی کے مالک بنے مگر بدقسمتی سے ان کی اولاد آپس میں اتفاق نہ رکھ سکی۔ کہا جاتا ہے کہ اس حویلی میں جب کبھی کوئی شادی ہوتی تھی تو حویلی کو اس قدر سجایا جاتا کہ دوسروں شہروں کے لوگ اس کو جوق در جوق دیکھنے آتے۔ اس کے دروازوں پر لگے خوبصورت اور رنگ برنگے شیشے اب بھی بڑے دلفریب دکھائی دیتے ہیں۔ اس حویلی میں آج بھی 1929ء کا ڈی سی کرنٹ پر چلنے والا پنکھا چل رہا ہے جس کو اے سی کرنٹ پر منتقل کیا گیا ہے ۔ اس حویلی کی چھتیں گررہی ہیں ،لکڑی کی چھتیں دیکھنے لائق ہیں۔ پچاس برس تک اس تاریخی عمارت میں پریکٹس کرنے والے ڈاکٹر نے بھی اس خوبصورت عمارت کے لئے کچھ نہ کیا۔ آج اس کے مکین صرف کمروں تک محدود ہوچکے ہیں کاش ورلڈ سٹی والے یا محکمہ آثار قدیمہ والے اس تاریخی حویلی کو محفوظ کرسکیں۔حکومت کہتی ہے کہ ہم نے پٹواری سسٹم کو درست کردیا مگر افسوس کہ پورا پٹواری سسٹم بلاقی شاہوں سے بھرا پڑا ہے۔ وہ آج بھی لوگوں کے جائز کاموں کے بدلے جو تقاضے کرتے ہیں کہ کیا ان کا کردار کسی بلاقی شاہ سے مختلف ہے۔
آخر میں ہم پروفیسر ڈاکٹر نوید اشرف جو کہ جناح ہسپتال کے شعبہ نیوروکے سربراہ ہیں ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے بابا علائوالدین کی مالی مدد کی اور بے شمار دعائیں حاصل کیں۔